گزشتہ دنوںآرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کور کمانڈرز اجلاس کے بعد آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے جاری آپریشن کے نتائج حاصل کرنے اور ملک میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ حکومت انتظامی امور کو بہتر کرے۔اس چھوٹی سے خبر نے سیاسی ایوانوں میں جہاں ہلچل مچادی ہے ۔ یہ بحث اب سوشل میڈیا پر بھی زور پکڑتی جارہی ہے کہ اس بیان کا مقصد کیا ہے؟ اگر دیکھاجائے تو موجودہ دور حکومت میں جتنی
تقریباً 13سال بعد ایک خبر آئی ہے کہ حکومت بلوچستان دو ہزار ایکڑ زائد زمین چینی کمپنی کے حوالے کررہی ہے تاکہ وہاں پر چاہ بہار کی طرز پر آزاد تجارتی علاقہ بنایا جائے ۔ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے اس میں حکومت پاکستان کا کوئی کارنامہ نہیں یہ زمین حکومت بلوچستان چینی کمپنی کو تعمیرات اور کارخانوں کے قیام کے لئے دے رہی ہے ۔ کارخانے اور تجارتی ادارے ریگستان میں نہیں بنتے ، اس کیلئے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس میں پانی ‘ بجلی ‘ سڑکیں اور دوسری تمام ضروریات زندگی کارخانوں میں کام
کوئٹہ میں گزشتہ روز معمولی بارشیں ہوئیں اور شہر کی پوری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ۔ سب سے بڑا عذاب کیسکو نے عوام پر ڈالا اور بجلی کی تسلسل کے ساتھ آنکھ مچولی چلتی رہی۔ کبھی بجلی آرہی ہے اور کبھی بجلی جارہی ہے اس روز صرف پندرہ ملی میٹر کوئٹہ میں بارش ہوئی تقریباً نصف انچ کے قریب، بجلی نے شہر کے ایک بڑے حصے میں کام کرنا چھوڑ دیا ۔ کیسکو کے کارکنوں کو ویسے کام نہ کرنے کا بہانہ چائیے بارش قدرت کی طرف سے ایک نعمت ہے جوخدا نے ان کو دیا
گزشتہ روز صوبائی اسمبلی میں ایک قرار داد پاس ہوئی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ ہرنائی اور بلوچستان کے دوسرے شہروں میں قدرتی گیس فراہم کی جائے ۔قرارداد متفقہ طورپر پاس ہوگئی ۔ ہرنائی وزیر اطلاعات اور پختونخوا کے رہنما زیارتوال کا حلقہ انتخاب ہے اور اسمبلی میں اس کے ساتھیوں نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا بلکہ اس کو متفقہ رائے سے منظور کر لیا ۔ اس میں ایک ترمیم کی گئی جس میں دیگر شہروں کا بھی ذکر کیا گیا بہت سالوں بعد صوبائی اسمبلی کے اراکین کو یہ خیال آیا
گوادر ایک پر امن شہر ہے اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ ایک صدی یعنی پورے ایک سال تک گوادر میں کوئی ایک بھی جرم سرزد نہیں ہوا لیکن جس دن پاکستان کی پولیس کو امن و امان کی ذمہ داری دی گئی اسی دن پہلی چوری وہ بھی سائیکل کی چوری کا مقدمہ درج ہوا ۔ ہم اخبار نویس وہاں موجود تھے جب امن و امان پولیس کو سونپ دیا گیا تو اسی دن چوری کی واردات ہوئی ۔مقامی ماہی گیر اوربلوچ دانشور یہ کہنے لگے کہ پولیس چوروں کو اپنے ساتھ لائی ہے۔ یہ بات بھی طے ہے کہ دنیا کے کسی بھی شہر میں منظم جرائم صرف پولیس کی سرپرستی میں ہو سکتے ہیں پولیس یا حکومتی اہلکار
وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے ان خدشات کی نشاندہی کی ہے کہ بلوچستان کا ایک وسیع علاقہ بنجر ہو جائے گا اگر وفاقی حکومت نے ان علاقوں میں پانی کے وسائل کو ترقی نہیں دی ۔ ان خدشات کا اظہار واپڈا کے چئیرمین کے ساتھ ایک ملاقات میں کی گئی ۔ واپڈا کے چئیرمین کوئٹہ تشریف لائے تھے اورانہوں نے کیسکو افسران کے ساتھ مل کر وزیراعلیٰ سے بجلی اور پانی کے مسائل پر بات چیت کی ۔ اس دوران وزیراعلیٰ نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ لورالائی سے لے کر خضدار تک پورا علاقہ بنجر زمین بن جائے گا
پورے پاکستان میں عوامی رائے عامہ اس بات پر متفق ہے کہ افغان مہاجرین اور بالخصوص افغان تارکین وطن کو بلا تاخیر اپنے وطن واپس بھیجا جائے ۔ اس کی دو اہم ترین وجوہات ہیں سب سے پہلے وہ ملک کے لئے سیکورٹی رسک ثابت ہوچکے ہیں اور ہر دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات میں ان کا ہاتھ نظر آتا ہے اور ساتھ ساتھ غیر قانونی تارکین وطن بڑی تعداد میں قانون شکنی اور بڑھتے ہوئے جرائم میں ملوث ہیں جس سے عام پاکستانی تنگ آچکے ہیں۔ دوسری وجہ پاکستان کی معاشی صورت ہے
جب سے برطانیہ بلوچستان پر حملہ آور ہوا اور بلوچستان پر فوجی قبضہ ہوگیا ۔ اس دن کے بعد سے بلوچ مزاحمت کا آغاز ہوگیا ۔ برطانیہ براہ راست بلوچستان پرحملہ آور ہوا اور اس پر قابض ہوگیا چونکہ برطانیہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی قوت تھی ا س لئے پسماندہ بلوچستان اور اس کے چند بندوق بردار سپاہیوں کو شکست دینا کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔ برطانیہ کو بلوچ عوام پر غصہ اس وقت آیا جب پہلی افغان جنگ کے بعد برطانوی تمام سپاہیوں پر راتوں رات حملے ہوئے اور سب کے سب ہلاک ہوگئے ۔
پاکستان بھر میں پولیس کے مظالم اور تشدد کے چرچے مشہور ہیں ۔ خصوصاً پنجاب پولیس سب سے آگے ہے آئے دن پنجاب پولیس کے کارنامے ٹی وی اسکرین کی زینت بنتے رہتے ہیں، پولیس ہے کہ حکمرانوں کے قابو سے باہر ہے، قابو میں بھی کیوں آئے کیونکہ حکمران اپنی حکمرانی کو طول دینے کے لئے پولیس کا بے شرمی سے استعمال کرتے ہیں ۔ بہت زیادہ پڑھے لکھے اور نیک افسران پولیس فورس میں موجود ہیں مگر پولیس میں ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ حکمرانوں کو کرپٹ اور بے ایمان پولیس افسران زیادہ پسند ہیں کیونکہ وہ ہر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس لئے ان کو پولیس سروس میں ترجیح دی جاتی ہے
لالہ افضل خان بلا شبہہ اس ملک کی ایک عظیم شخصیت تھے ملک کی شورش زدہ سیاست میں ا نہوں نے ہمیشہ مثبت خدمات سرانجام دیں ۔ وہ ایک مقبول رہنما تھے اور حقیقی معنوں میں لوگوں کے خادم تھے ان کی انفرادیت یہ تھی کہ وہ سیاسی کارکن بالخصوص مخالف پارٹی کے کارکنوں کا زیادہ عزت اور احترام کرتے تھے کبھی کسی بھی شخص سے ان کو تند اور تیز آواز میں بات کرتے ہوئے نہیں سنا گیا ۔ حکمران ہمیشہ افضل خان کی مقبولیت سے خائف تھے اسی وجہ سے ان کو بھی حیدرآباد سازش کیس کا ملزم بنایا گیا ۔