حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد ملک میں آزاد میڈیا کے خلاف ایک غیر اعلانیہ جنگ شروع ہوئی ہے ۔ حامد میر پر قاتلانہ حملے کی رپورٹنگ میں جیو ٹی وی نے حدود پھلانگ دی تھیں اور قیاس آرائی اور الزامات کی بنیاد پر فوج اور ڈی جی آئی ایس آئی کو نشانہ بنایا گیا تھا جس پر سماج کا ایک مضبوط طبقہ بہت زیادہ ناراض نظر آتا ہے
وزیراعظم کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا جس میں ملک کے اندر مجموعی سیکورٹی کی صورت حال کے علاوہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مضبوط طرز عمل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا
وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اگلے تین سالوں میں بلوچستان کے تمام اہم شہروں کو قدرتی گیس پہنچائی جائے گی ۔ نواز شریف کو یہ شدید احساس ہے
سریاب کے مکین اس شہر کے قدیم ترین باشندے ہیں بلکہ اس شہر کو آبادہی ان لوگوں نے کیا تھا ۔آج بھی کوئٹہ شہر کی سب سے بڑی آبادی ہے جو تمام سہولیات سے محروم ہے ۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ بعض دینی مدارس بیرونی ممالک سے امداد لے رہے ہیں یہ وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے ان الزامات کی تصدیق ہے کہ بعض مدارس بیرونی ممالک سے امداد لے رہے ہیں
تقریباً پاکستان کی اہم ترین سیاسی پارٹیوں ‘ انسانی حقوق کے اداروں اورسول سوسائٹی نے یکسر تحفظ پاکستان بل کی زبردست مخالفت کی ۔ قومی اسمبلی میں حکومت نے اپنی ظالم اکثریت کا سہارا لیتے ہوئے اس کو بل ڈوز کیا
بلوچستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو سالوں سے نظر انداز کیاگیا ہے ۔ حکومت بس مالکان کے رحم و کرم پر عوام الناس کو چھوڑ دیا ہے ۔ وہ جو مرضی ہے مسافروں سے سلوک کریں۔
ایرانی مجلس کے سرکاری بنچوں کے ارکان اور بعض ایرانی اہلکار اور وزراء جان بوجھ کر پاکستان اور ایران کشیدگی کو نہ صرف برقرار رکھے ہوئے ہیں بلکہ اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
آئے دن کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں جس کا واضح مقصد عوام کو تکلیف پہنچانا اور کاروبار زندگی کو مفلوج بنانا ہوتاہے ۔
حالیہ حکومت کی توجہ صحت اور تعلیم کے علاوہ زراعت کی ترقی پر بھی ہے ۔ زراعت بلوچستان کی معیشت کا شہہ رگ ہے ۔ تقریباً اسی فیصد یا اس سے زائد آبادی کا انحصار زراعت اور زرعی پیداوار پر ہے ۔