بلوچستان میں موجود مسائل سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،پسماندگی اور محرومیوں کے باعث صوبہ ترقی کی دوڑ میں دیگر صوبوں سے بہت پیچھے رہ گیا ہے جس کی بڑی وجہ بیڈ گورننس اور کرپشن کے ساتھ حکومتوں کی مدت کا پورا نہ ہونا بھی ہے حالانکہ بلوچستان وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور اب بھی بلوچستان میں میگا منصوبے چل رہے ہیں جن سے بہت معمولی حد تک مقامی لوگوں کو بنیادی سہولیات سمیت روزگار فراہم کیا جارہا ہے، نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم اور اسکالر شپ بھی دیا جارہا ہے مگر اب بھی بہت کچھ کرنا ہے جس میں صوبے میں بہترین انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، پانی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہے جس کے لیے ایک خطیر رقم کی ضرورت ہے اس میں وفاق کی خصوصی دلچسپی ضروری ہے۔
گزشتہ روز سے کوئٹہ کے قریب سنجدی ڈیگاری میں ایک خاتون اور مرد کو مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کرکے قتل کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد اس واقعے پر عوامی ردعمل انتہائی شدید صورت میںسامنے آیاجہاں اس سفاکانہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
ملکی ترقی میں زراعت کا شعبہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان ایک زرعی ملک ہے ماضی میں ملکی پیداواری صلاحیت کی شرح بہت زیادہ تھی غذائی اجناس کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے کوملا مگر گزشتہ چند برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلی، پانی، بجلی کی قلت، کسانوں کوسہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے زرعی شعبہ بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔
ملک میں عام لوگوں کا مسئلہ معاش کا ہے، مہنگائی ،بیروزگاری کی بڑھتی شرح کے باعث موجودہ حالات سے لوگ بہت زیادہ پریشان ہیں وہ ان سے چھٹکارا اور ریلیف چاہتے ہیں۔
وزیر اعظم نے ہدایات جاری کی ہیں کہ ٹیکس گوشوارے کو آسان اور اردو میں ہونا چاہیے ، گوشوارے بھرنے کے عمل میں مدد کے لیے ہیلپ لائن قائم کی جائے، ڈیجیٹل-انوائسنگ کا بھی اردو میں اجرا کیا جائے، ٹیکس اصلاحات میں عام آدمی کی سہولت پر توجہ مرکوز کی جائے۔