کراچی: وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے دعوؤں کے باوجود شہر قائد میں کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جس کا آغاز بے گناہ کے خون سے نہ ہو، آج بھی شہر میں 7 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس کے بعد آج مختلف واقعات میں اپنی جانیں گنوانے والوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
کراچی: وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے دعوؤں کے باوجود شہر قائد میں کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جس کا آغاز بے گناہ کے خون سے نہ ہو، آج بھی شہر میں 7 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس کے بعد آج مختلف واقعات میں اپنی جانیں گنوانے والوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
کراچی: متحدہ قومی موومنٹ نے کل اسلام آباد میں وفاقی شیڈو بجٹ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
اسلام آباد: عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بیرون ملک سفرکرنے والے پاکستانی مسافروں پر پولیو سرٹیفیکیٹ پرعملدرآمد شروع ہوگیا ہے۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
گجرانوالہ: وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ترقیاتی کاموں کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا ایجنڈا سمجھ سے بالاتر ہے، ان سے درخواست ہے کہ خدا کے واسطے ملک کو چلنے دیں۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
لندن: پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے دور حکومت میں شریف خاندان کے اثاثے دگنے ہو جاتے ہیں۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
کراچی: ڈاکٹرز نے ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف کی وجہ سے سابق صدر پرویز مشرف کو چہل قدمی سے بھی منع کردیا ہے۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
پشاور: جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کا عمل آپریشن کا جواز پیدا کرنے کے لیے تھا لیکن ہم جبر کی بنیاد پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں ہونے دیں گے۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو لاہور ہائی کورٹ کے سامنے بھائیوں کی جانب سے اینٹیں مار کر قتل کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف کارروائی کرکے رپورٹ شام تک جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
لاہور: ملک میں بجلی کا شارٹ فال 3ہزار 700 میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے جس کی وجہ سے شدید گرمی اور غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ میں عوام کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔
روزنامہ آزادی | وقتِ اشاعت :
اسلام آباد: منگل کو بھی ایک جج کے خلاف جاری الزامات کا سلسلہ سپریم کورٹ کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ جسٹس جواد خواجہ جو اس رسواکن مہم کا مرکز تھے، انہوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اس بات کا پتہ لگائیں کہ کون عدلیہ جیسے ایک اہم قومی ادارے کی ساکھ پر حملہ کرنے اور اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔