گیند پنجاب کے کورٹ میں

| وقتِ اشاعت :  


بلوچ یکجہتی کمیٹی کا قافلہ اسلام آباد یاترا کے بعد خالی ہاتھ واپس بلوچستان لوٹ آیا۔ تربت سے اسلام آباد تک بلوچ لانگ مارچ نے ملک خصوصاً بلوچستان کی سیاسی اور آئینی ڈھانچے کی بنیاد ہلاکر رکھ دی ہے۔



”اسلام آباد” بلوچ کیلئے نو گو ایریا

| وقتِ اشاعت :  


ریاست کی تخت، اسلام آباد، بلوچ قوم کے لئے نو گوایریا بن گیا۔ بلوچ لانگ مارچ کے لواحقین کو ریاست کی جانب سے انصاف ملنے کی بجائے ریاستی ہتھکنڈوں اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث بلوچ مائیں اور بہنیں اسلام آباد سے نفرت کا پیغام لے کر بلوچستان کے لئے روانہ ہورہی ہیں۔



نہتی ریاست

| وقتِ اشاعت :  


بلوچ خواتین اور بچیوں کی قوت کے سامنے تمام ریاستی طاقت شکست خوردہ ہوگئی۔



سیاسی خودکشی

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں مین اسٹریم پولیٹکس کرنے والی جماعتیں آہستہ آہستہ اپنی اپنی سیاسی افادیت اور اہمیت کھو رہی ہیں۔ ان کا پولیٹیکل اسٹینڈ نہ ہونے کے برابر ہے۔



بلوچ یکجہتی کمیٹی کا لانگ مارچ اور ریاست

| وقتِ اشاعت :  


ریاست جان بوجھ کر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لانگ مارچ کو طول دے کر دنیا کو بتانا چاہتا ہے کہ بلوچ آزادی نہیں بلکہ مملکتِ خداد سے انصاف چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں پسِ پردہ بلوچ جلاوطن رہنمائوں نے راہیں ہموار کیں تو ریاست نے یہ چال چل دی۔ ریاستی اداروں نے بالاچ بلوچ کو شہید کرکے بلوچ قوم کے جذبات کو ابھارا۔ بلوچ کو اس قدر مجبور کیا کہ وہ تربت تا کوئٹہ سب سے پْر ہجوم لانگ مارچ کیا



لیاری ووٹ کسے اور کیوں دے؟

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان جیسا ملک کرہ ارض پر شاید ہی کہیں ہو جہاں مسائل میں گرے لوگوں کو اس حبس زدہ ماحول میں پریشانیوں اور مشکلات کے باوجود زندہ رہنے کے گْر آتے ہوں اور پھر اس پریشان حال پاکستان میں بھی ایک علاقہ ایسا ہے جہاں مسائل کے پہاڑوں سے لینڈ سلائیڈنگ کا سلسلہ جاری و ساری ہے اوریہ لیاری ہے جو دو دہائیوں تک خوف و دہشت کے دلدل میں دھنسے رہنے کے بعد نکل کر بھی مسائلستان ہی نظر آتا ہے



“بلوچستان میں میکسم گورکی کی “ماں

| وقتِ اشاعت :  


“ماں” ایک مشہور انقلابی ناول ہے جو روس کے مشہور انقلابی شاعر، ناول نگار اور افسانہ نگار میکسم گورکی نے 1906ء میں لکھاہے جس کی کہانی ایک انقلابی فیکٹری مزدور کے گرد گھومتی ہے۔