|

وقتِ اشاعت :   August 16 – 2015

کوئٹہ: بلوچستان کے جلاوطن بلوچ رہنماء خان آف قلات کو منانے کیلئے قبائلی سطح پر کوششوں کا آغاز ہوگیا چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری کی قبائلی حوالے سے خان آف قلات کو وطن واپس لانے کی کوشش کے حوالے سے لندن میں ملاقات ،دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی وقبائلی معاملات پر بات چیت ہوئی تفصیلات کے مطابق عرصہ دراز سے جلاوطن بلوچ رہنما ء خان آف قلات کو وطن واپس لانے کیلئے چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے لندن میں ملاقات کی چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے قبائلی حیثیت سے خان آف قلات آغا سلیمان داؤد سے ملاقات کی اور صوبے کے سیاسی و قبائلی معاملات پر بات چیت کی چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا کہ خان آف قلات کی وطن واپسی سے بلوچستان کے حالات پر مثبت اثرات پڑیں گے اور میری کوشش ہے کہ جلاوطن بلوچ رہنماؤں کو قائل کرکے قومی دھارے میں شامل کروں دوسری جانب خان آف قلات کی جانب سے بھی چیف آف جھالاوان کی کاوشوں کو سراہا گیا ہے اور یہ عندیہ دیا گیا کہ چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ زہری صوبہ کے ایک معتبر اور قبائلی رہنماء ہیں سیاسی حوالے سے بھی ان کی اہمیت سے بھی انکار نہیں حکومتی سطح پر اگر کوئی نواب ثناء اللہ زہری کو اہم ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں تو بلوچستان کے حالات میں مددگار ثابت ہونگے اور امید کرتے ہیں کہ بلوچستان کے آئندہ بننے والے سیٹ اپ میں نواب ثناء اللہ زہری صوبہ میں بلوچ عوام کیساتھ ہونیوالی زیادتیوں کا خاتمہ کریں گے دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل ملاقات ہوئی جس پر مختلف امور پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا اگلا دور 36 گھنٹوں میں متوقع ہے۔ خان آف قلات آغا سلیمان داؤد کل لندن میں نواب ثناء اللہ خان زہری کی رہائش گاہ پر جاکر ان کے بیٹے، بھتیجے اور بھائی کی شہادت کے حوالے سے فاتحہ خوانی بھی کریں گے۔دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر سینئر صوبائی وزیر و چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے قبائلی عمائدین کو آگے آنا پڑیگا ۔ خان آف قلات سلمان داؤد احمد زئی کی بلوچستان میں کمی کو محسوس کرتے ہیں ۔وہ قبائلی حیثیت میں ان کو منانے اور اپنے ساتھ واپس لے جانے کیلئے لندن آئے ہیں انشاء اللہ وہ کامیاب لوٹیں گے ۔تاکہ بلوچستان میں قیام امن کیلئے مدد مل سکے ۔بد قسمتی سے بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے بعض لوگوں نے اپنے مفادات کے حصول کا ذریعہ بنایاہے ۔کسی کے آنے سے ان کی شخصیت میں کمی نہیں ہوسکتی تاہم خوشی بے انتہا ہوگی۔یہ بات انہوں نے لندن میں مسلم لیگ ن کے ایک وفد سے بات چیت کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل خان آف قلات کی واپسی کیلئے حکومتی سطح پر کوششیں کار آمد ثابت نہیں ہوسکے ۔خان آف قلات بلوچستان کے ایک بڑی ہستی ہے ۔شروع دن سے ان کی صوبے میں کمی محسوس کررہے ہیں ۔ہر فورم پر ان کی واپسی کو یقینی بنانے کی بات کی ہے ۔جوکہ اب ان کو لگ رہا ہے ان کی کاوشیں رنگ لارہی ہے ۔خان آف قلات اور دیگر کی واپسی میں وہ صدگے دل سے سنجیدہ ہے ۔وہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں مزید حالات خراب ہو ۔ بد قسمتی سے امن وامان کیلئے ایسے لوگوں کا انتخاب کیا گیا جس کی اپنی کی شخصیت بیرون ملک موجود بلوچوں کی بلوچستان میں پر امن طریقے سے واپسی اور قومی دھارے میں شامل ہونے سے خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔لیکن ان کی شخصیت پر اس طرح کی کوئی بات اثر نہیں کرتی ۔انہوں نے کہا کہ وہ حکومتی نمائندے نہیں بلکہ اپنے قبائلی شخصیت کی وجہ سے خان آف قلات سے ملاقات کرنے آئے ہیں ان کی تحفظات دور کرینگے ۔اور انشاء اللہ ان کو اس بات پر آمادہ کرینگے کہ وہ ہمارے ساتھ بلوچستان چلنے پر راضی ہوجائے ۔جس میں خان آف قلات کی قبائلی شخصیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی پروٹوکول کا خیال رکھ کر ایک جرگے کی صورت میں ان کو بلوچستان لے جائینگے ۔بلوچستان کا مسئلہ خالصتاً اس وقت سے گھمبیر ہوگیا ہے ۔جب سے خان آف قلات جیسے اہم شخصیات نے صوبے کی سیاست کرنا چھوڑ دی ہے ۔جس کی وجہ سے سیاست سے نا بلد لوگوں نے سیاسی معاملات میں کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے ۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صوبے میں ایسی شخصیات کی کمی واقع ہوئی جن کی بات سن کر دو لوگ آپس کے اختلاف اور رنجشوں کو ختم کرنے پر رضا مند ہوجاتے تھے بلوچستان چونکہ ایک قبائلی معاشرہ ہے اور اس کے اپنے اقدار ہے ہمیشہ سے وہاں کے قبائلی عمائدین کا امن وامان اور بھائی چارے کے فروغ کیلئے ایک بنیادی کردار رہا ہے اگر ہم بلوچستان کی حالات کو قیام پاکستان کی دنوں سے دیکھتے ہیں کہ قبائلی عمائدین اور جرگوں کی اہمیت ہوتی تھی جن کے فیصلوں کی وجہ سے بلوچستان امن کا گہوارہ بنایاتھا ۔ کوئی بھی ایسا قبیلہ نہیں جو ان کی جرگوں کی حکم عدولی کرتا انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ہمیں قبائلی روایات سے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔جس کا خمیزہ ہم اس وقت بھگت رہے ہیں ۔بلوچستان کو مزید گشت و خون کرنے والوں کی رحم کرم پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں ۔وہ یہاں سے واپسی پر بلوچستان کے سرکردہ عمائدین کو جمع کرکے اس بات پر رضا مند کرینگے کہ خان آف قلات اور دیگر قبائلی عمائدین شرکت کے بغیر امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں کیا جاسکتا ۔اور بہت جلد بلوچستان کے عوام کو خوشخبری دینگے ۔امن ہم سب کی ضرورت بن گئی اس وقت بین الاقوامی ایجنسیوں نے بلوچستان کو اپنے مفادات کی جنگ کا میدان بنا لیا ہے ۔جس سے صوبے کی عوام اور معیشت کو سخت ترین مشکلات کا شکار کردیا ہے اور ان ایجنسیوں کی کوشش ہے کہ پر امن لوگوں کو بندوق کی کاروبار ان ہاتھ تھمایا جائے ۔لیکن ہم کسی بھی غیر ملکی کو یہ اجازت ہر گز نہیں دینگے کہ ہمارے صوبے کو اپنے مفادات کیلئے انتشار کا شکار کردے کیونکہ اس وقت صوبے کے حوالے سے سیاسی و فوجی قیادت دونوں ایک پیج پر ہے ۔جس کے اچھے اثرات ہم صوبے دیکھ رہے ہیں ۔