سعودی عرب میں مسلمانوں کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی اجتماع کے دوران بھگدڑ مچنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر گئی ہے
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے 717 افراد میں مختلف قومیتوں کے لوگ شامل ہیں۔ سعودی سول ڈیفنس کے حکام نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں جمعرات کو پیش آنے والے اس حادثے میں کم ازکم 863 حاجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق بھی کی ہے۔ یہ بھگدڑ منیٰ کے مقام پر مچی۔ منیٰ مکہ سے پانچ کلومیٹر دور واقع ہے جہاں زائرین حج کے ایک رکن رمی جمرات کی دائیگی کے لیے جاتے ہیں۔ سعودی عرب کے محکمۂ شہری دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب حاجی جمرات پر کنکر پھینکنے کے لیے شارع نمبر 204 اور 223 کے سنگم پر موجود تھے۔ ترجمان کے مطابق حاجیوں کی بڑی تعداد کی ایک مقام پر موجودگی کی وجہ سے بھگدڑ مچی جس کے نتیجے میں بہت سے حاجی زمین پر گر گئے اور کچلے جانے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ سعودی حکام نے تاحال ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے تاہم منیٰ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار الا اسوفو کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں نائجیریا سے تعلق رکھنے والے حاجیوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق سعودی عرب میں پاکستانی سفیر منصور الحق نے کہا ہے کہ اس سانحے میں فی الحال کسی پاکستانی حاجی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے اور اس سلسلے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
یہ رواں برس سعودی عرب میں حاجیوں کی آمد کے بعد پیش آنے والا دوسرا بڑا حادثہ ہے