کوئٹہ: صوبائی حکومت بلوچستان کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں 2250ترقیاتی اسکیمات پر کام جاری ہیں دہشتگردی اور دیگر جرائم کے واقعات میں واضح کمی ہوئی ہے ڈیڑھ مہینے کے دوران حساس اداروں کی نشاندہی پر 335آپریشن کیے گئے ہیں مزید کامیابی کیلئے حکومت نے مربوط پالیسی مرتب دی گئی ہے کوئٹہ شہر میں پانی کے بحران کی خاتمے کیلئے منگی ڈیم اور بولان سے پانی لانے کیلئے پالیسی وضع کی گئی ہے جبکہ بلوچستان بھر میں 20ڈیمز بنائے جائینگے وزیراعلیٰ بلوچستان نے تمام اسکیمات کو مکمل اور جون سے پہلے ترقیاتی حوالوں سے فنڈز جاری کرنے کیلئے ایم پی ایز کو اسکیمات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے پرامن بلوچستان کیلئے حکومت کی پالیسی کے مطابق مذاکرات کو جاری رکھے گی تاہم اسے دہشتگردوں پر کڑ ی نظر رکھیں گے جو فراری کے نام پر رقم وصول کرنے کے باوجود ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں ۔یہ بات انہوں نے بدھ کی شام کو صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایڈیشنل سیکرٹری منصوبہ بندی و تر قیات نصیب اللہ بازئی کے ہمراہ کابینہ اجلاس کی بریفنگ دیتے ہوئے کہی‘ اس موقع پر ڈی جی پی آر کامران اسد بھی موجود تھے‘ انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کی صدارت میں کابینہ کا پہلا اور اہم اجلاس ہوا جس میں ترقیاتی اور امن وامان کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور یہ معلوم کیاگیا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کہاں ترقیاتی کام ہوئے اور کہاں نہیں انہوں نے کہاکہ کابینہ میں امن وامان کے بارے میں بھی مکمل جائزہ لیاگیا اور یہ تصدیق کی گئی کہ دہشتگردی کے بارے میں سیکورٹی فورسز نے جو کامیابی حاصل کی وہ قابل ستائش ہے جبکہ کابینہ نے اس امر پر بھی اعتماد کیاگیا کہ کوئٹہ شہر میں کار اور موٹر سائیکل چوری کے واقعات میں 97فیصد ختم کمی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ 2015اور2016کے کل 2250اسکیمات ہیں جن میں1310نئی اور940جاری اسکیمات ہیں انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں بعض اوقات بروقت فنڈز جاری نہ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں لیکن وزیراعلیٰ نے بڑی سختی کے ساتھ ہدایت جاری کی ہے کہ جون سے پہلے تمام پروجیکٹ کو مکمل اور فنڈز ریلیز کیا جائے انہوں نے کہاکہ ان اسکیمات کے علاوہ104او راسکیمات بھی ہیں جن کو 70فیصد اسکیمات ایک مہینے کے اندر مکمل کرینگے انہوں نے کہاکہ امن وامان کے حوالے سے گزشتہ روز ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اور بدھ کے روز کابینہ کا اجلاس جن کے اثرات جلد بلوچستان کے عوام کو ملیں گے انہوں نے کہاکہ پرامن بلوچستان کے بارے میں فراریوں کے متعلق کچھ شکایات موصول ہوئے ہیں اور حکومت اس سلسلے میں پالیسی پر نظر ثانی کرینگے اور ان لوگوں کومراعات نہیں دینگے جو فراریوں کے نام پر رقم وصول کرنے کے باوجود حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں اغواء برائے تاؤان کے وارداتوں میں 98فیصد جبکہ قومی شاہراہوں پر راہزنی کے واقعات میں97فیصد کمی ہوئی ہیں مزید بہتری لانے کیلئے صوبائی حکومت بھرپور کوشش کررہی ہیں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر نام کمانے والے عمران خان کو صوبائی حکومت نے شاباش دی اور یہ فیصلہ کیا کہ جلد وزیراعلیٰ بلوچستان ان کے اعزاز میں چائے پارٹی دی جائیگی انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ مسلم باغ میں جو واقعہ رونما ہوا وہ قابل افسوس حکومت اس سلسلے میں کمیٹی قائم کردی ہے رپورٹ آنے کے بعد فیصلہ کرینگے کہ ایف آئی آر کی ضرورت ہے کہ نہیں لیکن صوبائی حکومت یکطرفہ کارروائی پر کسی بھی صورت یقین نہیں رکھتے ہیں کابینہ میں توسیع اور مزید ایڈوائز لئے جانے کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جلد ہی مرحلہ وار کام کیا جائے گا۔ایڈیشنل سیکرٹری نصیب اللہ بازئی نے کہاکہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح تعلیم‘صحت ‘زراعت اور دیگر ہے جبکہ کوئٹہ میں پانی کا جو مسئلہ ہے ان کے حل کیلئے منگی ڈیم اور بولان سے پانی لانے کیلئے پالیسی بھی بنائی گئی ہے اور اس سلسلے میں فنڈز بھی مختص کی ہے انہوں نے کہاکہ رقم کو واپس کرنے سے پہلے تمام اسکیمات کو جون سے قبل مکمل کی جائیگی۔
گمشدہ افراد کی تعداد130ہے ،لاپتہ افراد میں سے اکثر جرائم پیشہ اور اشتہاری ہیں، نواب زہری
![]()
وقتِ اشاعت : February 18 – 2016
کوئٹہ: صوبائی حکومت بلوچستان کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں 2250ترقیاتی اسکیمات پر کام جاری ہیں دہشتگردی اور دیگر جرائم کے واقعات میں واضح کمی ہوئی ہے ڈیڑھ مہینے کے دوران حساس اداروں کی نشاندہی پر 335آپریشن کیے گئے ہیں مزید کامیابی کیلئے حکومت نے مربوط پالیسی مرتب دی گئی ہے کوئٹہ شہر میں پانی کے بحران کی خاتمے کیلئے منگی ڈیم اور بولان سے پانی لانے کیلئے پالیسی وضع کی گئی ہے جبکہ بلوچستان بھر میں 20ڈیمز بنائے جائینگے وزیراعلیٰ بلوچستان نے تمام اسکیمات کو مکمل اور جون سے پہلے ترقیاتی حوالوں سے فنڈز جاری کرنے کیلئے ایم پی ایز کو اسکیمات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے پرامن بلوچستان کیلئے حکومت کی پالیسی کے مطابق مذاکرات کو جاری رکھے گی تاہم اسے دہشتگردوں پر کڑ ی نظر رکھیں گے جو فراری کے نام پر رقم وصول کرنے کے باوجود ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں ۔یہ بات انہوں نے بدھ کی شام کو صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایڈیشنل سیکرٹری منصوبہ بندی و تر قیات نصیب اللہ بازئی کے ہمراہ کابینہ اجلاس کی بریفنگ دیتے ہوئے کہی‘ اس موقع پر ڈی جی پی آر کامران اسد بھی موجود تھے‘ انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کی صدارت میں کابینہ کا پہلا اور اہم اجلاس ہوا جس میں ترقیاتی اور امن وامان کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور یہ معلوم کیاگیا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کہاں ترقیاتی کام ہوئے اور کہاں نہیں انہوں نے کہاکہ کابینہ میں امن وامان کے بارے میں بھی مکمل جائزہ لیاگیا اور یہ تصدیق کی گئی کہ دہشتگردی کے بارے میں سیکورٹی فورسز نے جو کامیابی حاصل کی وہ قابل ستائش ہے جبکہ کابینہ نے اس امر پر بھی اعتماد کیاگیا کہ کوئٹہ شہر میں کار اور موٹر سائیکل چوری کے واقعات میں 97فیصد ختم کمی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ 2015اور2016کے کل 2250اسکیمات ہیں جن میں1310نئی اور940جاری اسکیمات ہیں انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں بعض اوقات بروقت فنڈز جاری نہ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں لیکن وزیراعلیٰ نے بڑی سختی کے ساتھ ہدایت جاری کی ہے کہ جون سے پہلے تمام پروجیکٹ کو مکمل اور فنڈز ریلیز کیا جائے انہوں نے کہاکہ ان اسکیمات کے علاوہ104او راسکیمات بھی ہیں جن کو 70فیصد اسکیمات ایک مہینے کے اندر مکمل کرینگے انہوں نے کہاکہ امن وامان کے حوالے سے گزشتہ روز ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اور بدھ کے روز کابینہ کا اجلاس جن کے اثرات جلد بلوچستان کے عوام کو ملیں گے انہوں نے کہاکہ پرامن بلوچستان کے بارے میں فراریوں کے متعلق کچھ شکایات موصول ہوئے ہیں اور حکومت اس سلسلے میں پالیسی پر نظر ثانی کرینگے اور ان لوگوں کومراعات نہیں دینگے جو فراریوں کے نام پر رقم وصول کرنے کے باوجود حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں اغواء برائے تاؤان کے وارداتوں میں 98فیصد جبکہ قومی شاہراہوں پر راہزنی کے واقعات میں97فیصد کمی ہوئی ہیں مزید بہتری لانے کیلئے صوبائی حکومت بھرپور کوشش کررہی ہیں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر نام کمانے والے عمران خان کو صوبائی حکومت نے شاباش دی اور یہ فیصلہ کیا کہ جلد وزیراعلیٰ بلوچستان ان کے اعزاز میں چائے پارٹی دی جائیگی انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ مسلم باغ میں جو واقعہ رونما ہوا وہ قابل افسوس حکومت اس سلسلے میں کمیٹی قائم کردی ہے رپورٹ آنے کے بعد فیصلہ کرینگے کہ ایف آئی آر کی ضرورت ہے کہ نہیں لیکن صوبائی حکومت یکطرفہ کارروائی پر کسی بھی صورت یقین نہیں رکھتے ہیں کابینہ میں توسیع اور مزید ایڈوائز لئے جانے کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جلد ہی مرحلہ وار کام کیا جائے گا۔ایڈیشنل سیکرٹری نصیب اللہ بازئی نے کہاکہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح تعلیم‘صحت ‘زراعت اور دیگر ہے جبکہ کوئٹہ میں پانی کا جو مسئلہ ہے ان کے حل کیلئے منگی ڈیم اور بولان سے پانی لانے کیلئے پالیسی بھی بنائی گئی ہے اور اس سلسلے میں فنڈز بھی مختص کی ہے انہوں نے کہاکہ رقم کو واپس کرنے سے پہلے تمام اسکیمات کو جون سے قبل مکمل کی جائیگی۔