ملا اختر منصور کون تھے؟ • ملا اختر منصور کا تعلق افغانستان کے صوبے قندھار سے تھا، اُن کی عمر 50 سال تھی۔ • انہوں نے جولائی 2015 میں ملا عمر کی موت کے بعد افغان طالبان کی کمان سنبھالی۔ • افغان طالبان کے امیر نے نوشہرہ کے جلوزئی مہاجر کیمپ میں دینی مدرسے تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ • طالبان دور حکومت کے دوران ملا اختر منصور 2001-1996 تک افغانستان کے سول ایوی ایشن کے وزیر بھی رہے۔ • افغانستان پر اکتوبر 2001 میں امریکی حملے کے دوران دیگر طالبان رہنماؤں کی طرح ملا اختر منصور بھی نامعلوم مقام پر روپوش ہوئے۔ • سابق سویت یونین کے خلاف جنگ میں ملا اختر منصور نے بھی حصہ لیا تھا۔میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکا، اپنے فوجیوں کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گردوں کے خلاف ڈرون حملے جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہیں، لیکن جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ ہم، امریکی افواج کے خلاف براہِ راست حملوں کے منصوبہ بندی کرنے اور اس کی ہدایت دینے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔ افغان طالبان کا امیر ملا اختر منصور، ہفتہ کو بلوچستان میں امریکا کے پہلے ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ پاکستان نے ڈرون حملے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے پاکستان کی علاقائی خود مختاری کے خلاف قرار دیا، جبکہ ڈرون حملوں کے حوالے سے 2010 میں امریکا کو ’ریڈ لائنز‘ واضح کردی گئی تھیں، جس میں خاص طور پر بلوچستان کو نو گو ایریا بتایا گیا تھا۔ مارک ٹونر نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کو تشدد کا راستہ ترک نہ کرنے والوں کے لیے واضح پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے اور افغان شہریوں پر حملہ کرنے والوں کو محفوظ جنت میں نہیں رہنے دے گا، جبکہ افغان طالبان کے پاس واحد راستہ مذاکرات ہیں۔
ملامنصور کو کہاں نشانہ بنایا گیا؟ امریکا ’لاعلم’
![]()
وقتِ اشاعت : May 24 – 2016