|

وقتِ اشاعت :   July 17 – 2016

ملتان : معروف ماڈل گرل اور سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کو اس کے سگے بھائی وسیم نے گزشتہ شب تھانہ مظفر آباد ملتان کے علاقہ نزد کراچی ہوٹل شیر شاہ ریلوے سٹیشن پر گلا دبا کر قتل کر دیا اور فرار ہو گیا ۔اطلاع ملنے پر سی پی او اظہر اکرم ، ایس پی کینٹ سیف اللہ خٹک ، ڈی ایس پی مظفر آباد سلیم نیازی ، ایس ایچ او مظفر آباد سعید گجر اور سی آئی کا عملہ بھاری نفری کے ساتھ پہنچ گیا۔مقتولہ کے والدمحمد عظیم ماڑا نے پولیس افسران کو بتایا کہ ہم لوگ عرصہ پانچ ، چھ سال سے یہاں کرائے کے مکان میں مقیم ہیں اور گزشتہ شب محمد وسیم ڈیرہ غازی خان سے یہاں پہنچا تھا اور رات کو قندیل اپنے کمرے میں سوئی جبکہ میں، قندیل کی ماں انور مائی اوربھائی وسیم اوپر چھت پر سوئے تھے اور وسیم ہی گلا دبا کر قندیل بلوچ کو قتل کر کے فرار ہو گیا ہے۔اس موقع پر پولیس افسران نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم قندیل بلوچ کی لاش قبضہ میں لے لی ہے اور اصل حقائق پوسٹ مارٹم اور تفتیش کے بعد ہی سامنے آئیں گے ۔ ذرائع کے مطابق معروف ماڈل گرل اور سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کو قتل کر کے اس کا بھائی وسیم موقع سے فرار ہو گیا ہے۔پولیس کے مطابق قندیل بلوچ کا بھائی اس کی تصاویر اور وڈیوز کی وجہ سے ناراض تھا ۔ اس سے کچھ روز پہلے ماڈل قندیل بلوچ کی دو شادیاں منظر عام پر آئی تھیں ۔میڈیا پر ماڈل قندیل بلوچ کا ایک نکاح نامہ سامنے آیا جس کے مطابق اس کی شادی کوٹ ادو کے رہائشی عاشق حسین سے 2008 میں ہوئی دونوں کا آٹھ سال کا بیٹا بھی ہے ۔یہ شادی صرف ڈیڑھ سال چل سکی اور ماڈل نے خلع لے کر ملتان اور ڈی جی خان کے دارالامان میں پناہ لی تھی تاہم اس شادی کے بعد ماڈی قندیل بلوچ کی ایک اور شادی منظرعام پر آئی ۔ ماڈل گرل اور سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کافی عرصہ سے میڈیا کی خبر وں میں ان تھیں۔واضع رہے کہ کچھ روز پہلے ماڈل قندیل بلوچ نے لاہور میں پریس کانفریس کر کے وزارت داخلہ سے سیکورٹی مانگی تھی جس کے لیے اس نے درخواست بھی لکھی تھی۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ قندیل بلوچ نے جن وجوہات پر سیکورٹی مانگی وہ زیادہ اہم نہیں ہیں اور قندیل بلوچ اپنی سیکورٹی کے لیے متعلقہ تھانہ سے رجوع کریں ۔واضع رہے کہ قندیل بلوچ نے وزارت داخلہ کو مطلع کیا تھا اور سیکورٹی تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ۔انہیں دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ ملتان پولیس حکام کے مطابق قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمہ کا مدعی اس کا معذرو باپ محمد عظیم بتایا جا رہا ہے دریں اثناء مفتی عبدالقوی کی جانب سے دیے گئے اس بیان پر بھی تفتیش کا ارادہ رکھتی ہے جس میں مفتی عبدالقوی نے کہا ہے کہ عوام قندیل بلوچ کے انجام سے سبق سیکھیں ۔ان کے اس بیان سے پولیس ذرائع خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ قندیل بلوچ کے قتل کے پیچھے مفتی عبدالقوی اور ان کے دست راست ملتان کا ایک معروف پراپرٹی ڈیلر جس کا والد مسجد غوثیہ سمن آبادمیں نماز اور پھر جعلی نکاح پڑھواتا تھا جس کے بعد یہ پیشہ اس معروف پراپرٹی ڈیلر نے اپنا لیا تھا اب وہ ارب پتی کیسے ہو گیا ہے۔ان کو بھی شامل تفتیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ادھر وسیم کی گرفتاری کے لیے ڈی ایس پی مظفر آباد سلیم نیازی کی سربراہی میں پولیس کی دو ٹیمیں روانہ کر دی گئیں ہیں جن میں ایک ٹیم سی آئی اے کی ہے۔