|

وقتِ اشاعت :   July 21 – 2016

انقرہ : ترکی میں حکومت کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کے الزام میں گرفتار کیے گئے 99 جرنیلوں کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ،دوسری جانب ملک بھر سے ماہرین تعلیم اور دانشوروں کے بیرونِ ملک جانے پر بھی عارضی طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک حکام نے گذشتہ ہفتے حکومت کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کے الزام میں گرفتار کیے گئے 99 جرنیلوں کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ ملک بھر سے ماہرین تعلیم اور دانشوروں کے بیرونِ ملک جانے پر بھی عارضی طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔جرنیوں پر فردِ جرم اس وقت عائد کی گئی جب صدر رجب طیب اردوگان کے ان فوجی کمانڈروں کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا گیا جو بغاوت کے دوران ان کے وفادار رہے تھے۔امید ہے کہ وہ جلد ہی اہم اعلانات کریں۔جرنیلوں پر فردِ جرم عائد کرنے کا اقدام گذشتہ ہفتے حکومت کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سرکاری عملے کی چھانٹی کے بعد سامنے آیا ہے۔ترکی میں گرفتار، برطرف یا معطل کیے جانے والے افراد کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں 21 ہزار اساتذہ سمیت محکمہتعلیم کے 37 ہزار سے زیادہ ملازمین اور فوج سے تعلق رکھنے والے 6000 افراد، دو ہزار سے زیادہ جج معطل اور تقریبا نو ہزار پولیس اہلکار شامل ہیں۔زیرِ حراست افراد میں 100 کے قریب فوجی جرنیل اور ایڈمرل اور صدر کے اعلی ترین فوجی معتمد ہیں۔ان افراد پر امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے والے مبلغ فتح اللہ گولن کے نظریات کا حامی ہونے کا الزام لگایا ہے۔ ترک حکومت نے فتح اللہ گولن پر الزام لگایا کہ بغاوت کی کوشش ان کے ایما پر ہوئی تاہم وہ اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوگان قومی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ملک میں استحکام لانے کے منصوبے بھی پیش کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس ناکام بغاوت کے بعد صدر کے لیے پہلا موقع ہوگا کہ وہ اپنی حکومت اور فوج کے اعلی ترین عہدیداروں سے بیٹھ کر بات کر سکیں،دریں اثناء امریکی صدر بارک اوباما نے ترکی میں ہونے والی بغاوت کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے ترکی کو تحقیقات میں معاونت کی پیشکش کر دی ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ۔وائٹ ہاؤ س کے ترجمان کے مطابق گزشتہ روز صدر اوباما نے اپنے ترک ہم منصب طیب رجب اردوان سے ٹیلی فونک گفتگو کی جس میں انہوں نے گزشتہ ہفتے ترکی میں ہونے والی بغاوت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ امریکہ بغاوت کی تحقیقات میں مناسب معاونت فراہم کرے گااس موقع پردونوں رہنماوں کے درمیان ترکی کی طرف سے مسلم مذہبی شخصیت فتح اللہ گولن کی حوالی کی درخواست پر بھی تبادلہ خیال ہواتاکہ ان پر بغاوت کی کوشش سے وابستہ ہونے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا سکے۔ ترجمان نے گولن کہا کہ اس بارے میں فیصلہ انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان دیرینہ معاہدے کے مطابق کیا جائے گا۔ دریں اثناء ترکی کے قومی خفیہ ادارے نے کالعدم تنظیم فتح اللہ کی حمایت کے الزام میں 100ملازمین کو معطل کردیا،ترک میڈیا کے مطابق معطل کیے جانے والے مذکورہ افراد سو ایسے افراد کو معطل کر دیا ہے جو فتح اللہ گولن کے لیے کام کرتے تھے۔ ان کی معطلی کی وجہ امکاناً ان کی جانب سے فرائض میں غفلت برتنے کی وجہ سے کی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ معطل کیے گئے افراد سرگرم ایجنٹ نہیں تھے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ افراد مذہبی حلقوں سے رابطوں میں بھی تھے،دریں اثناء ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کے وقت انہوں نے بمشکل جان بچائی،دس منٹ مزید ہوٹل میں رکتا تو مار دیا جاتا، ترکی ایک جمہوری ریاست ہے جہاں قانون کی بالادستی ہے، اگر ترک عوام یہ مطالبہ کرتے ہیں اور پارلیمان اس قانون سازی کی منظوری دے دیتی ہے توسزائے موت بحال کرنے کے لیے تیار ہوں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق تر ک صدر کا کہنا تھا کہ بغاوت کے وقت وہ چھٹی منانے مرمارس کے علاقہ میں موجود تھے جہاں ان کے ہوٹل کا محاصرہ کر لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ باغیوں کے ہوٹل میں گھسنے سے چند منٹ پہلے انہوں نے وہاں سے نکل کر استنبول جانے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر میں دس سے پندرہ منٹ مزید وہاں رکتا تو مخالفین کے ہاتھوں مارا جاتا۔ہزاروں حامیوں سے خطاب کے دوران سزائے موت سے متعلق سوال پر ردعمل دیتے ہوئے اردگان نے کہا کہ عوامی مطالبے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔صدر اردوگان کا کہنا ہے کہ ترکی ایک جمہوری ریاست ہے جہاں قانون کی بالادستی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تھا اگر ترک عوام یہ مطالبہ کرتے ہیں اور پارلیمان اس قانون سازی کی منظوری دے دیتی ہے تو وہ سزائے موت بحال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آپ عوام کے مطالبے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ آج کیا امریکہ میں سزائے موت نہیں ہے؟ روس میں؟ چین میں؟ دنیا بھر کے ممالک میں؟ صرف یورپی یونین کے ممالک میں سزائے موت نہیں ہے۔