لیاری میں خوف کی علامت سمجھا جانے والا نور محمد عرف بابا لاڈلا گینگ وار سے سربراہ عزیر بلوچ سے اختلافات اور لیاری آپریشن کے باعث بابا لاڈلا عمان چلا گیا تھا، بابا لاڈلا 100 سے زائد قتل کی وارداتوں میں مطلوب اور پولیس کی ریڈ بک میں شامل تھا۔ لیاری گینگ وار کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد سربراہ کی کرسی عزیر بلوچ نے سنبھالی اور بابا لاڈلہ کو کرمنلز کا ہیڈ مقرر کیا لیکن 2013 میں رینجرز نے لیاری میں آُپریشن شروع کیا تو عزیربلوچ ملک سے فرار ہو گیا۔
آپریشن کی شدت بڑھنے پر بابا لاڈلا نے عزیر بلوچ سے مطالبہ کیا تھا کہ لیاری میں جاری آپریشن سیاسی مداخلت سے ختم کروایا جائے لیکن عزیر بلوچ ایسا نہیں کرواسکا جس پر بابا لاڈلا نے پیپلز امن کمیٹٰی کے ترجمان اور عزیر بلوچ کے دست راز ظفر بلوچ کو لیاری میں قتل کر دیا، ظفر بلوچ کے قتل کے بعد بابا لاڈلا اور عزیر بلوچ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے اور لیاری آُپریشن کے دوران ہی بابا لاڈلا پاکستان چھوڑ کر عمان چلا گیا تھا، رینجرز سے مقابلے میں مارا جانے والا بابا لاڈلا ابتدائی زندگی میں بس کلیئنر کا کام کرتا تھا۔
کراچی میں رینجرز کی کارروائی میں بابا لاڈلا 2 ساتھیوں سمیت ہلاک
![]()
وقتِ اشاعت : February 2 – 2017
لیاری میں خوف کی علامت سمجھا جانے والا نور محمد عرف بابا لاڈلا گینگ وار سے سربراہ عزیر بلوچ سے اختلافات اور لیاری آپریشن کے باعث بابا لاڈلا عمان چلا گیا تھا، بابا لاڈلا 100 سے زائد قتل کی وارداتوں میں مطلوب اور پولیس کی ریڈ بک میں شامل تھا۔ لیاری گینگ وار کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد سربراہ کی کرسی عزیر بلوچ نے سنبھالی اور بابا لاڈلہ کو کرمنلز کا ہیڈ مقرر کیا لیکن 2013 میں رینجرز نے لیاری میں آُپریشن شروع کیا تو عزیربلوچ ملک سے فرار ہو گیا۔
آپریشن کی شدت بڑھنے پر بابا لاڈلا نے عزیر بلوچ سے مطالبہ کیا تھا کہ لیاری میں جاری آپریشن سیاسی مداخلت سے ختم کروایا جائے لیکن عزیر بلوچ ایسا نہیں کرواسکا جس پر بابا لاڈلا نے پیپلز امن کمیٹٰی کے ترجمان اور عزیر بلوچ کے دست راز ظفر بلوچ کو لیاری میں قتل کر دیا، ظفر بلوچ کے قتل کے بعد بابا لاڈلا اور عزیر بلوچ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے اور لیاری آُپریشن کے دوران ہی بابا لاڈلا پاکستان چھوڑ کر عمان چلا گیا تھا، رینجرز سے مقابلے میں مارا جانے والا بابا لاڈلا ابتدائی زندگی میں بس کلیئنر کا کام کرتا تھا۔