|

وقتِ اشاعت :   February 22 – 2017

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کی زیرصدارت منعقد ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں صوبے کے قدرتی وسائل کے استعمال کو یقینی بنا کر بلوچستان کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کی جانب بھرپور توجہ مرکوز کرنے اور 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو وسائل پر حاصل اختیارات کو پوری طرح بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کابینہ نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ صوبے کو معاشی طور پر خود انحصار بنانے اور ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنے وسائل کو ترقی دینا ہوگی، صوبائی کابینہ کا اجلاس جو کہ 6گھنٹے سے زائد جاری رہا میں اہم پالیسی ساز فیصلے کئے گئے ، کابینہ نے بلوچستان سیف سٹیز اتھارٹی، کوئٹہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور بلوچستان پارک اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی، جبکہ خضدار اور لورالائی میں ہائی کورٹ کے سرکٹ بنچ کے قیام کی منظوری بھی دی گئی، کابینہ نے صوبائی لاء افسروں کی تعیناتی کے بلوچستان صوبائی قوانین 2015 میں ترامیم، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محاصل میں اضافے، خواتین کے حقوق کے تحفظ کے بل 2015، بلوچستان چائلڈ میرج پر پابندی کے بل 2015، سینئر سٹیزنز بل 2016، بلوچستان معذوران بل 2017 ،بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ بورڈ ایکٹ برائے کم لاگت ہاؤسنگ اسکیمز ایکٹ 2016 اور بلوچستان کچی آبادی ریگولرائزیشن بل 2016کی منظوری بھی دی جنہیں قانون سازی کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات ڈاکٹر عمر بابر نے صوبائی کابینہ کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی جبکہ کابینہ میں ترقیاتی پروگرام میں شامل ترقیاتی منصوبوں ، وفاقی پی ایس ڈی پی کے منصوبوں اور سی پیک میں شامل بلوچستان کے منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، کابینہ نے صوبائی پی ایس ڈی پی میں شامل منصوبوں کی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کاغذوں میں موجود منصوبوں کو جلد از جلد عملی جامع پہنایا جائے اور ان منصوبوں کے پی سی ون کی منظوری اور فنڈز کے بروقت اجراء کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ، کابینہ کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبے معاشی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں جن پر عملدرآمد سے معاشی و اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے لہذا محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات ، محکمہ خزانہ اور متعلقہ محکمے منصوبوں کے آغاز اور ان کی بروقت تکمیل کے لیے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ کریں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی نمائندوں کا کام عوام کے مسائل اجاگر کرنا ہے اور منصوبوں کو عملی جامع پہنانا سرکاری افسران کی ذمہ داری ہے، افسران کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی اور ایمانداری سے ادا کریں۔ صوبائی کابینہ کی جانب سے سی پیک میں بلوچستان کے اہم منصوبوں کی شمولیت کے حوالے سے وزیراعلیٰ کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا، اجلاس میں پلڈاٹ کی رپورٹ کو بھی قابل اطمینان قرار دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران بلوچستان میں گڈ گورننس میں بہتری جبکہ بد عنوانی میں نمایاں کمی رونما ہوئی ہے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کی ہمہ گیر ترقی اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے ہمیں ترجیحی بنیادوں پر اپنے وسائل کی تلاش اور ترقی کی جانب توجہ دینی ہوگی، موجودہ ذرائع محصولات بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے کی ترقی کے لیے ناکافی ہیں اور ان وسائل سے صوبے کی ترقی ناممکن ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر دیگر صوبے 18ویں ترمیم کے تحت اپنے وسائل کی تلاش و ترقی کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپنے وسائل میں اضافہ کر رہے ہیں توہم کیوں نہیں کرسکتے ، ہم پر بھی کوئی قدغن نہیں ہے، ہم بھی اپنے وسائل کو ترقی دے کر اعلیٰ معیار کے سکول، ہسپتال اور موٹر ویز بنا سکتے ہیں، اگر آج ہم نے اس ضمن میں جرات مندانہ فیصلے نہ کئے تو نا ہم اور نا ہی آئندہ آنے والی حکومتیں صوبے کو ترقی دے سکیں گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم اپنے وسائل کے خود مالک ہیں اور ان وسائل کے استعمال کے لیے وفاقی حکومت ہر سطح پر ہم سے معاونت کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے گیس کے موجودہ ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، موجودہ صورتحال کا تقاضہ ہے کہ ہم تیز رفتاری کے ساتھ آئل، گیس اور دیگر معدنی وسائل کی ترقی کی جانب جائیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کابینہ اور بیوروکریسی کی ذمہ داری ہے ہم نے آگے چل کر مزید فیصلے کرنے ہیں لہذا کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے ذمہ داریوں کی صحیح معنوں میں ادائیگی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے ساتھی اور افسران میرے دست و بازوں ہیں لہذا وہ چاہتے ہیں کہ صوبے کی ترقی کے ویژن کو عملی جامع پہنانے کے لیے وہ ان کا ساتھ دیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم ترقی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں مارا جاتا ہے کیونکہ یہ ترقی مخالف عناصر کے لیے ناقابل برداشت ہے، تاہم وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ترقی عمل پر نا تو کوئی سمجھوتہ ہوگا ،نہ ہی کوئی دباؤ قبول کیا جائیگا اور ناہی ہم منفی ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونگے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے معدنی وسائل کی ترقی کے لیے صوبے اور عوام کے مفادات کے مطابق جو بھی سرمایہ کاری آئے گی اس کا خیر مقدم کیا جائیگا۔ دریں اثناء حکومت بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے کابینہ اجلاس میں صوبے میں سیف سٹیز سمیت تین اتھارٹیاں بنانے کی منظوری دیدی ہے گوادر ائیر پورٹ کی تعزین وآرائش کاکام 2017کے وسط میں مکمل ہوگا بلوچستان میں موجود معدنی ذخائر دریافت کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے کوئٹہ ماس ٹرانزٹ منصوبے کا سروے 2ما ہ میں مکمل کرکے اس پر کام شروع کردیا جائے گا بلوچستان میں کسی بھی کالعدم تنظیموں کو سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائیگی مردم شماری کے لئے تیار ہیں غیر ملکی غیر ملکی ہیں خواہ پشتون بلوچ، ہزارہ یا کوئی بھی ہوں مردم شماری میں ان کا شمار نہیں کیاجائے گا۔ انہوں نے یہ بات منگل کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں کابینہ اجلاس کے فیصلوں سے متعلق میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے پریس سیکرٹری کامران اسد بھی موجود تھے ترجمان حکومت بلوچستان انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان میں محکموں کو نجی شعبے کے حوالے کرکے کمپنیاں تشکیل دی جائینگی جس کے تحت ابتدائی طورپر سالیڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی ، ہارٹی کلچر اور سیف سٹیز اتھارٹی تشکیل دی جا رہی ہیں جو صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر کام کرینگی ۔انہوں نے کہاکہ سیف سٹیز اتھارٹی ڈویژنل سطح پر تشکیل دی جائیگی جس کے تحت شہروں کو محفوظ بنایا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ پی ایس ڈی پی کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پی ایس ڈی پی کی رقم سے اگلے دس سے پندرہ سال میں صوبے میں ترقیاتی کام انتہائی سست یا ختم ہوجائے گااسلئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے کے معدنی ذخائر کو دریافت کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے اور اس سے حاصل ہونے والے ریونیوکی رقم صوبے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے خر چ کی جائیگی ۔انہوں نے کہاکہ گوادر میں سی پیک منصوبے سے پیدا ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں اور مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچانے کیلئے قانون سازی کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو اپنی سفارشات کو مرتب کر کے قانون سازی میں مدد کریگی ۔ انہوں نے کہاکہ چینی کمپنی کے ماہرین نے کوئٹہ ماس ٹرانزٹ منصوبے کے حوالے سے سروے کا آغا ز کردیا ہے جو دو ماہ میں مکمل ہوگا اس کے بعد منصوبے پر باقاعدہ طور پر کام شروع کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ 22ارب روپے کی لاگت سے چین کے تعاون سے گوادر ائیر پورٹ منصوبہ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے اور 2017کے وسط تک اس کا کام مکمل ہوجائے گا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جہاں بھی کالعدم تنظیموں کی کارروائی یا کسی بھی قسم کی نقل و حرکت کی اطلاع ملے گی انکے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی ہم دہشتگردی کو نیشنل تھرٹ سمجھتے ہیں اوراس کی سر کوبی اور خاتمے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں صوبے میں پنجاب کی طرز پر فرانزک لیبارٹری بھی بنائی جائیگی وفاقی حکومت کی مداخلت سے متعلق سوال کے جواب میں انوار لحق کاکڑ نے کہاکہ ہماری حکومت 18ویں ترمیم کے بعد سے خود مختیار ہے وفاق کی یہاں کوئی مداخلت نہیں بلکہ وہ ہمیں خود مختیار فیصلے کرنے میں ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں جہاں تک صوبے کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی کا سوال ہے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے وسائل میں رہتے ہوئے سکولوں بازاروں ، اور دیگر مقامات کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں اوراس میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مردم شماری آئینی ضرورت ہے جو کہ پہلے سے ہی تاخیر کا شکار ہوچکی ہے ہم سپریم کور ٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اگلے مہینے مردم شماری کروانے جا رہے ہیں جس میں صرف پاکستانیوں کی گنتی ہوگی غیر ملکی کوئی بھی ہوسکتا ہے خوا ہ وہ بلوچ ، پشتون ، ہزارہ ،ازبک کوئی بھی ہو یہ صرف بلوچ اور پشتون کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہئے کیونکہ مختلف اقوام کے غیر ملکی یہاں موجود ہیں اور مردم شماری کا حصہ بننا نہ غیر ملکیوں کے حق میں ہے اور نہ ہی ہمارے حق میں ہم مردم شماری کروانے اور اسے شفاف بنانے کیلئے پوری طرح تیار ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کمانڈر رزاق کی بم ڈسپوزل اسکواڈ میں لا تعداد خدمات ہیں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لئے قائداعظم میڈل اور پولیس ایوارڈ کیلئے مرکزی حکومت کو سفارش کی جائیگی جبکہ دیگر شہید ہونے والے اہلکاروں کو بھی حکومتی پالیسی کے تحت معاوضہ دیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ صوبے میں موجود خالی آسامیوں کو پر کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں تاہم زیادہ سے زیادہ آسامیاں جلد ازجلد پر کرنے کی کوشش کی جائیگی ۔