ان خیالات کا اظہار قبائلی و سیاسی رہنما میر فرید رئیسانی ، و دیگر مالداروں نے کمشنر آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا مالداروں نے اپنے جانوروں کے ہمراہ دھرنا دیتے ہوئے کہا کہ رات کی تاریکی میں سبی میلے کو ملتوی کرکے بلوچستان کے مالداروں زمینداروں اور کاروباری طبقے کو فاکہ کشی پر مجبور کردیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہمارے ان لیڈروں نے کیا ہے جنہیں ہم اپنا لیڈر سمجھ کر اسمبلی میں بھیجتے ہیں اور انہی لیڈروں نے آج بلوچستان کے مالداروں اور زمینداروں کے پیٹ میں خججر گھونپ کر جیتے جی انہیں اور ان کے بچوں کو مار دیا ہے مظاہرین نے کہا کہ اگر دو روز کے اندر سبی میلہ ملتوی کرنے کے احکامات واپس نہ لیے گئے تو ہم صوبائی حکومت کو واضح طور پر آگاہ کرتے ہیں کہ جیکب آباد سے کوئٹہ تک قومی شاہراہ اور ریلوے ٹریک نہ صرف جام کریں گے بلکہ بلوچستان کے ہر شہر میں حکومت کے غلط فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کیے جائیں گے کیونکہ سبی میلہ معاشی اعتبار سے بلوچستان کے مالداروں اور زمینداروں کا میلہ ہے اور اس میلے کو ملتوی کرنے سے نہ صرف مالداروں بلکہ بلوچستان کی معیشت پر بھی برے اثرات مرتب ہونگے لہذا ہم آج جو احتجاج کررہے ہیں وہ نہ صرف اپنے لے بلکہ بلوچستان کی آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی فاکہ کشی سے محفوظ کرنے کیلئے احتجاج کررہے ہیں اس موقع پر کمشنر سبی ڈویژن محمد سعید جمالی نے مظاہرین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں صوبائی حکومت سے بات چیت کرکے بلوچستان کے مالداروں اور زمینداروں کے موقف سے آگاہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مالدار اور زمیندار خوشحال ہوگا تو یقیناًبلوچستان میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگا لہذا سبی میلے کی دوبارہ بحالی کیلئے بات چیت کی جائے گی ۔
سبی میلہ ملتوی کئے جانے کیخلاف بلوچستان کے مالداروں کا شدید احتجاج ،حکومت کیخلاف نعرہ بازی
![]()
وقتِ اشاعت : February 23 – 2017
ان خیالات کا اظہار قبائلی و سیاسی رہنما میر فرید رئیسانی ، و دیگر مالداروں نے کمشنر آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا مالداروں نے اپنے جانوروں کے ہمراہ دھرنا دیتے ہوئے کہا کہ رات کی تاریکی میں سبی میلے کو ملتوی کرکے بلوچستان کے مالداروں زمینداروں اور کاروباری طبقے کو فاکہ کشی پر مجبور کردیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہمارے ان لیڈروں نے کیا ہے جنہیں ہم اپنا لیڈر سمجھ کر اسمبلی میں بھیجتے ہیں اور انہی لیڈروں نے آج بلوچستان کے مالداروں اور زمینداروں کے پیٹ میں خججر گھونپ کر جیتے جی انہیں اور ان کے بچوں کو مار دیا ہے مظاہرین نے کہا کہ اگر دو روز کے اندر سبی میلہ ملتوی کرنے کے احکامات واپس نہ لیے گئے تو ہم صوبائی حکومت کو واضح طور پر آگاہ کرتے ہیں کہ جیکب آباد سے کوئٹہ تک قومی شاہراہ اور ریلوے ٹریک نہ صرف جام کریں گے بلکہ بلوچستان کے ہر شہر میں حکومت کے غلط فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کیے جائیں گے کیونکہ سبی میلہ معاشی اعتبار سے بلوچستان کے مالداروں اور زمینداروں کا میلہ ہے اور اس میلے کو ملتوی کرنے سے نہ صرف مالداروں بلکہ بلوچستان کی معیشت پر بھی برے اثرات مرتب ہونگے لہذا ہم آج جو احتجاج کررہے ہیں وہ نہ صرف اپنے لے بلکہ بلوچستان کی آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی فاکہ کشی سے محفوظ کرنے کیلئے احتجاج کررہے ہیں اس موقع پر کمشنر سبی ڈویژن محمد سعید جمالی نے مظاہرین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں صوبائی حکومت سے بات چیت کرکے بلوچستان کے مالداروں اور زمینداروں کے موقف سے آگاہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مالدار اور زمیندار خوشحال ہوگا تو یقیناًبلوچستان میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگا لہذا سبی میلے کی دوبارہ بحالی کیلئے بات چیت کی جائے گی ۔