|

وقتِ اشاعت :   July 24 – 2017

 لاہور: فیروزپور روڈ پر ارفع کریم ٹاور کے قریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں 9 پولیس اہلکاروں سمیت 26 افراد شہید اور 52 سے زائد زخمی ہوگئے۔

 لاہور میں فیروزپور روڈ پر ارفع کریم ٹاور کے قریب سبزی منڈی کے باہر دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 26 افراد شہید اور 52 سے زائد زخمی ہوگئے۔

امدادی کارکنوں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا جن میں سے 20 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں میں سب انسپکٹر ریاض، اے ایس آئی فیاض، کانسٹیبل علی، معظم، ساجد، عابد اور مرتضی شامل ہیں جب کہ حملے میں اے ایس آئی فیاض کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ زخمی پولیس اہلکار اور عینی شاہدین کے مطابق پولیس ناکے کے قریب ایک موٹرسائیکل  آکر رکی جس کے بعد زوردار دھماکا ہوگیا اور وہاں کھڑی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں میں آگ لگ گئی۔ 

موٹرسائیکل کے مالک کا سراغ لگالیا گیا ہے جس کا ماڈل 2017 کا ہے جو لاہور کے رہائشی عثمان علی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ حکام نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا ہے کہ جائے وقوع پر کھڑی ہنڈا سوک میں بارودی مواد موجود تھا جسے دھماکے سے اڑادیا گیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف نے کہا کہ یہ دھماکا خودکش تھا جس میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا، حملے میں 9 اہلکار اور 17 عام شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کی وجہ سے لاہور ہمیشہ دہشت گردوں کے نشانے پر رہا ہے اور حملوں کا پہلے سے خطرہ تھا، تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے والی ٹیم کی حفاظت پر پولیس تعینات تھی۔

سیکیورٹی حکام نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے جب کہ پاک فوج کے دستے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فارنسک ماہرین نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔  حملے میں 8 سے 10 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

ترجمان پنجاب حکومت نے بتایا کہ واقعے کے وقت علاقے میں پولیس اور مقامی انتظامیہ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں مصروف تھی جب کہ ارفع کریم ٹاور کے قریب پرانی عمارتوں کو بھی گرایا جارہا تھا۔

آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے شہید افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ آرمی چیف نے پاک فوج کے دستوں کو فوری امدادی سرگرمیوں کی ہدایت کی ہے۔