|

وقتِ اشاعت :   August 31 – 2017

گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی میں اس وقت گرما گرم بحث شروع ہوئی جب وزیر تعلیم عبدالرحیم زیاراتوال نے یہ قرارداد اسمبلی میں پیش کی کہ اس کے حلقہ انتخاب ہرنائی کو گیس فراہم کی جائے ۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ چونکہ ہرنائی کے قرب و جوار میں چند علاقوں میں گیس اور تیل کے ذخائر دریافت ہو ئے ہیں اس لیے ہرنائی شہر کو گیس کی سہولت فراہم کی جائے۔ 

بعد میں اعتراضات کے جواب میں انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ سوئی میں گیس کی دریافت کے بعد ڈیرہ بگٹی کو گیس سے محروم رکھا گیا ہے اس لیے ہرنائی کے ساتھ بھی اس قسم کا سلوک روانہ رکھا جائے۔

اس پر دیگر اراکین اسمبلی نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا اور یہ مطالبہ کیا کہ بلوچستان بھر کو سوئی گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے صرف ہرنائی نہیں بلکہ بلوچستان کے تمام بڑے شہروں کو سوئی گیس دی جائے۔ 

1950ء میں سوئی کے مقام پر بڑے اور تجارتی پیمانے پر گیس دریافت ہوئی ۔ اس وقت کے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے اس کا اعلان قانون ساز اسمبلی میں کیا ۔

چنانچہ یہ فیصلہ بھی ہوا کہ کراچی جو اس وقت ملک کا دارالخلافہ تھا اس کو فوری طورپر سوئی گیس سپلائی کی جائے ۔وفاقی حکومت میں اتنی بے صبری تھی کہ اس نے گیس کے پائپ روایاتی طریقے سے نہیں بلکہ ہوائی جہازوں سے درآمدکئے اور کراچی کو سوئی گیس فراہم کی گئی ۔ 

جنرل ضیاء کے دور میں فوجی افسران کے مطالبے پر کوئٹہ شہر اور چھاؤنی کو گیس فراہم کی گئی ۔ دہائیوں بعد یہ فیصلہ ہوا کہ پشین اور مستونگ کو بھی گیس سپلائی کی جائے اور پھر سالوں بعد قلات اور زیارت کو بھی سوئی گیس فراہم کی گئی ۔ محمود اچکزئی کے گاؤں عنایت کاریز کو وزیراعظم کے خصوصی حکم سے سوئی گیس فراہم کی گئی ۔

ابتداء سے متعصب منصوبہ سازوں نے ایک چھوٹی گیس پائپ لائن مستونگ اور قلات کے درمیان بچھائی تاکہ اس میں یہ استعداد نہ ہو کہ گیس کو سوراب اور خضدار تک پہنچا سکے ۔تربت بلوچستان کا دوسرا بڑا اور خضدار بلوچستان کا تیسرا بڑا اور اہم ترین شہر ہے ۔

گزشتہ ساٹھ سالوں سے یہ سوئی گیس کی سہولت سے محروم ہیں اسی طرح بلوچستان کے 29اضلاع گزشتہ 65سالوں سے گیس کی نعمت سے محروم ہیں جبکہ پنجاب کے آخری شہر نارو وال تک گیس پہنچا دی گئی ہے ۔

نواز شریف نے ہر سال پنجاب کے درجنوں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کے حلقہ انتخاب کو گیس پہنچائی اور اس کے لیے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کیے ۔

جبکہ دوسری جانب بلوچستان کو اپنے ہی گیس سے محروم رکھا گیا حالانکہ یہ بلوچستان کے عوام کا قانونی اور آئینی حق ہے کہ گیس ان کو پنجاب اور سندھ سے پہلے ملنی چائیے مگر بلوچستان کے عوام کے حقوق پامال کیے گئے۔ 

حالیہ دورے کے دوران وزیراعظم نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے اس درخواست پر حامی بھر لی کہ خضدار کو LPGپلانٹ دی جائے گی ۔ یہ افسوسناک امر ہوگا کہ بلوچستان کاتیسرا بڑا شہر جو ہر لحاظ سے اہم ترین ہے اس کو سوئی گیس کی بجائے LPGپلانٹ دی جائے جو چند گھروں تک محدود ہوگا۔ لہذا عوام الناس کو یہ قابل قبول نہیں ہونا چائیے۔ صوبائی حکومت کو چائیے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے اور خضدار اور تربت کے لئے سوئی گیس کی فراہمی کے مطالبہ کوہر صورت منوائے ۔ 

محمود خان اچکزئی نے ذاتی کوششوں سے افغانستان کے سرحد کے قریب سوئی گیس کی پائپ لائن پہنچا دی مگر یہ پائپ لائن خضدار نہیں جا سکتی جو وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کا گھر ہے ۔

اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ عنایت کاریز کے بعد ہرنائی کو بھی سوئی گیس ضرور ملے گی کیونکہ وزیر تعلیم کا اس صوبے پر اثر ورسوخ ڈھکا چھپا نہیں۔لیکن ہرنائی کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے تمام شہروں کو گیس بھی فراہم کی جائے ۔ اس کے لیے وزیر اعلیٰ اپناکردار ادا کریں ۔