کوئٹہ : وزیرعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران سی پیک کے حوالے سے گوادر سمیت بلوچستان بھر میں کوئی کام نہیں ہوا ہم گوادر کے لو گوں کو اقلیت میں بدلنے سے روکنے اور حقوق کے تحفظ کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں ۔
اس لئے وفاق سے منسلک ایشوز کو حل کرنے کے لئے رابطوں کو تیز کرینگے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے وزیراعظم پاکستا ن سے ملاقات کرینگے اگر ملاقات نہ کی گئی تو وزیراعظم ہاؤس کے سامنے بیٹھ جائیں گے کیونکہ وہ پاکستان کے وزیراعظم ہے گوادر پورٹ منصوبے کے حوالے سے سیکرٹریٹ اور ڈیسک قائم کرنے کے لئے کام کا آغاز کر دیا ہے ۔
بیرونی سرمایہ کاروں کو ہر قسم کا قانونی ، آئینی تحفظ فراہم کرینگے تاکہ بلوچستان کے عوام کی تقدیر کو بدلنے کے لئے حقیقی معنوں میں کام کر کے منصوبوں کو مکمل کر سکے تاکہ ان کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں گوادر ماسٹر پلان میں ترامیم کے حوالے سے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز اور مقامی لو گوں کو ان بورڈ لیں گے ۔
ان خیالات کا اظہا رانہوں نے منگل کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر وزیراعلیٰ کے اسسٹنٹ، پولٹیکل سیکرٹری سید اسلم شاہ، ایڈوائزر گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کہدہ بابر بلوچ ، ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشن شہزادہ فرحت جان احمد زئی سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ مجھے سی پیک او ر گوادر کے حوالے سے جو حکام نے بریفنگ دی ہے اس کے بعد مجھے سخت مایوسی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے کہ گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران سی پیک جو کہ گوادر اور بلوچستان کی سر زمین پر واقع علاقہ کو منسلک کرنے کے لئے بن رہا ہے ۔
اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور نہ ہی کام کیا گیا ہے حالانکہ چاہئے تھا کہ لو گوں کو تربیت دیتے گوادر کے حوالے سے الگ سیکرٹریٹ یا ایک ڈیسک قائم کر تے جہاں سے لو گوں کو معلومات میسر ہو تی لیکن افسوسناک امر ہے کہ اس حوالے سے کوئی کام نہیں کیا گیا اسی طرح صوبے کے دیگر منصوبوں کی بھی حالت زار ہے ۔
وزیراعظم پاکستان کی جانب سے گوادر کے لئے ایک ارب روپے کا ترقیاتی پیکج دیا گیا تھا جس کے حوالے سے ہم نے نومبر2017 میں پی سی ون بنا کر وفاق کو بھیجا تھا تا حال اس پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی کوئی پیشرفت کی گئی ہے ہماری کوشش ہے کہ گوادر کے حوالے بلوچستان بورڈ آف انوسٹمنٹ کو فعال بنائیں اس کے لئے کوئی بھی سنجیدہ کوششیں نہ کی گئی جس کی وجہ سے یہ اتنا بڑا شعبہ بھی غیر فعال ہے ۔
ہم نے سی پیک کو کامیاب بنانے کے لئے وفاق اور دیگر اداروں وزیراعظم اور وفاقی پلاننگ کمیشن سے رابطے اور تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ لوگوں کے تحفظات کو دور کر کے ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے آئینی اقدامات اٹھائے اور تمام منصوبوں پر سست روی کے عمل کو تیز کر کے منصوبوں کومکمل کر کے ان کے ثمرات عوام تک منتقل کر سکے صوبائی کا بینہ کے ایجنڈے میں سی پیک کے حوالے سے مختلف نقاط کو شامل کیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے لاء ڈیپارٹمنٹ کو قانون سازی کے حوالے سے ماہرین کی خدمت حاصل کر کے اس پر ڈرافت تیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے اور وفاق کیساتھ جو ایشوز ہے انہیں بھی حل کرنے کے لئے رابطہ کر کے ان میں تیزی لائیں گے تاکہ آئینی طریقے سے گواد رکے لو گوں کو اقلیت میں بدلنے سے روکنے کے لئے ان کے حقوق کا تحفظ کر سکیں ۔
ہماری کوشش ہو گی کہ ہم گوادر میں آنیوالوں کے لئے قانون سازی کے ذریعے20 سال تک انہیں ووٹ کا حق نہ دیں کیونکہ یہ وفاق سے وابستہ معاملہ ہے پھر بھی ہم بلوچستان اور گواد رکے لو گوں کے حقوق کے حوالے سے تمام قانونی تقاضے پورے کرینگے تاکہ ان کے تحفظات کا ازالہ ہو سکے ۔
انہوں نے کہا کہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترمیمی ماسٹر پلان کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز اور مقامی لو گوں ان بورڈ لے کر ان مسائل کوحل کرینگے اور وفاق سے بھی رابطہ رکھ کر تمام ایشوز کو خوش اسلوبی سے حل کرینگے ۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ فرینڈلی ماحول میں اقدامات کو لے کر آگے بڑھیں اور بیرونی سرمایہ کاروں کو یہاں پر ہر قسم کا آئینی تحفظ دینگے تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں اور وہاں یہاں پر پرسکون ماحول میں سرمایہ کاری کریں سرمایہ کاری کے دوران ہر قسم کی رکاوٹ کو دور کرینگے تاکہ بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر نے کے لئے اپنا کردا رادا کر سکیں ۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں فنڈ جن منصوبوں کے لئے رکھے گئے تھے انہیں تیز کریں گے تاکہ منصوبے مکمل ہوں گوادر کے لو گوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ گوادر کے لو گوں کو میرانی ڈیم سے ایمر جنسی کی صورت میں پانی کی فراہمی کے لئے پائپ لائن بچا رہے ہیں ۔
کیونکہ گوادر کے لو گوں کو ان کے اپنے وسائل جس میں اکڑا ڈیم اور شادی کور ڈیم سے پانی دینگے 2012 میں وفاق کی جانب سے گواد رکے لئے پانی کی فراہمی کا منصوبہ بنایا گیا تھا جو سیاسی بنیادوں پر التواء کا شکار ہو گیا لیکن ہم ان منصوبوں کو سیاست کی نظر نہیں ہونے دینگے بلکہ انہیں مکمل کرینگے ۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد مجھے امید تھی کہ وزیراعظم ہمیں مبارکباد دیں گے پھر میں نے فون کیا تھا تا حال انہوں نے رابطہ نہیں کیا لیکن بلوچستان کے حقوق کے حصول کے لئے ہم وزیراعظم ہاؤس جائیں گے ۔
اگر ملاقات نہ کرنے دیں تو وزیراعظم ہاؤس کے باہر بیٹھ جائیں گے کیونکہ وہ شریف النفس انسان ہے اور پورے پاکستان کے وزیراعظم ہے پولیس کے شہداء کے معاوضے میں اضافے اور اپ گریڈیشن کے حوالے سے ہماری کوشش ہے کہ پولیس کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں کیونکہ پولیس عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں ۔
امن کی بحالی کے لئے انہیں جو بھی وسائل چاہئے وہ دینگے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران سی پیک کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا ہے ڈومیسائل اور لوکل کے حوالے سے حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں تاکہ قانونی ماہرین کی رائے کے بعد اس حوالے سے قانون سازی کر سکیں انہوں نے کہا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے کول پلانٹ کا جائزہ لیں گے ۔
اگر اس سے ماحولیاتی آلودگی پھیلنے کا اندیشہ ہوا تو اس پر کام کرینگے ایران سے بجلی لینے کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے ایسا نہ ہو کہ بجلی لے لیں اور بعد میں اس کو بار بار منقطع کریں جس سے مسائل میں مزید اضافہ ہوں ریکوڈک اور سیندک کے حوالے سے پوچھے گئے ۔
سوال میں انہوں نے کہا کہ یہ وفاق سے منسلک معاملہ ہے سابق حکومت نے انہیں تحریری طور پر اجازت دی تھی لیکن ہماری کوشش ہے کہ اس کا ازسر نو جائزہ لینے کے لئے ہم وفاقی حکومت سے اس معاملے کو اٹھائیں گے تاکہ ہم بلوچستان کے حقوق کے حصول کا دفاع کر سکیں اور صوبے کے وسائل کو حاصل کر کے انہیں بلوچستان کے عوام کی تعمیر وترقی پر خرچ کر سکیں۔
دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجوکی زیر صدارت سی پیک سے متعلق بلوچستان کے منصوبوں ، گوادر کی مجموعی ترقی اور اس حوالے سے ضروری قانون سازی سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لئے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں سی پیک میں شامل بلوچستان کے 18منصوبوں اور وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگرام میں شامل گوادر کی ترقی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے منصوبوں کی اب تک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں شریک متعلقہ محکموں اور اداروں کی جانب سے اجلاس کو تفصیلی بریفینگ دی گئی جبکہ منصوبوں کی پیش رفت کو تیز کرنے نگرانی کے عمل اور گوادر کی مقامی آبادی کے بنیادی سیاسی حقوق کے تحفظ کے لئے ضروری قانون سازی کے علاوہ آئینی تحفظ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی معاونت کے حصول سمیت کئی ایک اہم فیصلے کئے گئے اور محکمہ قانون ، محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر فوری عملدرآمد کے آغاز کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں سی پیک کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے بلوچستان بورڈ آف انوسٹمنٹ کو فوری طور پر فعال اور متحرک بنانے ،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی پالیسی کو کابینہ کے اجلاس میں پیش کر کے منظوری دینے ،خصوصی معاشی زونز کے قیام کے منصوبے پر بھرپور عملدرآمد کے لئے اتھارٹی کے قیام ، سی پیک کے منصوبوں کی پیش رفت تیز کرنے اور نگرانی کے عمل کے لئے ایک خود مختار ادارے کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں گوادر میں سرمایہ کاری ، صنعت کاری اور دیگر امور میں مقامی لوگوں کی شراکت داری اور علاقے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقعوں میں ترجیح دینے کو یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بدقسمتی سے سی پیک کی صورت میں ترقی کے روشن امکانات سے فائدہ اٹھانے اور سی پیک سے متعلق منصوبوں کی تیاری کو سنجیدگی سے نہیں لیاگیا تاہم ہم اب اس تاخیر کے ازالے کی کوشش کریں گے اور متعلقہ شعبوں میں ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اداروں کی استعداد کار میں بھی اضافہ کیا جائیگا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم پہلے ہی سے بہت وقت ضیائع کرچکے ہیں اور وقت کے مزید ضیاع کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ آج کے اجلاس میں متعلقہ محکموں کو روڈ میپ دے دیا گیا ہے اب یہ ان کی ذمہ داری کے وہ ان منصوبوں کو فاسٹ ٹریک میں چلائیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک اور گوادر کے منصوبوں سے متعلق تمام امور کو غیر سیاسی بنایا جائیگا اور ترقی کے ان شاندار مواقعوں سے بھرپور استفادہ کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔
اجلاس میں صوبائی وزراء میر ہاصم کرد گیلو، سید رضا آغا، وزیر اعلیٰ کے مشیر کہدہ بابر، اراکین اسمبلی ، میر حمل کلمتی انجینئرزمرک خان اچکزئی ، مفتی گلاب ، سابق صوبائی وزیرسید احسان شاہ، چیف سیکرٹری بلوچستان اورنگزیب حق، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (منصوبہ بندی و ترقیات) نصیب اللہ بازئی ، چیئرمین جی پی اے، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری مواصلات، ڈی جی جی ڈی اے اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
گزشتہ چار سالوں میں گوادر سمیت بلوچستان بھرمیں کوئی کام نہیں ہوا ،سی پیک سے متعلق قانون سازی کرینگے،قدوس بزنجو
![]()
وقتِ اشاعت : January 24 – 2018