|

وقتِ اشاعت :   January 27 – 2018

کراچی : وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری نے بلوچستان حکومت کی تبدیلی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ۔انہوں نے دوا نہیں صرف دعا کی ہے۔

بلوچستان میں حالات کی بہتری کے لیے وفاق سمیت تمام صوبوں کی مدد درکار ہے ۔صوبے میں آزادی کا کوئی نعرہ نہیں ہے ۔کوئی بھی بلوچی پاکستان سے جدا ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے ۔بھٹکے ہوئے نوجوان تیزی کے ساتھ قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں ۔

قومی دھارے میں لوگوں کو لانے کے لئے وفاقی حکومت کی ضرورت ہے۔بیرون ملک بیٹھ کر عیاشی کہ زندگی گزارنے والوں کو بیرونی مدد حاصل ہے۔سندھ پولیس نے مدد مانگی تو راؤ انوار کی گرفتاری میں بھرپور تعاون کریں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو مزار قائد اعظم محمد علی جناح پر حاضری کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ عبدالقدوس بزنجو نے بانی پاکستان کے مزار پر فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ میرا مزار قائد اور کراچی کا پہلا دورہ ہے ۔بابائے قوم ایک عظیم لیڈر تھے ملک کے لیے انکی بے مثال قربانیاں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کا شمار ملک کے بڑے رہنماؤں میں ہوتا ہے ۔آصف علی زرداری نے بلوچستان حکومت کی تبدیلی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ۔انہوں نے دوا نہیں صرف دعا کی ہے ۔بلوچستان میں ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر تبدیلی لائی گئی ۔

آصف علی زرداری کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں اور ان کی نیک خواہشات ہمارے ساتھ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب ہم کراچی آرہے تھے تو وزیراعلیٰ سندھ سید مرا علی شاہ نے ہمیں ملاقات کی دعوت دی تھی ۔صوبہ سندھ بلوچستان کے عوام کے لیے دوسرا گھر ہے ۔ملک کے باقی صوبے بھی ہمارے لیے محترم ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کے عشائیے میں بلوچستان کے طلبہ کی اسکالرشپس ،حب ڈیم اور دیگرامور پر بات چیت ہوئی ہے ۔ملاقات میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے ارکان بھی شریک تھے ۔اگر نواز شریف دعوت دیں گے ہم وہاں بھی ضرور جائیں گے ۔عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا بلوچستان میں کوئی رکن نہیں ہے۔نواز شریف نے بلوچستان کے مسائل پر توجہ نہیں دی۔

ثنااللہ زہری وزارت اعلی کے دوران صرف 24 فیصد بلوچستان میں رہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالات بہتر ہورہے ہیں ۔گزشتہ روز 200فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوئے ہیں ۔آنے والے دنوں میں بھٹکے ہوئے مزید نوجوان بھی قومی دھارے میں آئیں گے ۔

بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور رہے گا ۔نوجوانوں کو احساس ہوگیا ہے کہ انہیں استعمال کیا گیا ۔قومی دھارے میں لوگوں کو لانے کے لئے وفاقی حکومت کی ضرورت ہے۔بلوچستان میں آزادی کا کوئی نعرہ نہیں ہے ۔کوئی بھی بلوچی پاکستان سے جدا ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے ۔


کچھ بھٹکے ہوئے لوگ بیرون ملک بیٹھ کر عیاشی کی زندگی گذار ررہے ہیں ان عناصر کو بیرونی مدد حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں بلوچستان کے طالب علموں پر ظلم ہورہا ہے۔اس سلسلے میں ہم نے پنجاب حکومت سے بات کی ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سندھ پولیس نے مدد مانگی تو راؤ انوار کی گرفتاری میں بھرپور تعاون کریں گے ۔راؤ انوار ایران بارڈر کی طرف سے فرار نہیں ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے اگر ملک سے فرار ہونے کے لیے بلوچستان کا راستہ اختیار کیا تو ضرور گرفتار ہو جائیں گے ۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجونے بلوچستان اور سندھ کے مابین پانی سمیت دیگر تمام تصفیہ طلب امور کے افہام و تفہیم سے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یقین ظاہر کیا ہے کہ دونوں صوبوں کی سیاسی قیادت باہمی اتفاق رائے سے ان امور کو طے کرلے گی۔

گذشتہ شب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے بلوچستان کابینہ کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے قبل دونوں وزراء اعلیٰ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران دیگر امور کے علاوہ حب ڈیم کے پانی کے استعمال کی مد میں سندھ کے ذمے واجبات کی ادائیگی اور ارسا معاہدے کے تحت پٹ فیڈرکنال کے زریعہ بلوچستان کے حصے کے پانی کی فراہمی میں کمی کے مسئلے پر بھی بات چیت کی گئی۔

سابق صدر آصف علی زرداری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ دونوں صوبوں کی سیاسی قیادت نے پانی کے مسائل فوری حل کرنے لئے موثر اقدامات کرنے سے اتفاق کرتے ہوئے طے کیا کہ دونوں صوبوں کے متعلقہ حکام مشترکہ طور پر سفارشات مرتب کرنے کے صوبائی حکومتوں کو پیش کرینگے۔

ملاقات میں دونوں صوبوں کے مشترکہ سرحدی علاقوں میں سیکورٹی مزید بہتر بنانے اور دونوں صوبوں کی پولیس کے درمیان تعاون کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیرا علیٰ بلوچستان نے سندھ کے اعلیٰ تعلیمی اور تربیتی اداروں میں بلوچستان کے طلباء کے لئے مختص کو ٹہ میں اضافہ کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح ہمارے طلباء کو جدید تعلیم کے حصول کے مواقع ملیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بلوچستان کے طلباء کے مختص کوٹہ میں اضافے کی یقین دہانی کرائی۔

ملاقات میں بین الصوبائی رابطوں کے فروغ کو قومی یکجہتی کے استحکام کے لئے ناگزیر قرار دیا گیا۔ دونوں وزراء اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سندھ بلوچستان کے عوام رسم و رواج، ثقافت اور زبان میں مماثلت کی بنیاد پر دیرینہ رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں اور ان تعلقات کو سیاسی اور حکومتی روابط کے ذریعہ مزید فروغ دیا جائے گا۔