|

وقتِ اشاعت :   January 29 – 2018

گواد: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجونے کہا ہے کہ گوادر کے تمام وسائل اورساحل مقامی آبادی کی ملکیت ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ مقامی لوگوں اور غریب ماہی گیروں کی ترقی اور خوشحالی کے بغیر ہمارے لئے کوئی بھی میگا پراجیکٹ قابل قبول نہیں ہوگا۔

اگرہم خود ہی اپنے لوگوں کے مفادات اور حقوق کا تحفظ نہیں کرینگے تو باہر سے آنے والے بھی ہمارے لوگوں کو حقوق نہیں دینگے۔

پہلے ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرناہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر شہر کے دورے کے موقع پر شہریوں سے بات چیت اور صفائی کی ابتر صورتحال کی بہتری کے لئے ڈپٹی کمشنرکو ہدایات دیتے ہوئے کیا۔ اپنی گوادر آمد کے فوری بعد وزیر اعلیٰ نے بغیر پروٹوکول اور سیکورٹی کے شہر کا دورہ کیا اور صفائی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

وزیراعلیٰ نے مختلف مقامات پر رک کر شہریوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کی۔ وزیر اعلیٰ نے گوادر ٹاؤن میں صفائی کی ابتر صورتحال اوراس حوالے سے عوامی شکایات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر گوادر اور میونسپل کمیٹی کو ایک ہفتہ کے اندر صفائی کی صورتحال بہتر بنانے کا حکم دیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نیا گوادر تو تعمیر کر رہے ہیں لیکن گوادر ٹاؤن ابتر صورتحال پیش کر رہا ہے اور مقامی آبادی صحت و صفائی ، آبنوشی اور نکاسی آب کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی عوام کی خوشحالی سے آتی ہے جب تک عوام کو بنیادی سہولتیں نہیں ملتیں ترقی کے اہداف کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سی پیک اور گوادر پورٹ کی وجہ سے گوادر آنے والااعلیٰ شخصیات ، غیر ملکی مندوبین اور سرمایہ کار شہر کی حالت دیکھ کر کیا تاثر لیکر جائیں گے۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو دوروزہ دورہ پر اتوار کے روز گوادر پہنچے جہاں وہ پیر کے روز منعقد ہونے والے گوادر ایکسپو2018کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرینگے جسکے مہمان خصوصی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ہونگے۔

ائرپورٹ پر رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی، صوبائی مشیر کہدہ بابر، آئی جی پولیس، کمشنر مکران ڈویژن، علاقے کے عمائدین، پارٹی کارکنوں ور دیگر حکام نے وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔ صوبائی وزراء میر سرفراز بگٹی، میر عاصم کرد گیلو اور سابق صوبائی وزیر میر فائق علی جمالی بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجونے کہا ہے کہ مقامی لوگوں کے تحفظات دور کئے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا، عوامی نمائندہ ہوں عوام کے درمیان جانے میں خوشی محسوس کرتاہوں۔ گوادر کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانون سازی کریں گے، لوگوں کے درمیان جانا ان کے مسائل سننا اور انہیں حل کرنا ہی اصل حکمرانی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس گوادر میں کھلی کچہری میں لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، وزیر تعمیرات و مواصلات میر عاصم کرد گیلو، رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی ، وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے جی ڈی اے وبی ڈی اے میر کہدہ بابر، ایم این اے انجینئر عثمان بادینی آئی جی بلوچستان معظم جاہ انصاری، کمشنر مکران بشیر احمد بنگلزئی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع موجود تھے۔

کھلی کچہری میں بڑی تعداد نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو اپنے اپنے مسائل ومشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے حل کے لئے اقدامات کی درخواست کی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے موقع پر ہی متعدد درخواستوں پر فوری طور پر عمل درآمد کے احکامات جاری کئے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عوام کی طرف سے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ صوبائی حکومت لوگوں کے تمام جائز مسائل کے حل اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ عوامی شکایات پر منشیات کی روک تھام کے لئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا منشیات کی روک تھا م اور اسکے خاتمے کے لئے تمام وسائل برؤے کار لائے جائیں گے۔

اس سلسلے میں انہوں نے ضلعی پولیس آفیسر اور ڈپٹی کمشنر گوادر کو فوری طور پر ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتہ کے اندر اندر منشیات کے اڈے ختم اور ان میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے انہیں رپورٹ پیش کی جائے بصورت دیگر دوسری مرتبہ عوامی شکایات ملنے پر متعلقہ محکموں کے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان نے گوادر شہر کا دورہ کیا اور لوگوں سے گھل مل گئے ، لوگوں کے مسائل معلوم کئے انہوں نے عوامی شکایات پر گوادر شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا ۔میونسپل کمیٹی اور ڈپٹی کمشنر کو فوری طور پر ہدایات جاری کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گوادر شہر کی صفائی ستھرائی کر کے تمام ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اس موقع پر گوادر کے لوگوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو اچانک اپنے درمیان پاکر خوشی کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ نوجون وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ضلع گوادر کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجونے گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ میں حقیقی سرمایہ کاروں ، صنعت کاروں اور درآمدو برآمد کنندگان کو قواعد وضوابط او شفاف طریقہ کار کے مطابق پلاٹوں کی الاٹمنٹ یقینی بنانے اور اس حوالے سے شکایات کے فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر پورٹ اور سی پیک کے تناظر میں صنعت کاری کے فروغ سے علاقے اور صوبے میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے۔

اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ امور کو بروقت اور شفافیت کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے امور کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا۔ متعلقہ حکام کی جانب سے اجلاس کو بریفنگ دی گئی۔



صوبائی وزراء میر عاصم کرد گیلو، میر سرفراز بگٹی،رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلتی صوبائی مشیر میر کہدہ بابر اور دیگر متعلقہ حکام اجلاس میں شریک تھے۔وزیر اعلیٰ نے اس امر کو افسوسناک قرار دیا کہ طویل مدت گزرنے کے بعد بھی صنعت کاری اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے قائم کی گئی انڈسٹریل اسٹیٹ میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر مکمل نہیں ہوسکی جو صنعتوں کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعت کاری کے فروغ سے روزگاری کے مواقعوں میں اضافہ ممکن تھا جس سے گوادر کے عام آدمی کی زندگی میں خوشحالی آسکتی لیکن ماضی کی حکومتوں اور متعلقہ حکام کی عدم توجہی کے باعث ابھی تک انڈسٹریل اسٹیٹ فعال نہ ہوسکی۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ گوادر بندرگاہ کی تکمیل اور سی پیک کے زریعہ ہم نیا گوادر بسانے جارہے ہیں۔ جہاں فری زون قائم ہوچکا ہے اور سرمایہ کار گوادر کا رخ کر رہے ہیں ۔


اگر آج انڈسٹریل ا سٹیٹ مکمل اور فعال ہوچکی ہوتی تو صنعتیں بھی قائم ہونا شروع ہوجاتیں۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو انڈسٹریل اسٹیٹ میں بجلی پانی اور دیگر بنیادی ڈھانچہ کی فوری فراہمی اور حقیقی سرمایہ کاروں کو حوصلہ افزائی اور اعتماد کی بحالی کے لئے صنعتی اور تجارتی پلاٹوں کی شفاف الاٹمنٹ کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔