|

وقتِ اشاعت :   August 19 – 2018

دھاندلی دھاندلی کی شور سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی لیکن اگر اس قدر دھاندلی ہوتی تو چائے والا کیونکر کامیاب ہو کر اسمبلی میں پہنچ جاتا؟ برطانیہ جسے جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے وہاں بھی مجال ہے کہ کوئی چائے والا کامیاب ہو کر دارالعوام میں پہنچ جائے۔ 

البتہ بھارت میں ایک جھاڑو والا ضرور کامیاب ہوگیا تھا۔ اس چائے والے کی کامیابی سے اس بات پر مہر تصدیق ثبت ہوجاتی ہے کہ انتخابات کاانعقاد صاف وشفاف ہوا تھا اور دھاندلی کا شور شرابا صرف ناکامی چھپانے کا ایک بہانہ ہے اور اگر جمہوری عمل کا سلسلہ چلتا رہا تو اگلے عام انتخابات میں انشاء اللہ کوئی تخم فروش بھی کامیاب جائے گا اور انتخابات کی شفافیت پرمہر تصدیق ثبت ہوجائے گیا۔ا

اس وقت تجزیہ کار اور نگار دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ اگر انتخابات انجیئنرڈ ہوتے‘ اگر دھاندلی میں کسی خلائی مخلوق کا ہاتھ ہوتا توتخم فروش کیونکر کامیاب ہوجاتا ؟ 

اس کی کامیابی پر تجزیہ دیا جائے گا کہ یہ بات غلط ہے کہ پاکستان میں عام آدمی جمہوری سیاست کے ثمرات سے بہر آور نہیں ہوسکتا یا پاکستانی جمہوریت میں انتخابات لڑنے کے لئے دولت کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح 2013ء کے انتخابات میں جب سریاب چاغے قومی اسمبلی کی سیٹ کسی پٹھان نے جیت لی تو کہا گیا کہ کیوں نا، نہ جیتے !جب ہر قبیلے اور ہر گھر سے امید وار انتخاب لڑنے کیلئے نکلے گا تو ووٹ تو تقسیم ہونگے ہی، جس کی بنا پر پٹھان کامیاب حکمت عملی کے تحت سیٹ جیت گیا ۔

اس لیے اس میں کسی اچھنبے کی بات نہیں۔ حالانکہ بعد میں پٹھان قیادت بر ملا اس بات کا اظہار کرتی رہی کہ اگر ہم گوادر سے امیدوار میدان میں اتارتے تو وہ بھی کامیاب ہوجاتا ۔بالکل !اور گوادر کی جیتی ہوئی سیٹ کے بارے میں پاکستانی کمیو نسٹ دوست ضرور یہ دلیل دیتے کہ جب تک بلوچ متحد نہ ہوں تب تک اسے بادل نخواستہ یہ دن مجبوراًدیکھنے ہونگے اور یہ کوئی عام دلیل نہیں ہے۔ 

واقعتاً بلوچ متحد نہیں ہے اور قبیلے اور برادری چھوڑیں، پارٹیوں میں بھی منقسم قوم ہے لیکن نا سمجھ لوگوں کا کیا کیا جائے کہ وہ بلوچ کی ہر ناکامی کے پیچھے مقتدرہ کا ہاتھ ڈھونڈ نکالنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اگرملکی مقتدرہ حقیقتاً اتنی مضبوط ہوتی تو چائے والا کیونکر کامیاب ہوجاتا ؟

بس لوگ ہیں کہ جنہوں نے مقتدرہ کا ہوا بنارکھا ہے؟ چائے والے، تخم فروش، پالش والے اور بھیک مانگنے والوں کو کمتر گردانتے ہیں حالانکہ ہم نا چاروں نے بلوچستان میں بھیک مانگنے والوں کے برقعوں کے اندر الیکٹرانک کیمرے چھپائے دیکھیں ہیں ، جوگیوں کے جبے میں ٹی ٹی پسٹل دیکھی ہے ، پالش والے کے صندوق میں کلاشنکوف رکھی دیکھی ہے ۔

چنافروش کو لوگوں پر گولی چلاتے ہوئے دیکھا ہے‘ حجام کو نوکری کرتے دیکھا ہے لیکن ہمارا دانشور طبقہ مانتا نہیں کہ چائے والا کیسے انتخاب جیت سکتا ہے ؟گوکہ اب خبریںآرہی ہیں کہ یہ چائے والا کروڑوں کے جائیداد کا مالک ہے لیکن اللہ ان کو عقل سلیم عطا کر ے کہ کبھی کروڑوں سے کوئی انتخاب جیت سکتا ہے ؟

اگر اس طرح ممکن ہوتا تو ریاض ملک انتخاب لڑتا اور زبیدہ جلال اور اکبر اسکانی سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیتا لیکن یہ بات سراسر غلط اور لغو ہے اصل بات کروڑ پتی ہونے کی نہیں بلکہ چائے ، چنا اور تخم فروشی کی ہے ، پالش والا یا بھیک مانگنے والے کی ہے ، صاحب!