وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ہونے والی گزشتہ دنوں ون آن ون ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا نیا باب شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پُر امن، مستحکم، جمہوری اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے اورہم افغانستان سے مضبوط سیاسی، تجارتی، معاشی اور عوامی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی نے باہمی اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی تعاون کا نیا باب شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن و استحکام اور خطے کی خوشحالی کے لیے تعاون پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
عمران خان اور اشرف غنی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کاسا 1000 اور تاپی گیس پائپ لائن کی تکمیل سے طویل معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ کی تکمیل پر اتفاق ایک بہترین قدم ہے جو آئندہ آنے والے وقت میں خطے میں نہ صرف امن بلکہ خوشحالی لائے گا۔
تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اوربھارت شامل ہیں،یہ پائپ لائن ترکمانستان سے انڈیا کے صوبے پنجاب تک جائے گی۔تاپی کے تحت ایک ہزار آٹھ سو چودہ کلو میٹر لمبی پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے جو خطے کے ان چاروں ملکوں کو جوڑ دے گا۔اس پائپ لائن کو امن کا پائپ لائن کہا جا رہا ہے جو ان چاروں ملکوں کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تاپی گیس پائپ لائن کی لمبائی 18 سو کلو میٹر سے زیادہ ہے،اس کے ذریعے 33 ارب مکعب میٹرگیس سالانہ فراہم کی جائے گی۔اس منصوبے کی کل لاگت کا تخمینہ ساڑھے سات ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔2008 میں اس وقت کے تیل کی وزارت کے وزیر خواجہ آصف اپنے انڈین ہم منصب مرلی دیورا سے تاپی پروجیکٹ کے بارے میں اسلام آباد میں میٹنگ بھی کی تھی،دسمبر دو ہزار دس میں چاروں ملکوں کے توانائی کے وزراء نے اس پائپ لائن کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اس معاہدے کے تحت پاکستان اور انڈیا بیالیس بیالیس فیصد حصہ خریدیں گے۔افغانستان کو اس پائپ لائن سے سالانہ راہداری کی مد میں چالیس کروڑ ڈالر حاصل ہوں گے۔
یہ پائپ لائن افغانستان کے شہر ہرات اور قندھار سے گزرتی ہوئی پاکستان کے شہر کوئٹہ تک لائی جائے گی اور یہاں سے اس کو ملتان سے جوڑا جائے گا۔اس پائپ لائن کا آخری سرا انڈیا کے صوبے پنجاب میں فضلیکہ کے شہر میں ہوگا۔تاپی گیس منصوبہ خطے میں پڑوسی ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کیلئے ایک اہم پیشرفت ثابت ہوسکتا ہے۔
اس منصوبہ میں پاکستان، افغانستان اور بھارت شامل ہیں جن کے درمیان فاصلے موجود ہیں اور بہت سے سیاسی مسائل ان کی وجوہات بنی ہوئی ہیں تو دوسری جانب دہشت گردی کی جنگ نے بھی بہت سے ابہام پیدا کئے ہیں مگر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں پڑوسی ممالک بھارت اور افغانستان کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دی ہے کہ ان مسائل کو بیٹھ کر ہی حل کیاجاسکتا ہے۔
بجائے الزام تراشی کے جو فاصلوں کا سبب بنتی ہے،اس کو ختم کرنا چاہئے، امید ہے کہ اس منصوبہ سے بات چیت کے دروازے بھی کھلیں گے تاکہ خطے میں موجود کشیدگی میں کمی آسکے اور یہ نیا سفرہمیں خوشحالی اور دیرپا امن کی طرف لے جاسکے۔