|

وقتِ اشاعت :   August 17 – 2020

وزیر اعظم عمران خان نے یوم آزادی کے موقع پر قوم کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز سے طویل مذاکرات کے بعد ہمارا معاہدہ ہوگیا جس سے بجلی سستی ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان نے کورونا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ شاید ہی کسی قوم نے اس کامیابی سے وبا میں ایسا بیلنس کیا ہو جیسا پاکستان نے کیا، ہمارے اقدامات پر لوگوں نے مثبت رد عمل دیا، آج معیشت بھی چل رہی ہے اور ملک میں کورونا کے کیسز بھی کم ہوئے۔ ہمارے 2 سال مشکل گزرے، اس کے بعد معیشت اٹھی، جب حکومت ملی تو زرمبادلہ کے ذخائر نہیں تھے، قرض واپس کرنا مشکل تھا، جب روپیہ نیچے گرتا ہے تو باہر سے خریدی جانے والی چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں، جانتا ہوں کہ کس طرح لوگوں کے حالات مشکل تھے اور اب بھی ہیں لیکن خوشخبری یہ ہے کہ اب حالات بہتر ہورہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم منزل پر پہنچ جائیں گے، لوگوں کا اعتماد آیا ہے، اس لیے اسٹاک مارکیٹ تیزی سے اوپر بڑھنا شروع ہوگئی ہے، اللہ کا شکر ہے آج ہماری آمدنی بڑھنا شروع ہوگئی ہے، کورونا وباء کے باوجود ٹیکس محصولات بڑھنا شروع ہوگئے ہیں، ساری دنیا میں ایکسپورٹ کو نقصان ہوا مگر ہماری ایکسپورٹ بڑھنا شروع ہوگئی ہے، اب حالات مزید بہتر ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ جب اقتدار ملا تو دو بوجھ تھے، ایک ماضی کی حکومتوں کا قرض اور دوسرا بوجھ پاور سیکٹر کا تھا، بجلی مہنگی بن رہی ہے اس لیے ہماری صنعت دیگر ممالک کا مقابلہ نہیں کرسکتی، بجلی مہنگی بن رہی تھی جس کی وجہ سے بجلی مہنگی دینا پڑ رہی تھی، انڈیپینڈینٹ پاور پروڈیوسرز سے مذاکرات کافی دنوں سے چل رہے تھے، ان کے ساتھ نئے معاہدے کریں گے جس سے بجلی سستی ہو گی، یہ معاہدے بجلی کی پیداواری لاگت اور گردشی قرضہ کم کرنے میں مدد کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر میں وراثت میں ملے نقصان دہ ڈھانچے کو ٹھیک کررہے ہیں،ہم بجلی مہنگی خرید رہے ہیں اور کم قیمت پر بیچ رہے ہیں، آئی پی پیز سے طویل مذاکرات کے بعد ہمارا معاہدہ ہوگیا، بجلی کی پیداواری قیمت کم ہونا شروع ہوجائے گی جس سے صنعت اور عوام کو فائدہ ہوگا جبکہ بجلی کی چوری اور لائن لاسز کم کرنے کے لیے جامع پیکج لارہے ہیں، ان اقدامات سے ان شاء اللہ بجلی کی قیمت کم ہوگی۔

ملک میں معاشی بحران کا تسلسل آج کا نہیں بلکہ کئی ادوار سے چل رہا ہے اور آنے والی حکومت کو قرضہ واپس کرنے کیلئے ٹیکس میں اضافہ اور دوبارہ قرض لیکر معیشت کی پہیہ کو چلانا ہوتا ہے یہ صرف ہمارے یہاں کی صورتحال نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی قرض لیتے ہیں مگر اس کے بعد وہ اپنے ان شعبوں پر زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں جن سے محاصل بڑھے تاکہ چند برسوں کے دوران معیشت مستحکم ہوسکے اور قرض دینے کیلئے مزید ٹیکسز کا بوجھ عوام پر نہ ڈالاجاسکے چونکہ شعبے ترقی کرنے لگتے ہیں تو وہاں آمدن بہتر طریقے سے قومی خزانے کو مل جاتاہے مگر بدقسمتی سے بہترین معاشی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل یہ بحرانات سر اٹھاتے ہیں اور ان کا حل مستقل بنیادوں پر نہیں نکالاجاتا حالانکہ پاکستان پیداواری اور معدنی لحاظ سے اہم ملک ہے مگر ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن دونوں ہی مسائل کا سبب ہیں اگر ان خامیوں کو دور کیاجائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ملکی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہوجائے گی اورزیادہ قرض لینے کی نوبت نہیں آئے گی۔

دوسرا قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے معاشی حوالے سے اگر فیصلے کئے جائیں تو بجلی جیسے اہم بحران کا حل بھی نکل سکتا ہے ایران پہلے بھی پاکستان کو سستے داموں بجلی فراہم کرنے کی پیشکش کرچکا ہے مگر حکمرانوں نے دلچسپی نہیں لی صرف مکران کو ایران سے بجلی فراہم کی جاتی ہے اگر بجلی اور گیس معاہدے ایران سے کئے جائیں تو معاشی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ حال ہی میں چین نے ایران کے ساتھ معاہدے کئے تو پاکستان کیونکر نہیں کرسکتا جب تک عالمی دباؤ سے نہیں نکلیں گے توقرض لینے اور بحران در بحران جیسے تلوار سر پر لٹکتے رہینگے لہٰذا قومی مفادات کو جب تک اولیت نہیں دی جائے گی مسائل جوں کے توں رہینگے۔ امید ہے کہ موجودہ حکومت معاشی بہتری اور بحرانات سے نکلنے کیلئے کسی دباؤ کے بغیر فیصلے کرے گی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کیلئے اقدامات اٹھائے گی تاکہ ملک مشکل حالات سے جلد نکل سکے۔