|

وقتِ اشاعت :   August 19 – 2020

وفاقی حکومت نے دوسال کے دوران وزراء کی کارکردگی کی رپورٹ جاری کردی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے اور ہم عوام کے سامنے حکومت کی 2سالہ کارکردگی پیش کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست کا مقصد فلاحی ریاست کا قیام ہے۔ ہم ذاتی مفادات کے لیے سیاست نہیں کرتے۔احتساب، انصاف، میرٹ اور پسماندہ طبقے کی ترقی وزیراعظم کا وژن ہے۔

ہمارا مقصد حکومتی کامیابی کی تشہیر نہیں۔بہرحال حکومت کے دو سال کے دوران احتساب، انصاف، میرٹ اور پسماندہ طبقات کی ترقی کے حوالے سے کوئی خاص اقدام دیکھنے کو نہیں ملا،حسبِ روایت ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت کو اپنے دور کی کارکردگی اچھی لگ رہی ہے۔بدقسمتی سے آج بھی احتساب کے حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں، انصاف کی فراہمی کے جو دعوے پی ٹی آئی نے کئے تھے حکومت ملنے کے بعد نتائج اس کے برعکس ہیں، میرٹ کا عالم یہ ہے کہ اوپر سے لیکر نیچے تک منظور نظر افراد کو کسی نہ کسی طور نوازا جارہاہے۔

اور پسماندہ طبقات بدترزندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جس سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں چونکہ حکومت آج ہے کل نہیں مگر اس کی کارکردگی تاریخ کا حصہ بنتی ہے۔ جس نظام کو بدلنے کا نعرہ لیکر پی ٹی آئی تھی اس کلچر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی مگر اب بھی حکومت کے پاس تین سال کی مدت ہے کہ وہ کچھ ایساکارنامہ کردکھائے جس کی مثال دی جاسکے۔ دوسری جانب وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے محکمہ کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دور میں پاکستا ن کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا۔

خارجہ پالیسی میں دائمی حریف کے مقاصد کودیکھنا ہوتا ہے۔ دو سال کے دوران ہماری کوشش رہی پاکستان کے موقف کو بھرپوراندازمیں پیش کیا جائے۔ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔ خطے کے ممالک سے تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال کے دوران افریقی ممالک سے تجارتی اشتراک اور باہمی تعلقات کی بہتری پر توجہ دی گئی۔شاہ محمود کا کہنا تھا کہ ہم چین کے اسٹریٹجک تعلقات کو معاشی تعلقات میں بدل رہے ہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا، مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر عمران خان نے اٹھایا اور دنیا نے مقبوضہ کشمیرپر پاکستان کاموقف تسلیم کیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے یواین اسمبلی میں اسلام،مقبوضہ کشمیر اور یورپی ممالک کے تعصب پر بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم افریقی ممالک سے تعلقات بڑھا رہے ہیں جو بہت بڑی مارکیٹ ہے جس پر ہماری توجہ نہیں تھی۔محکمہ خارجہ کے حوالے سے گزشتہ دنوں شیریں مزاری نے وزارت خارجہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

خاص کر کشمیر کے مسئلہ پر انہوں نے کڑی تنقید کی کہ جو کردار وزارت خارجہ کو ادا کرنا چاہئے تھے وہ نہیں کیا گیا بلکہ وزیراعظم عمران خان نے بہتر انداز میں کشمیر کامقدمہ عالمی سطح پر لڑا۔ بعض مبصرین شیریں مزاری کے اس بیانیہ کو اندرون خانہ اختلافات سے نتھی کررہے ہیں کہ ان کا ہدف محکمہ خارجہ نہیں بلکہ وزیرخارجہ تھے اور یہ آج کی بات نہیں گزشتہ چندماہ سے یہ معاملات چل رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے وزراء کے درمیان اندرون خانہ اختلافات ہیں۔

مگر شیریں مزاری کو ادارہ پر تنقید سے گریز کرنا چاہئے تھا کیونکہ شخصیات کی لڑائی میں ادارے کو درمیان لانے سے غلط تاثر جائے گا۔امید ہے کہ وزراء آئندہ اختلافات کی بجائے گڈگورننس اور محکموں کی بہتری پر توجہ دینگے۔