|

وقتِ اشاعت :   October 1 – 2020

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ کا قانون بھی طاقتور کو نہیں پکڑ سکتا۔ صرف ایک طبقے کیلئے پلاننگ کرنے سے ملک پیچھے رہ گیا۔ انصاف پر ترقی نہ ہو تو معاشرے پر اثرات پڑتے ہیں۔اسلام آباد میں یونیورسل فنڈ کی جانب سے بلوچستان اور سندھ میں ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ سروسز کے کنٹریکٹ ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ماضی میں نظرانداز کیا گیا۔ سوئی کاعلاقہ گیس کے ذخائر کے باوجود پیچھے رہ گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دے رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صرف ایک خاص طبقے کو اچھی تعلیم کی سہولت میسر ہے۔ نظام تعلیم میں بھی بہتری کی ضرورت ہے۔ 60 کی دہائی میں پاکستان تیزی سے ترقی کررہا تھا۔ 60 کی دہائی میں سرکاری اسپتالوں میں بہترین علاج ہوتا تھا۔ جنوبی کوریا اور ملائیشیا جیسے ملک بھی اب ہم سے آگے نکل گئے۔ بڑے بڑے ممالک پاکستان کو دیکھنے آتے تھے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں غریب طبقے کو اوپرلانا ہمارا وژن ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن پاکستان کا مستقبل ہے۔ آئی ٹی سیکٹر پرخاص توجہ دے رہے ہیں۔ خوش آئند بات ہے کہ ملک جدت کی طرف جارہا ہے۔

واضح رہے کہ دو دن قبل پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ غریب طبقے کی زندگی بہتر بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ماضی میں سرکاری اسپتالوں کا معیار بہت اچھا تھا۔ 60 کی دہائی میں پاکستان میں نجی اسپتال شروع ہوئے۔ 60 کی دہائی سے قبل سربراہان بیرون ملک علاج نہیں کرواتے تھے۔ 70کی دہائی کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔وزیراعظم نے کہا تھا کہ امید ہے سرکاری اسپتال اب رول ماڈل بنیں گے۔ سزا اور جزا کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ہرادارے میں میرٹ لائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سوئی کے علاقے کی مثال اور بلوچستان کی ترقی کے متعلق ہر وفاقی حکومت نے بات کی ہے مگر عملاََ بلوچستان کو کبھی ترجیح نہیں دی گئی۔جہاں تک سرکاری اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی صورتحال ہے تو ملک بھر میں یہ دونوں شعبے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں شعبے ملک میں منافع بخش کاروبار کا درجہ پا چکے ہیں ملک کا کوئی ایسا شہر اور قصبہ نہیں کہ جہاں پر پرائیویٹ اسپتال اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے نہ ہوں مگر اس کی ذمہ دار بھی حکومتیں ہیں جنہوں نے ان دو شعبوں میں ذاتی دلچسپی کبھی نہیں دکھائی۔

سرکاری اسپتالوں میں معمولی ادویات تک دستیاب نہیں ہوتے تودیگر سہولیات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے،لیبارٹریز میں مشینری خراب ہونے کی وجہ سے لوگ باہر سے اپنے ٹیسٹ کراتے ہیں جبکہ ادویات بھی باہر میڈیکل اسٹورز سے خریدتے ہیں جب انہیں یہ سہولیات میسر نہیں ہونگی تو کیونکر یہ سرکاری اسپتالوں میں علاج کیلئے جائینگے جہاں پر ڈاکٹرز بھی اپنی مرضی سے ڈیوٹی دیتے ہیں اور کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔اسی طرح تعلیمی اداروں کی حالت ہے کہ کلاس رومز میں بنچ ٹوٹے پھوٹے ہوتے ہیں، خستہ حالت دیواریں، معصوم بچے فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

جبکہ واش رومز سمیت دیگر سہولیات کی صورتحال بھی اسی طرح ہے کہ لوگ مجبوراََ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو علم کے حصول کیلئے بھیجتے ہیں تاکہ وہ بہترین اور معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکولز میں موجود سہولیات سے بھی مستفید ہوں۔ یہ سلسلہ تب تک چلتا رہے گا جب تک حکمران طبقہ خود اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھائینگے اور اپنا علاج سرکاری اسپتالوں میں نہیں کرائینگے، ایسا ہونے پر ہی بہتری کی امید کی جاسکتی ہے وگرنہ یہ صورتحال اسی طرح رہے گی اور ہمارے ہاں صرف بہتری کے دعوے کئے جاتے رہینگے۔