|

وقتِ اشاعت :   November 4 – 2020

مڈل اسکول میں تاریخ اور شہری حقوق کے مضامین پڑھانے والے استاد سیمیول پیٹی کو پیرس کے ایک مضافاتی قصبے میں قتل کردیا گیا۔ حملہ آور کی شناخت ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ فرانس میں پناہ گزیں 18برس کا ایک چیچن تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے ”اللہ اکبر“ کا نعرہ لگاتے ہوئے مقتول پر کئی وار کیے۔ اس کے بعد حملہ آور نے سیمیول پیٹی کے سر کی تصویر کے ساتھ ایک ٹوئٹ کیا جس میں لکھا”میں نے محمد ﷺ کی اہانت کرنے والے ایک کتے کو انجام تک پہنچا دیا“۔ چند منٹوں بعد ہی حملہ آور کو گولی مار دی گئی۔

مسلمان نبی اکرم ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی جسارت برداشت نہیں کرتے اور اس حوالے سے تضحیک کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی کوئی بھی حرکت شدید رد عمل جنم دینے کے لیے کافی ہے۔ اصل معمہ یہ ہے کہ فرانس جیسے ”مہذب“ اور ”روشن خیال“ ملک کے ایک اسکول میں تاریخ اور شہری آداب کا استاد جو برسوں مسلمان طلبا ء کو بھی پڑھا چکا ہو، وہ اس معاملے کی حساسیت سے کیسے بے خبر تھا۔ خود کو تعلیم یافتہ اور مہذب کہلانے والے یورپی جو دہائیوں سے اسلام اور اس کے مقدسات کی تضحیک کررہے ہیں وہ اس کے نتائج سے سیکھنے کے لیے کیوں تیار نہیں؟

1988میں ملعون رشدی کی کتاب کی اشاعت کے بعد یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ اس حوالے سے کس قدر حساسیت پائی جاتی ہے۔ اور جس ملک میں آزادی مذہب کو بنیادی اصول کی حیثیت حاصل ہو وہاں اس بات کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟ اس مسئلے کو صرف تین دہائیاں نہیں گزریں بلکہ بہت پہلے ہی ”آزادی اظہار“ کی آڑ میں اسلام اور اس کی مقدس ہستیوں کی گستاخی کو جواز دے دیا گیاتھا۔ کسی بھی احمق اور بددماغ کا جو جی میں آئے پراپیگنڈہ کرنے کا آئینی حق تسلیم کرلیا گیا۔ یورپ میں عیسائیت اور اس کے عقائد کا مذاق اڑانے کی اجازت اس لیے دی گئی کہ ایک سیکیولر سوسائٹی میں ان کے وجود ہی پر شبہات پیدا کردیے گئے۔

اس لیے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس حوالے سے فن لینڈ کے وزیر خارجہ پیکا ہاوستو کا بیان اہل مغرب کے لیے چشم کشا ہے جس میں وہ کہتے ہیں:”میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب ہم سیاہ فاموں کی تضحیک کرتے ہیں تو اسے نسل پرستی قرار دیا جاتا ہے، جب کوئی یہودیوں کی توہین کرے تو اسے سامی دشمنی یا اینٹی سیمیٹزم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تحقیر اگر عورت کی ہو تو اسے سیکسزم بتایا جاتا ہے لیکن جب ہم مسلمانوں کا مذاق اُڑاتے ہیں تو اسے آزادی اظہار کہہ دیا جاتا ہے۔“پوری دنیا میں مسلمان دشواریوں کا سامنا کررہے ہیں اور ان میں فرانس کے ساٹھ لاکھ مسلمان بھی شامل ہیں۔

شدت پسند مذہبی پیشوا جب گستاخوں کو قتل کرنے پر جنت کی خوش خبریاں سنارہے ہوں تو ایسے حالات میں ایسی کسی بھی حرکت سے تشدد کو ہوا دینا سازگار ہوجاتا ہے۔ جس کے بعد اسلام سے عناد رکھنے والوں کو کھل کھیلنے کا موقعہ ملتا ہے۔ گیرت ویلڈر اور شارلی ہیبڈو جیسے بد خصلت عناصر اس موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گردنیں مارنا اور کسی بھی قسم کا پُر تشدد ردّ عمل اس مسئلے کا حل نہیں۔ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ یورپ کی جڑوں میں اُتری ہوئی اسلام دشمنی اور نسل پرستی کو عیاں کیا جائے جو انہیں اسلام کو مسترد کرنے، اس کا مذاق اُڑانے اور ایسے ہی رویوں کا اصل محرک ہیں۔

یہی تفاخر اور بغض ہے جس کی بنا پر وہ فیصلہ صادر کرچکے ہیں کہ اسلام اور مسلمان پس ماندگی اور جدید تہذیب سے دوری کی علامت ہیں۔ یورپ کا اپنا سایہ ہی اس کا تعاقب کررہا ہے۔ یورپ اور مغرب میں اسلامو فوبیا ایک دیرینہ مرض ہے۔ صلیبی جنگیں، اسپین میں مسلمانوں کی سلطنت جو آٹھویں صدی میں فرانس کے دروازے پر دستک دے رہی تھی اور چودھویں سے سولہویں صدی تک سلطنت عثمانیہ سے یورپی ممالک خوف زدہ رہے، یورپ نے آج بھی اس تاریخ کو فراموش نہیں کیا۔ مسلمانوں کے اس عروج کے زیر اثر جرمن پیشوا مارٹن لوتھر نے کلیسیا میں اصلاحات متعارف کروائیں اور صلیبی جنگوں کے لیے یہ جواز گڑھا کہ مسلمان غیر مہذیب درندے ہیں۔

اسلام انہیں قتل و غارت اور عورتوں سے بد سلوکی سکھاتا ہے اور مسیحیوں کی بداعمالی کی وجہ سے خدا نے عذاب بنا کر اس قوم کو ان پر مسلط کردیا ہے۔ اس نے مسیحیوں کو چرچ کا وفادار رکھنے کے لیے ان میں اسلام کا خوف پروان چڑھایا۔ یورپ میں جمہوریت، آزادی اور ارزاں قدرتی وسائل اور یورپی مصنوعات کے لیے منڈیوں کے طور پر نوآبادیات کی افادیت کے حوالے سے پائے جانے والے تصورات پر برطانیہ کا بہت گہرا اثر ہے۔ 1858میں اپنے معاہدے کی تنسیخ تک ایسٹ انڈیا کمپنی میں خدمات انجام دینے والے جون اسٹارٹ مل نے آخری سانس تک استعماریت کا دفاع اس بنیاد پر کیا کہ نوآبادیات کے لوگ غیر مہذب ہیں

اور اس لیے وہ حکمرانی کی اہلیت نہیں رکھتے ، یہ حق یورپیوں کو حاصل ہے۔ 1859میں آزادی پر شائع ہونے والے اپنے مضامین میں اس نے اس تصور کو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ مسلمانوں سمیت یورپی نوآبادیوں میں بسنے والوں کو اسی نظریے سے دیکھا جاتا تھا۔ سفیدفاموں کی برتری کے اس نسل پرستانہ تصور سے مغرب پوری طرح چھٹکارا حاصل نہیں کرسکا۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب ہندوستان میں انگریزوں کے کلبوں کے باہر ”ہندوستانیوں اور کتوں کا داخلہ منع ہے“ جیسے حکم نامے آویزاں ہوتے تھے۔

عالمگیرت نے، جو کہ استعمار ہی کی ایک شکل ہے، لاکھوں مسلمانوں کو روزگار کی تلاش میں یورپ اور امریکا کی طرف دھکیلا۔ یورپ نہ تو ماضی میں اس مسئلے کے لیے تیار تھا اور نہ ہی آج وہ اسلام اور مسلمانوں کے مسائل سمجھنے کے لیے تیار ہے۔ فرانس محض ایک مثال ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بحران کا مستقبل کیا ہوگا؟ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تشدد مسئلہ حل نہیں کرتا بلکہ اس سے مزید تشدد ہی جنم لیتا ہے اس لیے ہمیں دوسرا راستہ تلاش کرنا ہوگا اور وہ یہ ہے کہ ہم پُرامن رہیں۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی قرارداد منظور کی۔

فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ مسئلے کا حل نہیں، ایسے اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے۔ ڈینش مکھن اور پنیر آج بھی بازار میں موجود ہیں اور ان کے خریدار بھی۔ پھر ہم فرانس کی کونسی مصنوعات استعمال کرتے ہیں؟ ہوسکتا ہے ہماری مسلح افواج فرانس کے جدید ہتھیار اور آبدوزیں استعمال کرنا چھوڑ دیں، اس سے عام مسلمانوں کا کیا فائدہ ہوگا؟ گزشتہ بدھ کو وزیر اعظم عمران خان نے مسلمان رہنماؤں کو لکھے گئے خط میں اسلاموفوبیا کی روک تھام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی دعوت دی۔ یہ اقدام مددگار ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے بہت وقت درکار ہے۔

مسلمانوں کے اتحاد کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔ اسلام کے بارے میں ہماری اپنی کج رَوی صدیوں پر محیط ہے اور پلک جھپکتے سبھی راہ پر آجائیں ایسا ممکن نہیں۔ ہم میں سے ہر ایک یہ ضرور کرسکتا ہے کہ اسلاموفوبیا کی تاریخ کا مطالعہ کرے اور معقول دلائل کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرے۔ ہمیں اہل مغرب کو ان کی کمزوریوں اور غلط فہمیوں کا احساس دلاتے ہوئے ان سے بات کرنا ہوگی، یہ دلائل اسی زبان اور انداز میں دینا ہوں گے جو وہ سمجھتے ہیں۔ ان کے گڑھے ہوئے افسانوں کا جواب منطق اور دلیل ہی سے ممکن ہے۔

سیمیول ہنٹگٹن نے ”تہذیبوں کے تصادم“ کا تصور پیش کیا تھا جس کے مطابق سرد جنگ کے بعد کی دنیا میں پیدا ہونے والے تنازعات اور جنگوں کی بنیاد ثقافتی اور مذہبی شناخت ہوگی اور یہ جنگیں ملکوں نہیں بلکہ مختلف ثقافتی اور تہذیبی اکائیوں کے درمیان ہوں گی۔ ہنٹگنٹن کا یہ تصور جرمن تاریخ داں اوسولڈ اسپینگلر کے تصورات کے قریب تر تھا۔ اسپنگلر نے یورپ کی مرکزیت پر مبنی تاریخ کے تصور کو مسترد کیا تھا۔ اس نے خاص طور پر ”قدیم، قرون وسطیٰ اور جدید“ ادوار کے مغربی تصورات کی بنا پر دنیا کو دیکھنے کے نظریے کو مسترد کیا تھا۔

مغربی مفکرین کا خیال ہے کہ پوری انسانیت بھی اسی دوری ترتیب سے گزر کر ارتقا کی منازل طے کرے گی اور اسپنگلر نے اس تصور کو رد کیا۔ اسپنگلرکے مطابق مغربی دنیا اپنے اختتام کے قریب ہے اور اپنا آخری دور دیکھ رہی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ زوالِ مغرب کے اس دور میں جمہوریت محض سرمائے کا ہتھیار بن جائے گی اور میڈیا وہ ذریعہ ہوگا جس کی مدد سے سرمایہ سیاسی نظام کو چلائے گا۔ اسپینگلر کی فکر سے اخذ کردہ تناظر کے مطابق ہنٹگنٹن کا خیال ہے کہ نظریات (جدت پسندی، روایت پسندی اور اشتراکیت وغیرہ) کا عہد ختم ہوچکا اور اب دنیا تہذیبی تنازعات کا میدان بن چکی ہے۔

ہنٹگنٹن نے خود بھی یہ وضاحت کی کہ وہ تہذیبوں کے مابین تصادم کی وکالت نہیں کرتا۔ لیکن وہ شاید یہ بھول گیا کہ اس کا پیش کردہ تناظر ایسی کسی صورت حال سے گریز کے بجائے اس کے جواز کے لیے پیش ہوگا۔ ہنٹگنٹن کے ایک اور ناقد، سابق ایرانی صدر محمد خاتمی نے ”تہذیبوں کے تصادم“ کے مقابلے میں ”تہذیبوں کے مابین مکالمے“ کا متبادل تصور پیش کیا تھا۔ تاہم موجودہ عالمی سیاست سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ تہذیبیں خاموشی سے دَم نہیں توڑ جاتیں بلکہ اپنے احیا کی ناکام ہی سہی لیکن کوششیں ضرور جاری رکھتی ہیں۔

قیام پاکستان کے وقت مسلمانوں کے بڑے حلقے میں یہ تحفظات پائے جاتے تھے کہ علیحدہ ملک کے قیام کے بعد بھی اس کی آبادی سے زیادہ مسلمان بھارت میں رہ جائیں گے۔ ایک اعتبار سے ان کے تحفظ کی ذمے داری بھی ہم پر ہے کہ ہندو شدت پسندی سے اسی زبان میں بات کی جائے جو وہ سمجھتے ہیں اور گزشتہ ہزار برس سے سمجھ رہے ہیں۔ ہندو انتہا پسند بی جے پی نے بھارتی مسلمانوں (جو کہ کل آبادی کا 16فی صد ہیں) کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے وہ ہمارے صبر کا بھی امتحان ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ قائد اعظم نے قیام پاکستان ناگزیر ہونے پر کیوں اصرار کیا۔

کشمیر میں بی جے پی کے اقدامات سے ان کی سفاکی اور اذیت پسندی عیاں ہوگئی۔ اونچی ذات کے ہندو بھارت کی دلتوں، مسلمانوں، مسیحیوں اور قبائلیوں وغیرہ کی آبادی کے مقابلے میں اقلیت ہیں۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ یورپ اور امریکا میں بسنے والے مسلمان بھی اقلیت میں ہیں۔ کیا ہم یہ چاہیں گے کہ وہ مکالمے کو مستردکردیں اور خود کوتنہا کرکے تصادم و تشدد میں جھونک دیں؟ فرانس میں جو ہوا غلط تھا۔ وہاں ہونے والے واقعات کے بعد فرانسیسی صدر کا ردعمل بھی ناقابل قبول ہے۔ تاہم جذبات کی یہ فضا مزید تصادم اور تشدد کو جنم دے اس سے قبل مکالمے کی طرف آناہوگا۔

فرانس سے ہمارے تعلقات دوستانہ رہے ہیں اور دباؤ کے باوجود اس نے ہمیں ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی نہیں لگائی۔ نبی اکرم ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی بھی قابل مذمت ہے اور ہمیں اس پر پُرزور مؤقف پیش کرنے میں کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہمیں تصادم و تنازعات سے گریز کرتے ہوئے فوری طور پر مکالمے کا آغاز کرنا ہوگا۔ بائیکاٹ کے بجائے مکالمہ ہی اس مسئلے کا مؤثر حل ہے۔
(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)