فلسطین صرف ’زمین ‘ کا مسئلہ نہیں (حصہ دوئم )

Posted by & filed under اہم خبریں.

فلسطین اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کے مظالم کی حمایت کوئی نہیں کرسکتا، یہ صورت حال بد سے بدترین ہوتی جارہی ہے۔ تاہم ستم رسیدہ فلسطینیوں کے مصائب دور کرنے کے لیے کوئی قابل عمل حل تلاش کرنا ہوگا۔ 2003میں میری جن بھی اسرائیلیوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے اکثر نے یہ تسلیم کیا کہ دوسرا انتفادہ اسرائیلی قبضے کے خلاف عالمی رائے عامہ کو بیدار کرنے میں بہت کامیاب رہا۔ اس کے برعکس نو گیارہ حملوں کے بعد ہونے والے خود کُش حملوں پر دنیا کا مخالفانہ ردعمل سامنے آیا اور ان سے اسرائیل کو ان بمباروں سے تحفظ کے لیے کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کرنے کا جواز تراشنے کا موقعہ مل گیا۔ ایسے کسی مستقبل بندوبست کا کوئی اخلاقی جواز نہیں لیکن کسی کے تحفظ کے حق سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان اور بنگلا دیش

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

1971میں حالات کے جبر اور ہماری سنگین غلطیوں سے لگنے والے تاریخ کے زخم بھرنے اور جذبہ انتقام کے سرد ہونے کے لیے پچاس سال کا عرصہ کافی ہے۔ اس عہد کی تاریخ لکھنے کے حوالے سے پاکستان اور بنگلا دیش کے اپنے اپنے مسائل ضرور ہیں لیکن یہ تسلیم کرنے کا وقت آچکا ہے کہ ہمیں اب آگے بڑھنا ہوگا۔ 80 کی دہائی اور بعدازاں 21ویں صدی کے آغاز پر ہمارے تعلقات بہتری کی راہ پر تھے۔ اس حوالے سے حمو دالرحمان کمیشن رپورٹ کی اشاعت ان قربتوں کو بڑھانے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوسکتی تھی۔

آئندہ 45دن اہم کیوں ؟

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

3نومبر کو امریکی انتخاب سے لے کر آئندہ برس 20جنوری کو نئے صدر کے حلف لینے تک یہ دن بے یقینی کے ہیں۔ جن ریاستوں میں ٹرمپ کے خیال میں بڑی انتخابی دھاندلی ہوئی تھی وہاں بھی ان کے اپنے مقرر کردہ ججوں نے ان کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ اپنی انتخابی فتح پر بضد ہیں۔ اب تو ٹرمپ کے اٹارنی جنرل ولیم بار جیسے قریبی ترین ساتھی بھی ان کے انتخابی دھاندلی کے بیانیے کو اعلانیہ بے سروپا قرار دے چکے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والے ٹرمپ کے پیغام پراب کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

یوریشیا؛ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

سال کے آغاز میں جب کورونا وائرس کی وبا پھوٹی تو اندازے یہی تھے کہ اس سے بین الاقوامی تعلقات جمود کا شکار ہوجائیں گے۔ بعض لوگوں کو توقع ہوچلی تھی کہ عالمی معیشت اور سیاست میں قائدانہ کردار کی جانب چین کے بڑھتے قدم رُک جائیں گے، اسی طرح چین اور روس کا اتحاد بھی وبا سے پیدا شدہ حالات کو سہار نہیں پائے گا۔ لیکن حالات ان توقعات کے برعکس ثابت ہوئے۔ وبا سے پیدا ہونے والے بحران میں امریکا کی ناکامی اور چین کی سرخروئی کے ساتھ معاشی بحالی نے ایک بار پھر اس تاثر کو پختہ کردیا کہ دنیا کی سیاسی و اقتصادی قیادت اب یوریشیا یا مشرق کی جانب منتقل ہورہی ہے۔

اسلاموفوبیا کا علاج مکالمے میں ہے

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

مڈل اسکول میں تاریخ اور شہری حقوق کے مضامین پڑھانے والے استاد سیمیول پیٹی کو پیرس کے ایک مضافاتی قصبے میں قتل کردیا گیا۔ حملہ آور کی شناخت ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ فرانس میں پناہ گزیں 18برس کا ایک چیچن تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے ”اللہ اکبر“ کا نعرہ لگاتے ہوئے مقتول پر کئی وار کیے۔ اس کے بعد حملہ آور نے سیمیول پیٹی کے سر کی تصویر کے ساتھ ایک ٹوئٹ کیا جس میں لکھا”میں نے محمد ﷺ کی اہانت کرنے والے ایک کتے کو انجام تک پہنچا دیا“۔ چند منٹوں بعد ہی حملہ آور کو گولی مار دی گئی۔

پنشن ادائیگیوں کا ٹک ٹک کرتا بم

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

رائے عامہ میں یہ بات رفتہ رفتہ نظر انداز کردی گئی ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے پاکستانی معیشت کو کتنا نقصان پہنچایا۔ تحریک انصاف نے اس بارے میں حقائق آشکار کرنے میں تاخیر کی۔ یہ حکومت دیر سے ملک کے اقتصادی اور مالیاتی مسائل کی جانب متوجہ نہیں ہوئی اور دوسری جانب عالمی وباء نے عالمی معیشت کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ قیمتوں کی نگرانی کے نظام میں ہونے والی غفلت کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ 2017-18میں جو شرح نمو 5اعشاریہ 6فی صد تھی وہ 2018-19میں 2اعشاریہ 4فی صد پر آگئی اور رواں مالی سال میں منفی 1اعشاریہ 5فی صد ہونے کی توقع ہے۔

NUST: عظیم الشان مستقبل کی نوید

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

پاکستان کے مسلح افواج کے زیرانتظام تحقیقی ادارہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) 1991میں اسلام آباد میں قائم ہوا۔ ضرورت کے تحت ابتدا میں اسے کمشنڈ افسران کے لیے پاک فوج کے انجینیئرنگ کالج اور اسکولوں کو ضم کرکے بنایا گیا۔ بعدازاں اسلام آباد میں اس کا مرکزی کیمپس قائم کرکے سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اسے تحقیقی ادارے میں تبدیل کیا گیا۔ آج نسٹ سول اور ملٹری اشتراک کار کا مکمل شاہکار ہے۔ اس کے 19انسٹی ٹیوٹ ہیں جن میں پانچ ملٹری کالج بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، رسالپور، کراچی اور کوئٹہ میں اس کے پانچ کیمپس ہیں اور اس اعتبار سے حقیقی معنوں میں ایک قومی ادارہ ہے جو پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔

حضرت خالد ؓ بن ولید؛ ایک مثالی سپہ سالار

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

حضرت خالد بن ولید ؓ کا تعلق قریش کے ایک نمایاں خانوادے سے تھا۔ ابتدا ہی سے ان کی شناخت ایک جرات مند اور زیرک سپاہی کی تھی۔ قبول اسلام سے قبل مسلمانوں کے خلاف میدان اُحد میں وہ قریش کے گھڑ سواروں کے دودستوں میں سے ایک کی سربراہی کررہے تھے، جب کہ دوسرا دستہ عکرمہ کی سربراہی میں تھا۔ اُحد میں جب لشکر اسلام کے تابڑ توڑ حملے کے سامنے قریش کی پیادہ فوج کے قدم اکھڑ رہے تھے تو خالد دور سے میدان کا جائزہ لے رہے تھے اور موقعے کی تلاش میں تھے۔ اسی وقت اس جنگی حکمت کار کی نگاہوں نے دیکھا کہ عقب میں گھاٹی سے مسلمانوں کے تیر انداز میدان میں اپنی برتری دیکھتے ہوئے اپنی پوزیشن چھوڑ گئے ہیں۔ نبی ﷺ نے ان تیر اندازوں کو اس مقام پر جمے رہنے کی تاکید کی تھی لیکن یہاں موجود چند تیر اندازوں کے علاوہ دیگر اس فرمان سے روگردانی کے مرتکب ہوئے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو میدان میں پہلی مرتبہ پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔

مقبوضہ کشمیر، 5اگست اور بھارت کی بڑھتی مشکلات

Posted by & filed under اہم خبریں, کالم / بلاگ.

اکرام سہگل
ٓٓٓآج اس الم ناک دن کی پہلی برسی ہے، جب بھارت نے اپنے تئیںمسئلہ کشمیر کایکطرفہ حل متعارف کرایا۔ 5اگست 2019 کو بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیرکی ،بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کے تحت خصوصی حیثیت ختم کردی گئی۔

آیا صوفیہ: حق داروں کو حق مل گیا

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

آبنائے باسفورس کے کنارے، جہاں بحیرہئ مرمرہ اور بحیرہئ اسود ملتے ہیں اور اسے یورپ و ایشیاء کی سرحد کہا جاتا ہے، آیا صوفیا کی یہ عظیم الشان عمارت واقع ہے۔ استنبول کا شمار یوریشیا ء کے اہم ترین میں شہروں میں ہوتا ہے جس کی حدود دو براعظموں میں ہیں اور اس کی آبادی آج ڈیڑھ کروڑ ہوچکی ہے۔ 660قبل مسیح میں یہ شہر ”بازنطین“ کے نام سے آباد ہوا اور 330میں جب رومی شہنشاہ قسطنطین نے اسے سلطنت روما کا پایہئ تخت بنایا تو اس کا نام قسطنطنیہ ہوگیا۔ قسطنین نے اس شہر اور اپنی سلطنت کو عیسائیت کا مرکز بنایا۔