|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

گوادر : حکومت پاکستان کی جانب گوادر ایران ٹرانزٹ ٹریڈ کا اسٹریٹجک گیٹ وے قرار،سالانہ 32 ملین ڈالر تک ریونیو کی توقع، روزگار کے وسیع مواقع،ٹرانزٹ ٹریڈ سے اربوں کی آمدن متوقع۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایس آر او 691/2026 کے تحت گوادر پورٹ کو ایران ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے ایک اسٹریٹجک گیٹ وے کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، جس کے پس منظر میں چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ کی مسلسل کاوشیں اور بہتر نمائندگی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ترجمان گوادر پورٹ اتھارٹی جمیل قاسم کے مطابق 25 اپریل 2026 کو وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ اس اہم حکم نامے S.R.O. 691(I)/2026 نے ایران کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے باضابطہ راستوں کا تعین کرتے ہوئے گوادر کو مستقبل کے ایک بڑے ٹرانزٹ اور لاجسٹکس حب کے طور پر نمایاں کر دیا ہے،

جسے ماہرین ایک گیم چینجر قرار دے رہے ہیں کیونکہ پہلی بار گوادر کو قانونی، جغرافیائی اور تجارتی طور پر مکمل حیثیت دی گئی ہے۔

چیرمین نورالحق بلوچ نے گوادر کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس روٹ کو فعال بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

گوادر سے گبد بارڈر کا فاصلہ محض تقریباً 89 کلومیٹر ہے، جس کے باعث ٹرانزٹ وقت صرف 2 سے 3 گھنٹے رہ گیا ہے، جبکہ کراچی سے گبد بارڈر کا فاصلہ تقریباً 700 کلومیٹر اور دورانیہ 16 سے 18 گھنٹے ہے،

یوں گوادر روٹ کے ذریعے ٹرانزٹ وقت میں تقریباً 87 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

نئے ایس آر او کے تحت ایران کے لیے چھ باضابطہ راستے مقرر کیئے گئے ہیں جن میں گوادر، گبد کوریڈور کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جو کم فاصلے اور کم وقت کے باعث کاروباری لاگت میں نمایاں کمی لاتا ہے۔

چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ کے مطابق اس مختصر فاصلے کی بدولت ٹرانسپورٹ لاگت میں بھی 45 سے 55 فیصد تک کمی متوقع ہے، چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ کا کہنا ہے کہ گوادر کو مینڈیٹڈ کنسولیڈیشن اینڈ ٹرانس شپمنٹ حب قرار دیا گیا ہے جہاں کراچی اور پورٹ قاسم سے آنے والا سامان گوادر میں اکٹھا کر کے گبد بارڈر کے ذریعے ایران منتقل کیا جائے گا،

اس فیصلے سے کنٹینرز کی کراس اسٹفنگ، ری پیکجنگ، ویئر ہاؤسنگ اور ٹرانس شپمنٹ جیسے کاروباروں کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کسٹمز قوانین کے تحت کراس اسٹفنگ کی اجازت نے گوادر میں لاجسٹکس کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر دیئے ہیں، جہاں یہ عمل کراچی کی نسبت زیادہ تیز اور کم لاگت میں ممکن ہے۔ ترجمان جمیل قاسم کے مطابق گوادر پورٹ پر جدید کرینیں، وسیع یارڈ، تیز کسٹمز کلیئرنس اور کم رش جیسی سہولیات اسے کراچی اور پورٹ قاسم پر واضح برتری دیتی ہیں جہاں رش، تاخیر اور اضافی چارجز عام مسائل ہیں۔ کاروباری نقطہِ نظر سے دیکھا جائے

تو گوادر ہر لحاظ سے بہتر آپشن بن چکا ہے کیونکہ کم فاصلہ، کم وقت اور کم اخراجات براہ راست منافع میں اضافہ کرتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اس منصوبے کے نتیجے میں نہ صرف سالانہ 24 سے 32 ملین ڈالر تک ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے بلکہ ابتدائی مرحلے میں ہی ایران کی ٹرانزٹ مارکیٹ کا کم از کم 25 فیصد حصہ گوادر حاصل کر سکتا ہے، جس سے شپنگ لائنز کی دلچسپی بڑھے گی اور پورٹ سرگرمیاں تیز ہوں گی۔

اس کے ساتھ ساتھ ویئر ہاؤسنگ، کولڈ اسٹوریج، لاجسٹکس پارکس اور ٹرانس شپمنٹ یارڈز کے قیام سے مقامی سطح پر روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے جبکہ سرمایہ کاروں کے لیے بھی نئے دروازے کھلیں گے کیونکہ قانونی وضاحت کے بعد خطرات کم اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے اس پیشرفت کو گوادر اور بلوچستان کے عوام کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف مقامی معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے گا،

انہوں نے مزید کہا کہ گوادر اب صرف ایک بندرگاہ نہیں بلکہ علاقائی تجارت کا مستقبل بن چکا ہے اور آنے والے برسوں میں یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *