|

وقتِ اشاعت :   November 14 – 2020

عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں مزید37 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد7ہزار92ہوگئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں کورونا کے 2 ہزار304نئے کیسزرپورٹ ہوئے اور متاثرین کی کل تعداد3 لاکھ52 ہزار296 تک پہنچ گئی ہے۔پاکستان میں کورونا کے 3لاکھ21ہزار563مریض صحت یاب ہوچکے ہیں اور23 ہزار641زیرعلاج ہیں۔سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد 1لاکھ 53ہزار21 سے زائد،پنجاب میں ایک لاکھ8 ہزار822سے زائد، خیبرپختونخوا41 ہزار472 سے زائد۔

اسلام آباد23ہزار123سے زائد، بلوچستان16ہزار274 سے زائد، آزاد کشمیر5 ہزار139اورگلگت میں 4ہزار416 سے زائدکیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار455 اور سندھ میں 2 ہزار 718 اموات ہو چکی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اموات کی تعداد ایک ہزار303، اسلام آباد250، بلوچستان155، گلگت بلتستان93 اور آزاد کشمیر میں 118 ہو گئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ماسک پہننا لازمی قرار دیا ہے۔شہری گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک لازمی پہنیں۔

حکومتی اور نجی سیکٹرز کے دفاتر میں کام کرنے والوں کے لیے ماسک پہننا لازم ہوگا۔صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بازاروں، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس میں ایس او پیز اور ماسک کو لازم قرار دیں۔این سی او سی کے مطابق ملک کے 15 شہروں میں کورونا وباء تیزی سے پھیل رہی ہے۔ پاکستان میں 80 فیصد کورونا کیسز11 بڑے شہروں سے رپورٹ ہوئے۔پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہو چکی ہے جس سے نمٹنے کے لیے ایس اوپیز پر سختی سے عمل کرنا ہو گا۔ احتیاطی تدابیر پرعمل پیرا ہو کر ہم کورونا کی دوسری لہرسے نمٹ سکتے ہیں۔

کورونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کی بات کی جائے تو اس وقت ملک بھر میں اس پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، عوام سے شکوہ اور ہدایات پر عمل نہ کرنے پر بات تو کی جارہی ہے کہ وہ لاپرواہی کامظاہرہ کرتے ہوئے کورونا پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں مگر دوسری جانب سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہجوم اکٹھاکرنے پر کیونکر بات نہیں کی جارہی۔ اپوزیشن اور حکومت میں شامل دونوں جماعتوں کی جانب سے جلسے جلوس تقاریب منعقد کئے جارہے ہیں اور واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ ایس اوپیز کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں جن کی سب سے زیادہ ذمہ داری بنتی ہے۔

جب وہ کورونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لے رہے تو عوام سے کس بات کا شکوہ کیاجارہا ہے۔اگر سیاسی جماعتیں کورونا وائرس کے حوالے سے اپنے رویوں میں تبدیلی لاتے ہوئے ہجوم اکٹھاکرنے سے گریز کریں پھر عوام کو پابند بنایا جاسکتا ہے کہ وہ ایس اوپیز پر عمل کریں وگرنہ جرمانہ عائد کیاجائے گا۔ ویسے جرمانہ تو صرف عام لوگوں پر ہی لگایا جارہا ہے سیاسی جماعتیں اس سے مکمل بری الذمہ ہیں یہ سراسر زیادتی ہے، جبکہ اس سے قبل بھی کورونا کی پہلی لہر کے دوران لاک ڈاؤن سے براہ راست عوام کو ہی نقصان اٹھاناپڑا جس میں مالی حوالے سے زیادہ مشکلات شامل ہیں۔

جب معاشی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کردی گئی تھیں۔ اگر دنیا کے دیگر ممالک میں لاک ڈاؤن تھا تو وہاں پر سیاسی جماعتوں نے ہجوم اکٹھا نہیں کیا تھا بلکہ مل کر ریاستی پالیسی پر عمل کیا تھا۔مگر ہمارے ہاں معاملہ ہی الٹا ہے۔ جب تک یکساں طور پر قوانین پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایاجائے گا تو وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے دعوے محض مذاق ہی ثابت ہوں گے۔