|

وقتِ اشاعت :   November 18 – 2020

بلوچستان سے کرپشن کے خاتمے کے لیے باہمی اقدامات پر اتفاق رائے کے حوالے سے نیب اور چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم بلوچستان کے مابین مفاہمت کی یاداشت پر دستخط ہوئے، ڈائریکٹر نیب بلوچستان زاہد شیخ اور چیئرمین سی ایم آئی ٹی سجاد بھٹہ نے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے۔،معاہدے کی تقریب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، چیف سیکرٹری بلوچستان فضیل اصغر اور ڈی جی نیب بلوچستان فرمان اللہ خان نے شرکت کی۔چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی منظوری کے بعد صوبے سے کرپشن کے مکمل خاتمے کے لیے قومی احتساب بیورو بلوچستان اور چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم بلوچستان کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔

دونوں اداروں کے درمیان مفاہمت کی یاداشت کے مطابق نیب بلوچستان اور سی ایم آئی ٹی صوبے سے کرپشن کے تدارک کیلئے مل کر کوششیں کریں گے۔ سی ایم آئی ٹی قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان کا سبب بننے والی ترقیاتی منصوبوں اور سکیموں میں پائی جانے والی بے قاعدگیاں اور غیر قانونی اقدامات نیب کو ریفر کرے گی تاکہ ملوث عناصر کے خلاف تحقیقات سے ذمہ داران کا تعین کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جاسکے۔ دونوں اداروں کے فیصلہ ساز حکام کی منظوری سے مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے گی جسکے تحت روزانہ کی بنیاد پر کرپشن کی روک تھام کے سلسلے میں معلومات کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تجاویز بھی شیئر کی جائیں گی۔

قومی احتساب بیورو بلوچستان اور سی ایم آئی ٹی بدعنوانی کے تدارک کیلئے مختلف سرکاری محکموں کے کرپشن کا سبب بننے والے موجودہ قوانین، رولز اینڈ ریگولیشن کے مطالعے کے بعد اصلاحات کے لیے باہمی اقدامات اٹھائیں گے۔بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منافع اور کرپشن دونوں کا موازنہ باآسانی آمدن سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے یہاں میگامنصوبوں میں کس قدر بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں ہوتی رہی ہیں اور اس میں یقینا وہی لوگ ملوث رہے ہیں جو کسی اہم عہدے پر فائزہوکر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ذاتی وگروہی مفادات حاصل کرتے رہے ہیں۔

اس لئے آج تک بلوچستان کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ چھوٹی اسکیمات کا جائزہ ضلعی سطح پر ہی لیاجاسکتا ہے کہ کتنے ادوار میں وزراء اور ایم پی ایز نے فنڈز ترقی کے نام پر لئے مگر زمین پر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔بلوچستان میں پانی، بجلی،سڑکوں کی سہولیات تک عوام کو میسر نہیں مگر بجٹ اور منتخب نمائندگان کے لئے اجراء کردہ فنڈز تواتر کے ساتھ جاری ہوتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے چلتا آرہا ہے اگر نچلی سطح پرصرف چھوٹے پیمانے پر اسکیمات کے حوالے سے چھان بین کی جائے تو اندازہ ہوجائے گا کہ ایک اسکیم کیلئے کتنے ایم پی ایز اور وزراء نے فنڈز لئے اور تعمیراتی کام کہاں تک پہنچاہے۔

بہرحال نیب اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے سے توقع اور امید کرسکتے ہیں کہ غیر جانبدارانہ طور پران تمام منصوبوں اور اسکیمات کے حوالے سے تحقیقات شروع کی جائینگی جن کیلئے کروڑوں روپے باقاعدہ ریلیز ہوچکے ہیں اور اب تک ان پر کوئی کام نہیں ہوسکا ہے اور یہ تحقیقات پسندوناپسندکی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی بنیادوں پر کئے جائینگے تاکہ ذمہ دار کرپٹ افراد کو کٹہرے تک پہنچاکر ان سے بلوچستان کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کا حساب لیاجاسکے تاکہ بلوچستان میں کرپشن کی شرح میں کمی آسکے کیونکہ ترقیاتی منصوبوں اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے بلوچستان کا ریکارڈ کچھ بہتر نہیں ہے بلکہ سیاسی حوالے سے انتہائی منفی سوچ پائی جاتی ہے لہٰذا شفاف طریقے سے اس عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے اس منفی رواج کو ختم کیاجائے۔