|

وقتِ اشاعت :   February 9 – 2021

امریکی صدر جو بائیڈن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹیلیفون کال پر چار ملکی گروپ کے ذریعے ہند بحر الکاہل کی سلامتی کو مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو کم کرنا ہے۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت، امریکا، جاپان اور آسٹریلیا اس چار رکنی گروپ کا حصہ ہیں، جسے واشنگٹن ہند بحر الکاہل میں چین کی بڑھتی ہوئی سیاسی، تجارتی اور فوجی سرگرمیوں کے خلاف ایک ممکنہ دفاع دیوار کے طور پر کام کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔

بائیڈن نے گزشتہ ماہ صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ نریندر مودی کو کال کی تھی اور کہا تھا کہ بھارت اور امریکا کے تعلقات جمہوری اقدار کے مشترکہ عزم کے تحت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ رہنماؤں نے نیوی گیشن کی آزادی، علاقائی سالمیت سمیت آزادانہ ہند بحر الکاہل کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

چین نے اس گروپ کو مسترد کرتے ہوئے اسے چین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا حربہ قرار دیا اور امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنی ’سرد جنگ کی ذہنیت‘ چھوڑ دے۔

پچھلے سال نئی دہلی نے چین کی مخالفت کے خوف سے ہچکچاہٹ کے باوجود بقیہ تین ممالک کے ہمراہ خلیج بنگال میں مشترکہ بحری مشقوں میں حصہ لیا تھا۔

ہندوستانی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے بائیڈن کو بتایا کہ وہ دونوں ممالک کے مابین اسٹریٹیجک شراکت کو بڑھانے کے لیے کام کریں گے۔

گزشتہ سال اپریل سے چین اور بھارت کے درمیان بلند و بالا پہاروں پر واقع متنازع سرحد پر کشمکش جاری ہے اور دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان کئی مرتبہ جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں جس میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

جاپان کے سنکئی اخبار کے مطابق امریکا، جاپان، ہندوستان اور آسٹریلیا کے رہنماؤں نے چاروں طاقتور جمہوریتوں کے مابین تعلقات کو مزید تقویت بخشنے کے لیے ایک سربراہی اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

بائیڈن اور مودی نے کووڈ 19 سے لڑنے، آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق اپنی شراکت کی تجدید اور میانمار سمیت دنیا بھر کے جمہوری اداروں اور اقدار کا دفاع کرنے کے لیے مل کر کام کام کرنے پر اتفاق کیا۔