ینگون: امریکا اور برطانیہ نے میانمار میں فوجی گروپ جنتا کے خلاف بغاوت مخالف مظاہرین کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن جاری رکھنے پر پابندیوں کا اعلان کردیا۔
واضح رہے کہ یکم فروری کو سویلین رہنما آنگ سان سوچی کو گرفتار کرنے اور ان کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے خلاف ملک گیر مظاہروں کو روکنے کے لیے فوجی جنتا نے خونریز تشدد کا آغاز کرکھا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر مذمت نے اب تک اس وحشیانہ اقدام کو روکنے کے لیے بہت کم کام کیا ہے تاہم امریکا اور برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ میانمار اکنامک ہولڈنگز لمیٹڈ کے انتہائی خفیہ معاملے کے خلاف پابندیاں عائد کرے گا جس سے فوج کے سربراہوں کو بے پناہ دولت تک رسائی حاصل ہے۔
برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے کہا کہ ‘آج کی پابندیوں سے فوجیوں کے مالی مفادات کو نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ ان کی شہریوں کے خلاف ظلم و ستم کی مہم کے لیے مالی وسائل ختم ہوسکیں’۔
واشنگٹن نے اعلان کیا کہ وہ میانمار اکنامک کارپوریشن لمیٹڈ (ایم ای سی) پر بھی پابندیاں عائد کررہا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میانمار کی فوج نے ‘ان ہولڈنگ اداروںں کے ذریعے ملک کی معیشت کے اہم حصوں کو کنٹرول کیا ہے’۔
مبہم گروہوں کی شراب، تمباکو، ٹرانسپورٹ، ٹیکسٹائل، سیاحت اور بینکنگ جیسے متنوع صنعتوں میں اپنا ٹھکانہ ہے۔
مظاہرین نے فوج سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے رات کے وقت کے کرفیو کو توڑٹے ہوئے مردہ افراد کے لیے جلائی گئی موم بتیوں کی نگرانی کی اور سیکیورٹی فورسز سے بچنے کے لیے صبح سویرے مارچوں پر سڑکوں پر نکلتے ہوئے احتجاج کیا۔
شمالی کاچن ریاست میں موٹرسائیکلوں پر طلوع آفتاب کے وقت موبائل ریلی نکالی گئی جس میں متعدد مظاہرین کی گرفتاری بھی دیکھی گئی۔
جنوب مشرقی کیرن ریاست کے شہر ہپا-این میں مظاہرین جمعرات کی صبح 6 بجے کے قریب سینڈ بیگ تیار کررہے تھے جب متعدد فوجی اور پولیس گھس گئی اور اچانک دستی بموں کا استعمال کرتے ہوئے سڑکوں کو صاف کرنے کی کوشش کی۔
ایک مظاہرین نے بتایا کہ ‘اس کے بعد انہوں نے ربر کی گولیوں کے ساتھ ساتھ اصلی گولیوں کے 50 راؤنڈ فائر کیے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک طالب علم کو براہ راست راؤنڈ سے ران میں گولی لگی اور اب اس کا طبی علاج ہورہا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق چند لوگوں نے ایسے سلوگن پکڑ رکھے تھے جن پر لکھا تھا ‘نکل جاؤ دہشت گرد آمر’۔
اقوام متحدہ، امریکا اور برطانیہ کی طرف سے بین الاقوامی دباؤ میانمار کی فوجی گروپ جنتا پر قائم ہے تاہم اب تک اسے بظاہر نظرانداز کیا گیا ہے۔
برطانیہ اور امریکہ حالیا ہفتوں میں اس حکومت پر پابندیوں کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔