|

وقتِ اشاعت :   April 8 – 2021

انڈونیشیا میں پاکستانی، ایرانی جوڑے سمیت ایک درجن سے زائد افراد کو منشیات اسمگلنگ کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

 استغاثہ کے دفتر کے مطابق مجموعی طور پر 13 مشتبہ افراد کو فائرنگ کرنے والے اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کا حکم دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 3 ایرانی، ایک پاکستانی اور 9 انڈونیشی باشندوں کو سزا موت سنائی گئی۔

حکام کے مطابق گروہ نے 400 کلوگرام میتھامفیتیمین اسمگل کرنے میں ملوث پائے گئے۔

کووڈ 19 کی وجہ سے فیصلہ مغربی جاوا کے سکابومی شہر میں ویڈیو لنک کے ذریعے دیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق مشتبہ افراد کو جون کے اواخر میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سکابومی پراسیکیوٹر کے دفتر کے سربراہ بامبنگ یونیانٹو نے بتایا کہ اسمگلنگ سازش کی سربراہی ایرانی حسین سالاری راشد نے کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ حسین شالاری کے ساتھ دیگر 4 غیر ملکی بھی تھے۔

پراسیکیوٹر کے مطابق حسین شالاری کو ان کی اہلیہ کے ساتھ سزا سنائی گئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ انڈونیشیا میں ایک وقت میں سزائے موت پانے والے منشیات اسمگلروں کی یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔

انسانی حقوق کے گروپ نے بتایا کہ رواں سال جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد 30 ہوگئی جس میں متعدد غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

اس میں مزید کہا گیا کہ زیادہ تر منشیات فروشی کے کیسز تھے۔

انڈونیشیا میں انسداد منشیات کے خلاف دنیا کے سب سے سخت قوانین موجود ہیں لیکن گزشتہ کئی برس سے پھانسیوں کا سلسلہ بند تھا۔

2019 میں ایک فرانسیسی منشیات کے اسمگلر کی سزائے موت میں تخفیف کرکے طویل قید کی سزا میں تبدیل کردیا تھا۔

ایک سال قبل 8 تائیوان اسمگلروں کو انڈونیشیا کی ایک عدالت نے ایک ٹن کرسٹل میتھامفیتیمین پکڑے جانے کے بعد انہیں سزائے موت سنائی تھی۔