|

وقتِ اشاعت :   June 11 – 2022

پاک جی آئی اینڈ لیور ڈیزیز سوسائٹی کی صدر پروفیسر ڈاکٹر لبنیٰ کمانی کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈاکٹرز کو ایڈوانسڈ اینڈو اسکوپی اور دیگر جدید پروسیجرز سکھانے کیلئے مصر اور دیگر دوست ممالک کی میڈیکل یونیورسٹیوں اور اسپتالوں میں بھیجا جائیگا، جس کیلئے وہاں کی میڈیکل سوسائٹیوں اور ٹریننگ سینٹرز سے معاہدے کئے جارہے ہیں۔

پاک جی آئی اینڈ لیور ڈیزیز سوسائٹی کی صدر پروفیسر ڈاکٹر لبنیٰ کمانی نے ہفتہ کو پی جی ایل ڈی ایس کی چوتھی سالانہ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کیا۔

کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن، آغا خان یونیورسٹی کے ہیڈ آف گیسٹرو اینٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر وسیم جعفری، پی جی ایل ڈی ایس کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر شاہد احمد، معروف مصری گیسٹرو اینٹرولوجسٹ پروفیسر عیسام بداوی، رائل کالج آف فزیشنز لندن کی گلوبل وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر ممتاز پٹیل، آذر بائیجان کی گیسٹرو اینٹرولوجسٹ پروفیسر گل نارا آغا، جناح اسپتال کی ڈاکٹر نازش بٹ، لیاقت نیشنل اسپتال کے ڈاکٹر سجاد جمیل، ڈاؤ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ عباسی سمیت دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔

پی جی ایل ڈی ایس کی صدر پروفیسر لبنیٰ کمانی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نوجوان ڈاکٹروں کو ریسرچ اور ٹریننگ کے انتہائی کم مواقع میسر ہیں، جس کی وجہ سے وہ جدید طریقۂ علاج سیکھنے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی جی ایل ڈی ایس مصر اور دیگر دوست ممالک کی میڈیکل یونیورسٹیوں، اسپتالوں اور سوسائٹیوں سے معاہدے کرنے جارہی ہے، جس کے تحت پاکستانی نوجوان ڈاکٹروں کو ان ممالک میں ٹریننگ کیلئے بھجوایا جائے گا۔

ڈاکٹر لبنیٰ کا کہنا ہے کہ میڈیکل سوسائٹی پہلے ہی مختلف ممالک سے ماہرین کو پاکستان بلا رہی ہے تاکہ نوجوان پاکستانی ڈاکٹروں کو یہاں پر جدید طریقۂ علاج کے حوالے سے تربیت فراہم کی جاسکے۔

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں اور سرجنز کو ہر وقت اپنی صلاحیتیں بڑھانے کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں، طب کے شعبے میں روزانہ نئی ایجادات اور تکنیک سامنے آرہی ہیں، جس کو سیکھے بغیر مریضوں کا بہتر علاج ممکن نہیں۔

مصر کی اسکندریہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عیسام بداوی کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے ہیپاٹائٹس سی کی بیماری کو 90 فیصد تک کنٹرول کرلیا ہے، اگلے چند سالوں میں مصر ہیپاٹائٹس سی کی بیماری سے پاک کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مصر کی حکومت اور ماہرین پاکستان کو ہیپاٹائٹس سی کی وباء سے بچنے کیلئے اپنے تجربات سکھانے کو تیار ہیں، حکومت اور مقامی دوا ساز کمپنیوں کو مل کر مریضوں کو سستی یا مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بناکر انہیں مختلف بیماریوں سے نجات دلانا ممکن ہے۔

آغا خان اسپتال کے ماہر امراض پیٹ اور جگر پروفیسر وسیم جعفری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جگر کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ ہیپاٹائٹس سی کا تیزی سے پھیلاؤ ہے، پاکستان کو تجربہ کار ماہرین امراض جگر کی ضرورت ہے، جس کیلئے مصری اداروں کا تعاون اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

پاک جی آئی اینڈ لیور ڈیزیز سوسائٹی کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر شاہد احمد کا کہنا تھا کہ ان کی سوسائٹی کا سب سے بڑا مقصد اپنے جونیئرز کو تربیت فراہم کرنا اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے، نوجوان ڈاکٹروں کی صلاحیتوں میں اضافے کیلئے وہ غیرملکی ماہرین کو پاکستان میں بلاتے رہتے ہیں تاکہ پاکستانی ڈاکٹر ان سے جدید طریقۂ علاج سیکھ کر مریضوں کی بہتر خدمت کرسکیں۔

دو روزہ کانفرنس کے دوران جناح اسپتال کراچی میں ایڈوانسڈ انڈو اسکوپی، کولون اسکوپی، ای آر سی پی اور دیگر جدید پروسیجرز کے حوالے سے ٹریننگ ورکشاپس بھی منعقد کی گئیں، جہاں پر امریکی، ہندوستانی، مصری، برطانوی اور دیگر ممالک کے ماہرین نے نوجوان پاکستانی ڈاکٹروں کو تربیت فراہم کی۔