|

وقتِ اشاعت :   September 5 – 2022

  ایک عام پاکستانی کا مسئلہ نا تو عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہے اور نہ ہی پی ڈی ایم کا حکومت میں آنا نہ کسی عام پاکستانی کو حمزہ شہباز کی حکومت جانے کا دکھ ہے اور نہ ہی پرویز الٰہی کی مشروط حکومت کی خوشی ہے۔ کسی عام پاکستانی کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ سندھ میں ابھی بھی بھٹو زندہ ہے اور ایم کیوایم مختلف ناموں کے ساتھ کراچی میں سیاست کر رہی ہے ۔ایک عام پاکستانی کو اس بات سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ بلوچستان میں کب کون کس پارٹی میں شامل ہوتا ہے اور کونسا نیا چہرہ وزیراعلیٰ کی مسند پر بیٹھتا ہے اسی طرح ایک عام پاکستانی کو نہ امپورٹڈ ترجمان شہباز گل کی گرفتاری سے غرض ہے اور نہ عمران خان پر درج ہونے والے مقدمات سے ایک عام پاکستانی عدلیہ کے فیصلوں میں بھی دلچسپی نہیں رکھتا کہ کس کو ضمانت ملتی ہے اور کون جیل جاتا ہے۔ پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کیسے ہیں اور ٹی ٹی پی سوات میں کیوں واپس آئی ہے اس سے بھی ایک عام پاکستانی لاعلم ہے عوام کی اکثریت جو خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے اسے فکر لاحق ہے تو صرف بڑھتی ہوئی بے روزگاری غربت مہنگائی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کی ۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ ملک میں ہر طرف سیلاب پھیلا ہوا ہے جس نے کے پی کے ،سندھ ،بلوچستان اور جنوبی پنجاب کو بری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے گیارا سو سے زیادہ انسانی جانوں، آٹھ لاکھ سے زیادہ مویشیوں، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کا نقصان ہو چکا ہے ۔

50 فیصد سے زائد عوام جو زراعت سے وابستہ تھیں بری طرح سے متاثر ہوئی ہیں مہنگی کھاد ،مہنگا ڈیزل اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمت نے پہلے ہی زراعت کو تباہ کر دیا ہے ۔دو ماہ بعد گندم کی بجائی بھی مشکل نظر آرہی ہے زمین سیم زدہ ہو چکی ہے اور کسان کے پاس اب اتنے وسائل بھی نہیں کہ وہ دوبارہ کاشتکاری جاری رکھ سکے یوں گندم کا بحران بھی سر آن پڑا ہے۔ اگلے سال گندم بھی امپورٹ کرنی پڑے گی تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی خرچ اور اخراجات کے توازن کو برقرار رکھنے میں ناکام ہے ان سب مسائل کے ہوتے ہوئے بھی میڈیا کے پاس سوائے شہباز گل عمران خان پی ٹی ایم کی خبروں کے کچھ نہیں ۔حالیہ سیلاب نے سندھ میں پیپلز پارٹی ،کے پی کے اور پنجاب میں تحریک انصاف بلوچستان میں مخلوط حکومت کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیئے ہیں۔ پنجاب قدرے ترقی یافتہ تھا لیکن سیاسی محاذ آرائی نے اسے بھی نا تلافی نقصان پہنچایا ہے سیاستدان اپنے حلقوں میں جانے سے گریزاں ہیں کراچی میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخاب میں ٹرن آؤٹ صرف گیارہ فیصد تھا جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ عوام کا سیاست اور سیاستدانوں سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔ جمہوریت ایک بار پھر بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے آج کل سوشل میڈیا پر فوج تنقید کی زد میں ہے لیکن ہر ناگہانی آفت اور ہر مشکل میں فوج ہی سب سے پہلے مدد کو آتی ہے اور اسی پر عوام کا اعتماد بحال ہے ۔کشمیر سے لے کر کراچی تک صرف پاک فوج ہی سیلاب زدگان کی امداد میں مصروف نظر آرہی ہے یا کچھ سماجی تنظیم اپنا حصہ ڈال رہی ہیں سول ادارے اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔کرپشن نیپوٹزم سیاسی بھرتیوں نے سول اداروں کو برباد کر دیا ہے اپنے قریبی لوگوں کو میرٹ کے برخلاف مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے سول ادارے بے بسی کی تصویر نظر آتے ہیں ۔

میرٹ کے برعکس لوگوں کو بھرتی کرنے کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے عوامی مسائل کی طرف کسی بھی سیاسی پارٹی کی کوئی توجہ نہیں آج لوگ بجلی کا بل ادا کرنے کے قابل نہیں رہے سبزی گوشت اور فروٹس تو ویسے بھی پہنچ سے باہر ہیں اگر آج حالات کو نہ سنبھالا گیا اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو ہم ایک ایسے موڑ پر آ چکے ہیں جہاں عوامی غصہ ایک خطرناک انقلاب کی صورت سامنے آ سکتا ہے یا اسٹیبلشمنٹ کو پھر آگے بڑھ کر حالات کنٹرول کرنا ہوں گے ۔اس کے علاوہ مستقبل میں اور کوئی حل نظر نہیں آ رہا ابھی بھی وقت ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں ہوش کے ناخن لیں اور ذاتی عناد کو چھوڑ کر ملک و قوم کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائیں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔