|

وقتِ اشاعت :   October 21 – 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے مسلسل اسلام آباد پر چڑھائی کی دھمکی کھلے عام دی جارہی ہے، عوامی اجتماعات سمیت ہر فورم پر یہی بات دہرائی جارہی ہے کہ مکمل تیاری کے ساتھ اسلام آباد آئینگے اور دھمکی آمیز لہجے میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ انہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی جبکہ ہجوم کے مشتعل ہونے کی بھی بات کررہے ہیں۔

ساتھ ہی سری لنکا کی مثال بھی دیتے آرہے ہیں جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ اسلام آباد میں ہنگامہ برپا کرکے حالات کوسنگینی کی طرف لے جانا چاہتا ہے جس کے انتہائی بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور یہ سیاسی حوالے سے ملک کے لیے کسی صورت خوش آئند عمل نہیں ہوگا بلکہ نقصان کا سبب بنے گا۔ بہرحال عدلیہ کی جانب سے اس حوالے سے بہترین عمل سامنے آیا ہے، عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ ملکی قیادت میں سے کوئی بھی آئین و قانون کی خلاف ورزی نہ کرے، دوسری صورتحال میں اس کے نتائج ہوں گے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف وزارت داخلہ کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا عمران خان نے اس درخواست کی سماعت کے دوران یقین دہانی کرائے جانے کے باوجودکارکنوں کوڈی چوک کی کال دی تھی، سکیورٹی اداروں نے خود کو ریڈزون تک محدود کرلیا تھا، پی ٹی آئی نے پتھراؤ اور جلاؤ گھیراؤ کیا، پولیس کے 31 اہلکار زخمی ہوئے۔

ریڈزون میں پولیس پرحملہ کیا گیا، خوف ہے کہ اسلام آباد میں دوبارہ وہی قسط نہ دہرائی جائے، عمران خان جلسوں میں احتجاج کو جہاد سے تشبیہ دے رہے ہیں، لوگوں کو اشتعال دلایا جا رہا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ابھی تک تقریریں ہیں،آپ قانون کے مطابق صورتحال سے نمٹ سکتے ہیں، جہاں صورت حال ایسی لگے وہاں اقدامات کریں، ابھی کوئی ہجوم نہیں، جب لوگ ہوں تو آپ کی استدعا ہونی چاہیے کہ ہجوم کو روکیں، ابھی کوئی ہجوم نہیں۔اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ پی ٹی آئی کوہدایت دی جائے کہ اسلام آباد پرچڑھائی نہ کی جائے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اُس وقت براہ راست صورتحال تھی،کیا ابھی کوئی ایسی صورتحال ہے۔

ہم اُس وقت داخل ہوں گے جب کوئی قانون کی خلاف وزری کرے گا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ سیلاب کے پانی کے داخل ہونے کا انتظارکریں گے؟ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سیلاب کہاں ہے؟ کیا سیلاب آگیا ہے؟ جب کوئی صورتحال ہوگی، ہماری فوری توجہ کی ضرورت ہوگی تو ہم چھٹی والے دن بھی ملیں گے، عدالت توازن کرتی ہے، آئین کی پاسداری کرتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملکی قیادت میں سے کوئی بھی آئین وقانون کی خلاف وزری نہ کرے، دوسری صورتحال میں اس کے نتائج ہوں گے، ہمارا سیاسی کردار نہیں، بدھ تک کاروائی ملتوی کی جاتی ہے۔

اس دوران کچھ ہوا تو فوری اقدامات کریں گے۔ البتہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا کیونکہ آئین وقانون کے حدود میں رہ کر احتجاج تو سب کا حق ہے مگر اس کی آڑ میں انتشاروانارکی پھیلانے کی اجازت قطعاََ نہیں ۔اپوزیشن کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے بجائے تشدد کا راستہ اپنانے کے، مطالبات کو منوانے کے لیے سیاسی ڈائیلاگ پر غور کرے جو ملک کے مفاد میں ہو ناکہ ذاتی انا اورخواہش کی تکمیل اس میں شامل ہو۔