|

وقتِ اشاعت :   November 12 – 2022

گزشتہ چند ماہ سے یہ قیاس آرائیاں چل رہی تھیں کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایکسٹینشن لینگے ۔ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ بات اپنی پریس کانفرنس میں کہی تھی کہ جو ہمارے ادارے کے خلاف ہرزہ سرائی کررہے ہیں منفی پروپیگنڈے کے ذریعے ایک گمراہ کن بیانیہ بناکر ادارے کو نشانہ بنارہے ہیں یہ رات کی تاریکی میں ہم سے ملاقات کرکے اپنے مطالبات رکھتے ہیں اور دن میں غیر مہذبانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کا اشارہ واضح طور پر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی طرف تھا اس دوران ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا تھا کہ موجودہ آرمی چیف کو یہ صاحب مستقل ایکسٹیشنشن دینے کی بات کررہے تھے مگر ہمارے ادارے نے کسی بھی سیاسی عمل میں شامل ہونے سے صاف انکار کیا تھا اور ان کی جانب سے رکھی گئی غیرآئینی باتوںکو یکسر رد کردیاگیا تھا۔

بہرحال گزشتہ روز بھی کورکمانڈرز کاایک طویل اجلاس منعقد ہوا، اس اجلاس کے متعلق بھی مختلف افواہیں اور قیاس آرائیاں کی گئیں کہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن پر بھی بات ہوئی ہے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ، جنرل قمر جاوید باجوہ خود متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایکسٹینشن نہیں لے رہے جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آراپنے متعدد پریس کانفرنسز کے دوران ادارے کی جانب سے ان افواہوں کی تردید کرتے آئے ہیں۔ تازی پیشرفت یہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے الوداعی ملاقاتیں شروع کردی ہیںجس سے ایکسٹینشن کی افواہیں دم توڑ گئیں ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیالکوٹ اور منگلا گیریژن کا الوداعی دورہ کیا ۔آئی ایس پی آر کے مطابق افسروں اور جوانوں سے خطاب میں آرمی چیف نے فارمیشنز کی کارکردگی کو سراہا۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ فوجی جوان ہر طرح کے حالات میں اسی جذبے اور عزم کے ساتھ قوم کی خدمت کرتے رہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے مختلف آپریشنز میں قدرتی آفات کے دوران بہترین کارکردگی پر فارمیشنز کو سراہا۔ڈی جی آئی ایس پی آر پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ آرمی چیف اپنی مدتِ ملازمت مکمل ہونے پر ریٹائر ہو جائیں گے اور کوئی ایکسٹینشن نہیں لیں گے، لیکن سوشل میڈیا پر مسلسل یہ خبریں چل رہی تھیں کہ آرمی چیف ایکسٹینشن لے سکتے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے آرمی چیف کی الوداعی ملاقاتوں کی خبر جاری کی ہے۔

جس سے ایکسٹینشن سے متعلق تمام افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔یعنی جو افواہیں گردش کررہی تھیں وہ بے اثر ہوکر رہ گئی ہیں اورجو تعیناتی اب ہونے جارہی ہے وہ انتہائی اہم اور ملکی سیاست کے حوالے سے غیر معمولی ہے کیونکہ پی ٹی آئی نے جس طرح سے اس معاملے کو سیاست کی نذر کردیا ہے آگے چل کر اس پر مزید سیاست کرنے کی کوشش کی جائے گی حالانکہ یہ ایک آئینی معاملہ ہے ۔ادارہ کی جانب سے سینئرز آفیسران کے نام وزیراعظم کو بھیجے جاتے ہیں اور وزیراعظم اپنے صوابدیدی اختیارات کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں جس پر کسی کا اثرانداز ہونا غیرآئینی عمل ہے کیونکہ آئینی معاملات کسی فرد واحد کی خواہش پر نہیں چلائے جاسکتے ،اس لیے سیاستدان اس حوالے سے گریز کریں جو جمہوریت کا راگ الاپتے نہیںتھکتے اورمغرب، امریکہ سمیت دیگر ترقی یافتہ وجمہوری ممالک کی مثالیں دیتے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے قول وفعل کے تضاد سے نکل کر آئین وپارلیمان کی بالادستی پر یقین رکھتے ہوئے سیاست کریں اور حکومت کسی کی بھی تاحیات نہیں ہوتی ۔