|

وقتِ اشاعت :   March 15 – 2023

روس اورکرائن جنگ کو ایک سال مکمل ہوچکا۔کیا ہوا اور مزید کیا ہونے کے امکانات ہیں. آئیے ایک جائزہ لیتے ہیںلیکن اس سے پہلے جاننے کی کوشش کرینگے کہ کیا وجہ ہے کہ روس نے یوکرائن پر یہ جنگ مسلط کی ہے؟
تو اس کا جواب کچھ یوں ہے
روس یوکرین کو تاریخی اعتبار سے اپنی سرزمین کا حصہ تصور کرتا ہے۔ یوکرین کے مغربی ممالک کے اتحاد نیٹو سے بڑھتے ہوئے تعلقات کے رد عمل میں صدر ولادیمیر پوٹن نے، گزشتہ برس امریکہ کے تخمینے کے مطابق، یوکرین کی سرحد پر ڈیڑھ لاکھ اہل کار تعینات کردیے تھے ۔روس نے یوکرائن کے دو سرحدی صوبوں لوہانسک، ڈونسیک میں امن قائم کرنے کے نام پر پہلے اپنی فوج داخل کی تھی اور اب صدر پوٹن نے یوکرائن پر باقاعدہ حملہ کردیا ہے۔ ان دو صوبوں میں پہلے ہی روس کی پشت پناہی سے علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ یہاں کے عوام کو یوکرائن سے خطرہ ہے اس لیے انھوں نے اپنی مدد کے لیے روس کو بلایا ہے۔ امریکہ اور یورپ نے اسے 2014 کے منسک MINSK امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جس پر روس کے بھی دستخط ہیں..
ردعمل کے طور پر امریکہ اور یورپین ممالک نے روسی صدر پوٹن کے قریبی ساتھیوں جن میں پچاس امیر ترین افراد شامل ہیں، کے اثاثوں اور دولت کو منجمد کردیا ہے۔ امریکہ نے روس کے دو بڑے بینکوں پر دنیا میں کسی بھی قسم کے لین دین پر پابندی لگادی ہے۔ برطانیہ نے روس کے امیر ترین افراد کے برطانیہ میں اثاثے منجمد کر دئیے ہیں۔ جرمنی نے روس سے آنے والی گیس پائپ لائن پر کام روک دیا ہے۔صدر بائیڈن اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ روس پر مزید سخت معاشی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ امریکی کانگریس میں ڈیمو کریٹک اور ریپبلکن ارکان روس پر مزید پابندیاں عائدکرنے کا مطالبہ کررہے ہیں جب کہ سابق صدر ٹرمپ نے پوٹن کے ایکشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک جینئس شخص ہے۔
سابق امریکی وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ نے نیویارک ٹائمز میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ پوٹن کی خواہش ہے کہ روس کی سابقہ حیثیت کو بحال کیا جائے۔ وہ جمہوریت کو تیاگ چکا ہے اور سٹالن کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ وہ یوکرائن کو روس کا حصہ سمجھتا ہے۔ جبکہ یوکرائن کے عوام روس کی بجائے یورپ کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک روس کے خلاف جمہوریت کا نعرہ مار کر کب عملی قدم اٹھاتے ہیں…ایک اندازے کے مطابق روس کا ایک سال کا دفاعی بجٹ، امریکہ کے ایک ماہ کے بجٹ کے برابر ہے…جلد معلوم ہوجائے گا کہ دولت کی لالچ میں افغانستان ، عراق اور لیبیا کی کمزور افواج کے خلاف پاگل کتوں کی طرح امریکی جنگ میں کود جانے والے نیٹو ممالک اب روس کے خلاف یوکرائن کی خالص اصل انسانی بنیادوں پر سپورٹ کرنے کے لیے جنگ کا حصہ بنتے ہیں یا نہیں ؟؟ اب کم سے کم یہ تو معلوم ہو ہی جائے گا کہ یورپ کتنا “انسان دوست” خطہ ہے !
دوسری طرف روس کے لیے مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر یوکرائن ویسٹرن کیمپ میں چلا جاتا ہے یورپی یونین کی ممبرشپ کی صورت میں یا نیٹو کی ممبر شپ کی صورت میں تو یہ روس کیلئے ناقابل برداشت نقصان ہے۔یہ جنگ صدر پوٹن کے 20 سالہ دور کا سب سے بڑا جوا بھی ثابت ہوسکتا ہے جس کیلئے انہوں نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے جس سے ان کی سیاسی ساکھ اور روس کے بڑی پاور ہونے پر سوالیہ نشان لگے گا۔
یہ جنگ چند ممالک کے لیے بھی موت و زیست کا مسئلہ بن چکا ہے
روس اپنے کھوئی ساکھ کی مکمل بحالی چاہتا ہے جوکہ اسی جنگ میں پوشیدہ ہے۔اسی طری پورے یورپ اور ناٹو بھی اس کو اپنی مکمل شکست اور جیت کے تناظر میں دیکھتا ہے۔” یہاں یہ بات نوٹ کرلیں نیٹو براہ راست اس جنگ میں حصہ دا رنہیں ” جو کچھ یورپ کر رہا ہے اسی کو نیٹو ہی کا طرز عمل شمار کیا جانا چاہیے۔
گزشتہ ہفتے ایک یورپی ملک نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ یوکرائن جنگ میں ہم اتنا اسلحہ استعمال کر رہے ہیں جتنے یورپی اسلحہ ساز کمپنیاں بنانے سے قاصر ہیںیعنی انتہائی درجے کی فینانشل کاسٹ ہورہی ہے۔ یورپی ممالک میں یوکرائن کی سب سے زیادہ مالی اور عسکری مدد جرمنی کر رہا ہے۔اس ایک سالہ جنگ میں جرمنی کو اب تک 107 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ جنگ ابھی جاری ہے اور یورپ مزید نقصان اٹھاتا ہی رہے گا۔
چین اس جنگ میں روسی بلاک میں خدمات سرانجام دے رہا ہے. پردے کے پیچھے کئی ارب ڈالر کے عسکری ٹیکنالوجی روس کو فراہم کر چکا ہے، جس کی جرمنی سمیت کئی ممالک نے نپی تلی زبان میں چین کو دھمکی آمیز انتباہ کی۔ایران بھی روس کو خودکش ڈرون طیارے فراہم کرتا پکڑا جا چکا ہے اور اسے اس کی سزا کچھ یوں مل چکی ہے کہ گزشتہ مہینے کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایک خفیہ مشن میں ایران کی ڈرون فیکٹری تباہ کردی ہے۔انٹرنیشل سیاست کے چھپے راز کے مصداق یہ بات زیادہ شوروغل سے دہرائی نہیں گئی ،غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق پاکستان سے بھی یوکرائن کو افرادی قوت فراہمی کے شواہد ملنے کے بعد روس نے اسے آگ سے کھیلنے کی دھمکی دی ہے۔اس جنگ میں روس کو بھی نقصان ہو رہا ہے کیونکہ یورپ روس کی بہت بڑی منڈی تھی۔ جنگ کی وجہ سے روس اور یورپ کی تجارت 50 فیصد سے بھی کم ہو کر رہ گئی ہے۔ روس اب نئی منڈی اور نئے تجارتی راستے تلاش کر رہا ہے۔ روس کو اِتنا نقصان اِس لئے نہیں ہو رہا کیونکہ خوراک اور توانائی دونوں میں روس خود کفیل ہے لیکن یوکرائن جنگ صرف ٹیکنالوجی سے جیتی جا سکتی ہے جس میں مغرب کو برتری حاصل ہے۔ لیکن اس روسی شدت کو کم کرنا بھی نہیں چاہتے ۔اس کی تازہ ترین مثال روسی کی طرف سے کروز مزائلوں کا استعمال ہے جو کہ چند دن پہلے تقریباً یوکرائن کے ہر شہر میں داغ جاچکا ہے۔ہم اس کی ایک جھلک ڈوگن کے بیان سے بھی لے سکتے ہیں۔پیوٹن کے مشیر الیگزینڈر ڈوگن نے کہا ہے کہ روس یوکرائن کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ وہاں سے شیطان کے اثرات کو ختم کر رہا ہے۔ڈوگن نے کہا کہ امریکا اور یورپ کو اب تسلیم کر لینا چاہئے کہ دنیاپھرسے دوحصوںمیںتقسیم ہوگئی ہے جس کے ایک حصے کی قیادت روس کے پاس ہے اور چین اور انڈیا اس کے پارٹنر ہوں گے۔
اِس جنگ کا فیصلہ کب کا ہو چکا ہوتا اگر مغرب براہ راست اِس جنگ میں حصہ لیتا یا نہ لیتا۔ پیچھے ہٹ کر اور صرف یوکرائن کو سپورٹ کر کے مغرب نے اِس جنگ کو اور طول دے دی۔ صرف اپنا ہی نقصان کروا بیٹھا۔ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اب براہ راست جنگ میں حصہ لینا ایٹمی جنگ چھڑنے کے مترادف ہوگا کیونکہ یوکرائن پر روس کی پوزیشن بالکل واضح ہے۔اس جنگ کا سرا اب تک کسی کو معلوم نہیں لیکن جتنی دیر تک جاری رہے گی پاکستان جیسے غریب ممالک کے لیے مہنگائی کا سامان ہوتا رہے گا
چاہے وہ گندم، کوکنگ آئل کی شکل میں ہو یا پھر کروڈ آئل جوکہ پہلے سے ہی اس کی پہنچ اور اوقات سے باہر ہے۔