|

وقتِ اشاعت :   January 3 – 2024

ملک میں عام انتخابات کاوقت پر ہونا ضروری ہے مگر اس کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے الیکشن مہم کو آسانی سے چلاسکیں ،

آخر میں فیصلہ عوام نے اپنے حق رائے دہی سے ہی کرنا ہے الیکشن میں تاخیر بالکل نہیں ہونی چاہئے اور ملک اس کا متحمل نہیںہوسکتا ۔جہاں تک اہم شخصیات یا جماعتوں کو تھریٹ ہیں تو انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا نگراں حکومت کی ذمہ داری ہے ،ان کے نقل وحرکت کو تو روکا نہیں جاسکتا کیونکہ انہیں الیکشن لڑنے کے لیے عوام کے درمیان جانا تو ضرور پڑے گا ،اجتماعات بھی منعقد کرینگے اس کے بغیر الیکشن کا ماحول ہی نہیں بن پائے گا جبکہ بعض سیاسی شخصیات یہ کہہ رہی ہیں کہ اگر انتخابات میں کچھ تاخیر ہوئی تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن ہماری تاریخ گواہ ہے کہ الیکشن جب ملتوی ہوئے تو پھر ایک طویل عرصے تک منعقد نہ ہوسکے مگر وہ آمرانہ دور تھا اب ایک جمہوری عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے

اسے آگے بڑھانا ضروری ہے ،دنیا بھر کی نظریںپاکستان پر لگی ہوئی ہیں کہ پاکستان میں عام انتخابات اور ان کی شفافیت کیسی ہوگی ۔چونکہ بڑی سیاسی جماعتیں یکساں مواقع نہ ملنے کا شکوہ کررہی ہیں کہ انہیں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی جارہی جبکہ نگراں حکومت کی جانب سے کہاجارہا ہے کہ سب کو یکساں مواقع فراہم کئے جارہے ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ الیکشن بروقت ہوں اسی ذمہ داری کے تحت ہم اپنا کام کرینگے ۔

مگر چہ مگوئیاں بہت ہورہی ہیں الیکشن میں تاخیر ہوگی جوکہ افواہ ہیں سیاسی شخصیات یہ ضرور کہہ رہی ہیں کہ الیکشن اگر آگے پیچھے ہونگے تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں مگر یہ مکمل طور پر نہیں کہہ رہے کہ الیکشن میں تاخیر کی جائے اور ایک لمبی مدت تک نگراں حکومت نظام کو چلائے ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ ملک میں ایک مستحکم سیاسی نظام اور حکومت کے ذریعے ہی تمام چیلنجز کا مقابلہ کیاجاسکتا ہے۔

بہرحال پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری این جی او پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے پاکستان میں 2023 میں جمہوریت کے معیار پر رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نگران حکومتوں کا طویل اقتدار آئین اور جمہوریت کی روح کے منافی ہے،2023 پاکستان میں جمہوریت کے لیے ایک اورکٹھن سال تھا۔

پلڈاٹ کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح نا اہل کیا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی پر سب سے بڑا الزام 9 مئی کے واقعات کا ہے

رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ادارے کی ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت کی بات کی، نواز شریف کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت دکھائی دے رہی ہے، الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی جماعت اور سپریم کورٹ کے دباؤ کو برداشت کیا،

ملک صاف شفاف انتخابات کے لوازمات پورے کیے بغیر انتخابات میں جا رہا ہے۔پلڈاٹ کے مطابق قانونی جنگ کے باوجود ملک میں 90 روز میں انتخابات نہیں ہو سکے۔

پلڈاٹ کا کہنا ہے کہ آزاد تجزیہ کاروں کے مطابق الیکشن کمیشن نے ڈسکہ انکوائری سے اپنی ساکھ کو بحال کیا، عمرعطا بندیال کا بطور چیف جسٹس کردار قابل تعریف نہیں رہا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی آزادی میں کوئی بہتری نہیں آئی، آزاد آوازوں کو دبایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق صدر عارف علوی الیکٹورل کالج کے نہ ہونے سے مستفید ہوئے، انہوں نے پی ٹی آئی کا ایجنڈا آگے بڑھایا، ان کے متعصب صدر ہونے کے کافی ثبوت ہوں گے۔

بہرحال رپورٹ میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے انکار کیاجاسکے بعض چیزیں حقائق پر مبنی ہیں اختلاف اگر کوئی رکھے وہ اپنی جگہ مگر ملک میں سیاسی مداخلت کا اعتراف کیا گیا ،ایک شخص کو لاڈلے کی طرح نوازتے ہوئے لایا گیا ،اب ایک بار پھر ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کے متعلق بھی یہی رائے پائی جارہی ہے کہ انہیں لاڈلے کی طرح ٹریٹ کیاجارہا ہے ،

سابق ججز کے متعلق بھی باتیں درست ہیں مگر ایسی تمام غلطیوں سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ادارے غیر جانبدار رہیں، جماعت کے سربراہان بھی لاڈلابننے کی بجائے عوامی طاقت پر یقین رکھتے ہوئے میدان میں اتریں جبکہ عدلیہ کو آئین کے تحت اپنے فرائض سرانجام دینے چاہئیں تب جاکرملک میں استحکام آئے گا اور یہ سب جمہوری نظام کے تحت ہی ممکن ہے۔