گوادر(:چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس یحیٰ آفریدی نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب محمد ہاشم کاکڑ کے ہمراہ بلوچستان کے مختلف اضلاع کے سیشن ججز کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس کا مقصد دور دراز اور پسماندہ اضلاع میں ججوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لینا اور ان کے حل کے لیے اقدامات تجویز کرنا تھا۔
دور دراز کے اضلاع کے ججز نے زوم کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ جوڈیشل کمیشن کے علی رضا نے جناب چیف جسٹس آف پاکستان کو تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہر ضلع کے ججوں کو ایک پرفارمہ دیا گیا تھا جس پر انہوں نے اپنے مسائل درج کیے۔ان میں سب سے بڑا مسئلہ عدالتی بلڈنگز کی کمی کا سامنے آیا۔
چیف جسٹس کا ویژن جناب چیف جسٹس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین ترجیح دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں عدالتی نظام کو بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اضلاع کے ججز جو سخت حالات میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں اولین ترجیح دی جائے گی، چاہے وہ بین الاقوامی تربیتی دوروں کے لیے ہو یا دیگر سہولیات کے لیے۔
جدید سہولیات پر زورچیف جسٹس نے کہا کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ ججز نہ صرف اپنے سبجیکٹ میں بلکہ دیگر اہم موضوعات میں بھی مہارت حاصل کریں۔
انہوں نے ججز کو یقین دلایا کہ سپریم کورٹ کے دروازے ان کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں اور کسی بھی مسئلے پر وہ براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔
اجلاس میں کئی اہم مسائل زیر بحث آئے، جن میں عدالتوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری، خواتین ججز کے لیے ریسٹ رومز، آن لائن لائبریری کا قیام، سیکیورٹی کیمرے، اور انٹرنیٹ کی سہولیات شامل ہیں۔
چیف جسٹس نے بذات خود ججز کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے عدالتوں کو مکمل طور پر سولرائز کرنے کی درخواست کی اور جوڈیشل اکیڈمی کے آن لائن کلاسز کے مسائل کو اجاگر کیا۔
اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا۔
کاش آج میرے بزرگ یوسف مستی خان زندہ ہوتے اور مجھے بلوچستان خصوصاً گوادر کے دورے پر دیکھتے۔
یہ بیان ان کی بلوچستان سے گہری وابستگی اور گوادر کے عوام کے لیے ان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ اجلاس عدالتی نظام کی بہتری، ججوں کی سہولیات، اور بلوچستان کے اضلاع میں انصاف کی فراہمی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
چیف جسٹس کی قیادت میں یہ عزم امید کی ایک کرن ہے کہ دور دراز کے علاقوں میں بھی عدلیہ کے مسائل کو موثر طور پر حل کیا جائے گا۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس یحیٰ آفریدی نے اپنے اولین دورہ گوادر کے دوران جیل اصلاحات پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
ان کے ہمراہ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب محمد ہاشم کاکڑ، بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز، سیشن جج گوادر ظفر جان بلوچ، کمشنر مکران داؤد خان خلجی، ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمن، ڈی آئی جی مکران رینج پرویز عمرانی، آئی جی جیل خانہ جات شجاع کاسی، اور ایس ایس پی گوادر ضیا مند و خیل نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان کو دورے کے موقع پر چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی، جس نے تقریب کو مزید باوقار بنا دیا۔
اجلاس کے دوران، جوڈیشل کمیشن کے علی رضا نے چیف جسٹس کو جیل اصلاحات اور قیدیوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
چیف جسٹس نے جیلوں کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر لانے کے لیے ایک جامع کمیٹی تشکیل دی، جس میں روشن خورشید بروچہ، ایڈووکیٹ شکر بی بی، زرغونہ کاکڑ، اور ریٹائرڈ جج نذیر احمد لانگو شامل ہیں۔
یہ کمیٹی بلوچستان کی تمام جیلوں کا دورہ کرے گی اور اپنی رپورٹ براہ راست ریٹائرڈ جج کو جمع کرائے گی۔
چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ کمیٹی کو ہر قسم کی معاونت فراہم کی جائے تاکہ اصلاحاتی عمل کو مؤثر انداز میں مکمل کیا جا سکے۔
اجلاس میں جیلوں میں صحت و صفائی، قیدیوں کی سہولیات، اور عدالتی معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
چیف جسٹس نے سیشن ججز کو ہدایت کی کہ وہ جیلوں کے دوروں کے دوران زیر التواء مقدمات کو فوری طور پر نمٹانے کی کوشش کریں۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ بلوچستان میں مجموعی طور پر 12 جیلیں ہیں، جن کی گنجائش پر کوئی مسئلہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں بلوچستان سے متعلق 66 زیر التواء مقدمات ہیں، جن کی جلد سماعت کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
گوادر دورے کی اہمیتکے حوالے سے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد سے باہر ان کا یہ پہلا دورہ ہے، اور انہوں نے بلوچستان کو اولین ترجیح دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ جیل اصلاحات کے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور عوامی تعاون کے خواہاں ہیں۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی پر ڈکٹیشن دینا نہیں بلکہ باہمی تعاون سے جیلوں میں اصلاحات لانا ہے تاکہ قیدیوں کو معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں اور عدالتی نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔
یہ دورہ نہ صرف جیل اصلاحات کے لیے اہم پیشرفت ہے بلکہ بلوچستان کے عوام کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کی سنجیدگی اور عزم کا واضح ثبوت بھی ہے۔