|

وقتِ اشاعت :   6 hours پہلے

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے رکن جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس میں کہا ہے کہ فوجی عدالت کا سامنا کرنے والوں کا دوبارہ ٹرائل ممکن نہیں، ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو 1973 سے اپیلیں آنا شروع ہو جاتیں۔

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

دوران سماعت سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیے کہ سویلین کو فوجی تحویل میں دینے کا فیصلہ درست نہیں، حوالگی فرد جرم عائد ہونے کے بعد ہی دی جاسکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ملزم فرد جرم عائد ہونے سے قبل بھی ملزم ہی ہوتا ہے، مجرم نہیں بن جاتا۔

وکیل فیصل صدیقی نے موقف اپنایا کہ فوجی عدالتوں کے خلاف 5 رکنی بینچ کا ایک نہیں 3 فیصلے ہیں، تمام ججز کا ایک دوسرے کے فیصلے سے اتفاق تھا، ججز کے فیصلے یکساں اور وجوہات مختلف ہوں تو تمام وجوہات فیصلے کا حصہ تصور ہوتی ہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ججز نے اضافی نوٹ نہیں بلکہ فیصلے لکھے تھے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ تمام 5 ججز متفق تھے کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا، فیصل صدیقی نے دلائل دیے کہ عزیربھنڈاری نے انٹراکورٹ اپیل کا دائرہ اختیار محدود ہونے کا موقف اپنایا، وہ عزیر بھنڈاری کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے۔

فیصل صدیقی نے کہا کہ عزیر بھنڈاری کا انحصار پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں جسٹس منصور شاہ کے نوٹ پر تھا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جسٹس منصور نے ماضی سے اپیل کا حق درست قرار دیا تھا میں نے اختلاف کیا، ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو 1973 سے اپیلیں آنا شروع ہو جاتیں۔

فیصل صدیقی نے کہا کہ اپیل کا دائر محدود کر دیا تو ہماری کئی اپیلیں بھی خارج ہوجائیں گی، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ نظرثانی درخواست فیصلہ دینے والا، جب کہ انٹرا کورٹ اپیل لارجر بینچ سنتا ہے، لارجر بینچ مقدمہ پہلی بار سن رہا ہوتا ہے اس لیے پہلے فیصلے کا پابند نہیں ہوتا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ جن کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوچکا ان کا دوبارہ ٹرائل ممکن نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں فوجی عدالت سزا دے کر اے ٹی سی کو کیس بھیج دے، آرمی ایکٹ میں تو ایف آئی آر کا تصور ہی نہیں ہے۔

فیصل صدیقی نے دلائل میں کہا کہ ملزمان کی حوالگی کے لیے مجسٹریٹ جائزہ لے کر کیس انسداد دہشت گردی عدالت کو بھیجتا ہے، ملزم کی حوالگی کے وقت عدالت کو تسلی ہونی چاہیے کہ فوجی عدالت کا جرم بنتا ہے یا نہیں، صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی کا کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا۔

کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کل بھی دلائل جاری رکھیں گے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *