سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔
فیصل صدیقی کے دلائل
سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے گزشتہ سماعت سے جڑے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ کمانڈنگ افسرز نے ملزمان کی حوالگی کے لیے درخواستیں دیں، درخواستوں کا آغازہی ان الفاظ سے ہوا کہ ابتدائی تفتیش میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا جرم بنتا ہے، درخواست کے یہ الفاظ اعتراف ہیں کہ تفتیش مکمل نہیں ہوئی تھی۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کی حوالگی کے لیے جو وجوہات دیں وہ مضحکہ خیز ہیں، انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج نے ملزمان کی حوالگی کے احکامات دیے، انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کو تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی قصوروار لکھ دیا۔
’لگتا ہے انسداد دہشتگردی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں‘
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ راولپنڈی اور لاہور کی عدالتوں کے حکم ناموں کے الفاظ بالکل ایک جیسے ہیں، لگتا ہے انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں۔
فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کی حوالگی کا حکم عدالت دے سکتی ہے ایڈمنسٹریٹو جج نہیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی کا قانونی اختیار صرف کو ہی ہے۔
وکیل سول سوسائٹی نے کہا کہ آرمی ایکٹ سیکشن 59(1) کے تحت فوجی افسران کی قتل و دیگر جرائم میں سول عدالت سے کسٹڈی لی جا سکتی ہے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 59 (4) کا اطلاق بھی ان پرہی ہوتا ہے جو آرمی ایکٹ کے تابع ہوں۔
’آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی‘
جسٹس جمال مندو خیل کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی، جس پر فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ جن مقدمات میں حوالگی کی درخواستیں دی گئیں ان میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات عائد نہیں کی گئی تھیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے یاد دلایا کہ ایک ایف آئی آر میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات بھی عائد تھیں، جس پر فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی ایف آئی آر انہیں ریکارڈ پر نظر نہیں آئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حوالگی والی ایف آئی آر پڑھیں اس میں الزام فوجی تنصیب کے باہر توڑپھوڑ کا ہے۔
فوجی عدالتوں میں ملٹری ٹرائل کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت میں وقفہ
بعدازاں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت میں مختصر وقفہ کر دیا گیا۔
وقفے کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی چارج فریم کے بعد ہو سکتی ہے، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ چارج فریم کی بات کر رہے ہیں چارج فریم تو ساتھ نہیں ہوتا،
فیصل صدیقی نے کہا کہ ایف آئی آر کی بنیاد پر کسٹڈی پھر پولیس سے ہی لے لی جائے، پولیس والوں نے کسٹڈی کا فیصلہ کرنا ہے تو پھر عدالت کی کیا ضرورت ہے۔
آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ یہ تشخیص کیسے ہوئی کہ کون لوگ ملوث ہیں؟ جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تشخیص ہوئی کہ یہ لوگ ملوث ہیں، عدالتیں اسی ليے ہوتی ہیں کہ قانون کا غلط استعمال روکا جا سکے۔
شاعر احمد فراز کیس کا حوالہ
وکیل فیصل صدیقی نے احمد فراز کیس میں عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ احمد فراز کو شاعری کرنے پر گرفتار کیا گیا عدالت نے ریلیف دیا، احمد فراز پر الزام تھا کہ شاعری کے ذریعے آرمی افسر کو اکسایا گیا۔
فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ احمد فراز اور فیض احمد فیض کے ڈاکٹر ان کے والد تھے، مجھ پر بھی اکسانے کا الزام لگا لیکن میں گرفتار نہیں ہوا، جس پر جمال مندوخیل نے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دیا کہ آپ کو اب گرفتار کروا دیتے ہیں، اس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ آپ ججز کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔
## جج اور ٹرک ڈرائیور کا قصہ
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ احمد فراز کی کونسی نظم پر کیس بنا تھا مجھے تو ساری یاد ہیں، بطور وکیل کیس ہارنے کے بعد میں بار میں بہت شور کرتی تھی، میں کہتی تھی ججز نے ٹرک ڈرائیورز کی طرح اشارہ کہیں اور کا لگایا اور گئے کہیں اور۔
اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جج بن کر آپ بھی ٹرک ڈرائیور والا کام ہی کر رہی ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر کی اس بات پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے فیصل صدیقی سے کہا کہ ان کی بات کو گہرائی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے جسٹس مسرت ہلالی سے دریافت کیا کہ کیا وہ بھی ٹرک چلاتی ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ٹرک تو میں چلا سکتی ہیں۔
میرے والد ایک فریڈم فائٹر تھے، جسٹس مسرت ہلالی
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ میرے والد ایک فریڈم فائٹر تھے، ان کی ساری عمر جیلوں میں ہی گزری، میرے والد جو شاعری کرتے تھے وہ کچھ دن پہلے پشتون جرگے میں کسی نے پڑھی، جرگے میں میرے والد کی شاعری پڑھنے والا گرفتار ہوگیا۔
جسٹس مسرت ہلالی کے مطابق شاعری پڑھنے والے نے بتایا کہ کس کا کلام ہے اور اس کی بیٹی آج کون ہے، والد کی شاعری پڑھنے والے کو بہت مشکل سے رہائی ملی، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ وقت کے حساب سے شاعری اچھی بری لگتی رہتی ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا کہ اب تو چرسی تکہ والے کو بھی اصلی چرسی تکہ لکھنا پڑتا ہے۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ انہیں تمام ججز سے اچھے کی امید ہے، جس پر جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھنے والے ہیں۔
’سوشل میڈیا کے دور میں احمد فراز کا دفاع کیوں ممکن نہیں؟‘
جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ ہلکے پھلکے انداز میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، شاعر احمد فراز نے توعدالت میں یہ کہہ دیا تھا کہ یہ نظم میری ہے ہی نہیں، جسٹس افضل ظلہ نے احمد فراز سے کہا آپ کوئی ایسی نظم لکھ دیں جس سے فوجی کے جذبات کی ترجمانی ہو جائے۔
جسٹس نعیم اختر افغان کے مطابق احمد فراز نے اپنے دفاع میں کہا تھا کہ میرے پاس تو وسائل ہی نہیں کہ اپنی نظم کی تشہیر کر سکوں، آج کل تو سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، اگر احمد فراز اس وقت کوئی نظم لکھتے تو سوشل میڈیا کے اس دور میں وہ یہ دفاع نہیں لے سکتے تھے۔
بعدازاں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی ہوگئی جبکہ سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی اپنے دلائل کل بھی جاری رکھیں گے۔
سانحہ 9 مئی سے متعلق عمران خان کی درخواست پر سماعت
دوسری جانب سپریم کورٹ میں سانحہ 9 مئی سے متعلق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت قبل ازگرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران ایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل پنجاب نے مقدمات ملتوی کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے 2 ہفتے کی مہلت دے دی۔
چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سانحہ 9 مئی سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی ضمانت قبل ازگرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے مقدمات ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اپنایاکہ عدالت کے سامنے کچھ اضافی ریکارڈ پیش کرنا چاہتے ہیں ایک ہفتے کی مہلت دی جائے، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے بغیرکارروائی کے سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ آئندہ ہفتے نہیں اس سے اگلے ہفتے سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں، بینچ نے جسمانی ریمانڈ سمیت دیگرملزمان کے مقدمات بھی ملتوی کردیے گئے۔
Leave a Reply