|

وقتِ اشاعت :   3 days پہلے

اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پختونخوا اور بلوچستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہرممکن مدد فراہم کریں گے۔
 کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کا دوسرا اجلاس وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی صدارت میں ہوا، جس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی پاسپورٹ، نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا، چیف کمشنر اسلام آباد، کوآرڈینیٹر نیشنل ایکشن پلان اور سکیورٹی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

علاوہ ازیں وزیر قانون پنجاب ملک صہیب احمد، مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر  محمد علی سیف، وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار، وزیر داخلہ آزاد کشمیر اور وزیر داخلہ گلگت بلتستان کی اجلاس میں موجود تھے۔ تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے سیکرٹریز داخلہ اور آئی جیز نے زوم کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم، آرمی چیف اور تمام اسٹیک ہولڈرز ایک صفحے پر ہیں۔ صوبوں کی مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس میں صوبوں میں  کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار کو بڑھانے پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ  لیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مؤثر سدباب کے لیے صوبائی سطح پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو مکمل طریقے سے فعال کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ اس ضمن میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کو بھر پور طریقے سے فعال کیا جائے گا۔  اجلاس میں نیشنل اور پراونشل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سینٹرز کے قیام پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سینٹرز کے قیام کی منظوری دی جا چکی ہے۔ تمام صوبوں میں بھی پراونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سینٹرز کے قیام پر کام جاری ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کی تنظیم نو کے بعد اسے نیشنل ریزرو پولیس میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر بہتر مانیٹرنگ کو یقینی بنانے کے لیے دھماکا خیز مواد کو وفاقی سبجیکٹ بنانے پر اتفاق  کیا گیا۔

اجلاس میں وزارت خارجہ کے ذریعے افغان  حکومت کے سامنے دہشت گردی کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ تمام ادارے غیر ملکی شہریوں کی فول پروف سکیورٹی کے ایس او پیز  پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *