|

وقتِ اشاعت :   13 hours پہلے

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اہم مذاکرات کا سلسلہ پیر سے شروع ہونے جا رہا ہے، جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ، نجکاری، محصولات اور معاشی اصلاحات سمیت متعدد اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے سینئر حکام شرکت کریں گے، جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کے ماہرین بھی مشاورت کا حصہ ہوں گے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد آئندہ وفاقی بجٹ کی تیاری اور مالی پالیسی کے اہم نکات پر مشاورت ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران سات اہم شعبوں میں پالیسی تبدیلیوں پر بات چیت ہوگی، جن میں بجٹ سازی، نجکاری، خساروں سے نمٹنے کی حکمت عملی، قرضوں کی واپسی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، ٹیکس محصولات میں اضافے اور وفاقی اخراجات پر کنٹرول کے اہداف شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ریئل اسٹیٹ، فوڈ گروپ اور ٹیکسوں کی شرح اہم ترین موضوعات ہوں گے۔ وفاقی منصوبوں اور سرکاری شعبے کی کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ منصوبوں کی لاگت اور اصل اخراجات کے تخمینے کے لیے نیا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔

نجکاری کے عمل کو تیز کرنے، کرپشن سے نمٹنے اور ٹیکس چوری پر قابو پانے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں اور حکام کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ بھی ان مذاکرات کا حصہ ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے آئندہ مالی سال میں مالی معاونت کی امید ہے، جس کے لیے ان مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ان مذاکرات کے نتائج نہ صرف بجٹ کی سمت کا تعین کریں گے بلکہ معیشت کے استحکام کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *