کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے حکومتی اراکین نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو متوازن قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام علاقوں کو یکساں ترجیح دی گئی ہے۔
اپوزیشن ارکان نے شکوہ کیا ہے کہ ان کے حلقوں کو ترقیاتی کاموں میں نظر انداز کیا گیا ہے۔
پیر کو بلوچستان اسمبلی کااجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدرارت میں آدھے گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔
اجلاس میں وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بلوچستان مالیاتی مسودہ قانون 2025 ایوان میں پیش کیا جسے ایوان نے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔
اجلاس میں رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملہ کے خلاف ہیں ہمیں ایران کے مسلمانوں کی مدد کرنی چاہیے۔
ٹرمپ ، مودی اورنیتن یاہو کو امن کانہیں بلکہ فساد کانوبل کاایوارڈ ملناچاہیے۔
نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ دنیا میں سردجنگ شروع ہوگئی ہے۔
فسلطین ا ورایران پر اسرائیل کی دہشت گردی کی مذمت کرتاہوں۔
ہم ایران اورفلسطین کے بھائیوں کی حمایت کریں ہمیں امریکہ کاساتھ نہیں دیناچاہیے۔
ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت جوڑنے کی اور وفاق کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
بلوچستان کے عوام کو ووٹ کا حق ملناچاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اختیارات کے بغیر بلوچستان ترقی نہیں کرسکتا۔
بلوچستان میں جہالت ختم اور غربت کو کم کرنے ضرورت ہے۔
بلوچستان پاکستان میں سب سے بڑا کرپٹ ترین صوبہ ہے۔
صوبے میں کرپشن ختم ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ سب سے بڑاہے۔
ریاست اپنادل بڑا کرے اور ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کو رہاکیاجائے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے مسائل حل ہونے چاہیے۔
بجٹ میں میرے تمام منصوبے نکال دیئے گئے ہیں۔
اجلاس میں صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پسماندہ صوبہ ہے جسکے لئے مالی سال 2025-26 بہترین بجٹ بنایاگیاہے۔
بجٹ میں بہت سی کمی بیشیاںبھی ہیں۔
2024-25 بجٹ کی 100 فی صدرقم خرچ ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ پر دنیا بھر میں اعتراضات ہوتے رہتے ہیں۔
اپوزیشن کے حلقوں کو بھی ترجیح بنیادوں پر فنڈز دیئے گئے ہیں۔
ہم سب کا نظریہ ہے کہ بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔
ہماری بھی خواہش ہے کہ صوبے کے ہرنوجوان کو روزگارملے ، غربت ختم ہو۔
اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن فضل قادر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے نئے مالی سال میں کوئی میگا پروجیکٹ نہیں۔
نوجوانوں کو روزگار کہاں سے دیں گے۔
اضلاع کو مساوی فنڈز فراہم نہیں کیاگیاہے۔
ہسپتالوں میں ادویات نہیں ہیں۔
ژوب مسائلستان بن چکاہے اس کے ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ژوب کے سکولوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
کمرے بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے۔
بجٹ میں انصاف سے کام نہیں لیاگیاہے۔
ہمارے وسائل کم ہیں کہ اپنے حلقے کے مسائل حل کرسکیں۔
غربت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ خواتین بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔
آزاد رکن اسمبلی مولوی نور اللہ نے کہا کہ انہیں پشتومیں تقریر کرنے کی اجازت دی جائے۔
جس پر اسپیکر نے انہیں قوانین کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت وہ کسی اور زبان میں تقریر نہیں کرسکتے۔
جس پر مولوی نور اللہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی سمیت بجٹ دستاویزات یو ایس بی میں فراہم کی گئیں جنہیں استعمال نہیں کرسکتا۔
پی ایس ڈی پی کتابیں انگریزی میں ہیں ، جنہیں میں پڑھ نہیں سکتا۔
دستور پاکستان1973 میں بنا، جن میں قومی زبان اردو ہے لیکن ایوان میں اردو زبان نظر نہیں آرہی ہے۔
75 سال مکمل ہوچکے ہیں ، اپنا بجٹ اردو میں نہیں بناسکے۔
مولوی نوراللہ نے کہا کہ بجٹ میں حکومت اتحادی ہونے کے باوجود شدید تحفظات رکھتاہوں۔
35 اضلاع میں سب سے زیادہ زیادتی ضلع شیرانی اور سوراب سے ہوئی ہے۔
وفاق محاصل کس بنیاد پر تقسیم کرتاہے۔
بجٹ میں پسند اور ناپسند کی بنیادوں پر فنڈز رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ مال غنیمت نہیں ہے۔
رشوت لینے اوردینے والا جہنمی ہیں چاہیے وہ وزیراعلی ہو، وزیرخزانہ ہو یاکوئی اور۔
بیورو کریسی نے نوکریاں بیچی ہیں۔
مجھ پر بھی رشوت لینے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔
اس ایوان مقدس کہنا برا لگ رہاہے یہ معزز ایوان نہیں یہاں رشوت لینے اوردینے والے بیٹھے ہیں۔
رشوت خوروں نے میرے ضلع قلعہ سیف اللہ کو پسماندہ رکھاہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آج تک رشوت نہیں لی۔
مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر و صوبا ئی میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان کے بجٹ میں کسی شخص نہیں بلکہ عوام کیلئے بجٹ بنایا گیا ہے۔
کئی حلقوں میں اپوزیشن کو حکومتی ارکان سے زیادہ فنڈز ملے ہیں۔
اگر اپوزیشن کے حلقوں میں محرومیاں اور غربت کم ہوگی تو اس میں کیا حرج ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت یا اپوزیشن کی تفریق کے بغیر بلوچستان کے نمائندہ ایوان کی سفارشات پر صوبے کی تعمیر و ترقی کو ترجیح دی ہے۔
آنے والے وقت میں بلوچستان میں ترقی نظرآئے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں رواں مالی سال میں 95فیصد فنڈز خرچ ہوئے جوکہ نیک شگون ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں پی اینڈ ڈی میں کمیشن مافیا اسکیمات شامل کرتاتھا۔
اس بار وزیراعلیٰ اور صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی کی کاوشوں سے یہ سلسلہ روکاگیا ہے اور کمیشن کو ختم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت گڈ گورننس کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ منصوبوں میں پی ڈی کی تعیناتی کے طریقہ کار کی وجہ سے مسائل درپیش تھے جس پرنظرثانی کی جارہی ہے۔
جو منصوبے نہیں چل رہے تھے ان پر نوٹس لیکر کام شروع کیا گیا۔
صوبے میں سڑکوں اورانفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔
محکموں میں اوپن ٹینڈرنگ اور کنسلٹنٹ رکھ رہے ہیں۔
محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں کوئٹہ سمیت کئی علاقوں میں سڑکیں بنائی ہیں جن سے صورتحال بہتر ہوئی ہے۔
آنے والے دنو ں میں مزید سڑکیں بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے حیردین ڈرینج کیلئے پانچ ارب روپے رکھے ہیں۔
اس سے صحبت پور اور نصیرآباد ڈویژن میں سیلاب کا مسئلہ حل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن کو موٹر وے سے منسلک کرنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے لیکن صورتحال اس قدر خراب نہیں کہ نوجوانوں میں مایوسی پھیلائی جائے۔ہمیں نوجوانوں میں امید پیدا کرنی ہوگی کہ انہوں نے اس صوبے اور ایوان کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔
محض سیاست کیلئے مایوسی کی بات کرنا نامناسب ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات میں چند ایک حلقوں میں ضرور بے ضابطگیاں ہوں گی لیکن پوری بلوچستان اسمبلی پر الزام لگانا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز بلوچستان اور پاکستان کیلئے اہم ہے۔
یہ مالی مائنز اینڈ منرلز کے نام کریں اس سے صوبے اورملک کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔
پارلیمانی سیکرٹری توانائی میر اصغر رند نے کہا کہ میرے حلقے کے سکولز کو اپ گریڈ نہیں کیاگیاہے۔
طریقہ کار کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
کالجز سیکشن میں 22 ارب رکھے گئے ہیں۔
میرے حلقے کے کالج کیلئے ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔
تمام محکموں میں ہمارے ساتھ انصافی ہورہی ہے۔
سرکاری تعلیمی ادارے تباہ ہوچکے ہیں۔
جن اساتذہ کی تقرری ہوئی ہے اس میں بھی باقاعدگی ہوئی ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ بجٹ میں تمام ایم پی ایز کی تجاویز کو شامل کیاگیاہے۔
اس بار متوازن بجٹ پیش کیاگیا ہے۔
محکمہ تعلیم میں بہتری لانے کی کوشش کی ہے۔
تعلیمی شعبے میں اصلاحات لائی جارہی ہیں۔
ہائیر ایجوکیشن بڑا سیکٹر ہے اس کے لئے جامعات کی گرانٹ کو 8 ارب کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 3 ہزار سکول کھل چکے ہیں۔
ہمیں اے آئی کی جانب جانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبوں پر عملدآمد کرنے والے محکموں کو بھی توجہ سے کام کرنے کی ضروت ہے۔
صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں تمام شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔
سول سیکرٹریٹ کو سولر سسٹم پر منتقل کیاجائے۔
ڈھاڈر سے کوئٹہ تک شاہراہ ڈبل کیاجائے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی وجہ سے خطے میں بدامنی پھیلے گی۔
اس بدامنی میں امریکہ ملوث ہے۔
خطے کے حالات ٹھیک نہ ہوئے تو اثرات یہاں پڑیں گے۔
جمعیت علماء اسلام کی رکن شاہدہ رئوف نے کہا کہ ایران پر حملے کی ایوان کی طرف سے مذمت ہونی چاہیے۔
ہم نے جلدی میں ٹرمپ کو نوبل ایوارڈ کیلئے نامزد کیاہے ایسے واپس لیناچاہیے۔
معاشی ترقی امن وامان سے وابستہ ہے۔
صوبے امن وامان کی صورتحال خراب ہے۔
پورا بجٹ اگر فورسز کو دے دیاجائے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا بشرط امن قائم ہو۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی رٹ کیوں نہیں دیکھائی دیتی۔
اتنی رقم جوامن کی بحالی کے فورسز کے دے رہے ہیں اس کے بدلے میں کیامل رہاہے۔
اے سی تمپ اور گزشتہ سال سے 6 نوجوان شعبان سے لاپتہ ہیں۔
اس کے اہل خانہ پر کیا گزر رہی ہے۔
اگر حکومت کی رٹ قائم ہے تو انہیں بازیاب کیوں نہیں کرایاجارہاہے۔
امن وامان کے لئے جزو وقتی اور کل وقتی حل کی طرف جانا ہوگا۔
پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ زرین مگسی نے کہا کہ رواں سال بجٹ کے تمام فنڈز استعمال ہوئے ہیں۔
کرائمز کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔
گڈگورننس کااہم نکتہ ڈیٹا کا ہوتاہے۔
جسکی بنیاد پر بروقت فیصلے کئے جاسکتے ہیں۔
معیاری تعلیم پر فوکس کرناہوگا تاکہ بچے ہر سطح پر مقابلہ کرسکیں۔
انسانی ترقی پر توجہ دینی ہوگی جسکو اکثرنظرانداز کیاگیاہے۔
ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے کہا کہ جاری اسیکمات کی ایلوکیشن مکمل کرکے دی جائیں۔
بجٹ میں خواتین کے فنڈز کیوں کم دیئے گئے؟
تمام خواتین ممبرز کو مساوی فنڈز دیئے جائیں۔
ہماری اسیکمات کو بھی اولیت دی جائے۔
جمعیت علماء اسلام کے رکن سید ظفر آغا نے کہا کہ بلوچستان میں 2025-26 کابجٹ پیش ہوا جس میں بہت سی خامیاں ہیں۔
نامکمل اسیکمات کو مکمل کیاجائے۔
صحت اور تعلیم اہم ہیں۔
بہت سے سکول بند پڑے ہیں ان پر مزید توجہ دی جائے۔
بجٹ میں تعلیم کے شعبے کیلئے زیادہ رقم رکھی جانی چاہیے تھی۔
شٹل ٹرین کچلاک کی بجائے یارو سے کوئٹہ تک چلائی جائے۔
چیک ڈیم بناکر پانی ذخیرہ کیاجاسکتاہے۔
نیشنل پارٹی کی رکن کلثوم نیاز نے کہا کہ ایوان میں بیٹھے تنگ نظرافراد پر افسوس ہے۔
خواتین کو برابر کا حق نہیں دیاجارہا۔
ایوان میں ہم خواتین کو بات کرنے کاحق نہیں دیاجاتا۔
بجٹ تمام ممبران کی مشاورت سے بنایاجاتاہے مگر وہ باہر سے چپھوا کر لایاگیا۔
یہ ایوان اپنا وقار کھو چکاہے۔
بلوچستان معیاری تعلیم کے لئے ترس رہاہے۔
پارلیمانی سیکرٹری مجید بادینی نے کہا کہ زمیندار تباہ ہوچکے ہیں ان کو ریلیف دیاجائے۔
جمعیت علماء اسلام کے رکن زابد علی ریکی نے کہا کہ ماضی کے ہر بجٹ میں واشک کو نظر انداز کیاگیا، مگر نئے بجٹ میں واشک کو اولیت دی گئی ہے۔
بلوچستان کے ہر ضلع میں ترقی چاہتے ہیں۔
وزیراعلیٰ کی مشیر مینہ مجید نے کہا کہ اس بار عوام دوست بجٹ پیش کیاگیا ہے۔
بجٹ میں عوام دوست منصوبے شامل ہیں۔
بی این پی عوامی کے رکن میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ ڈاکٹر ماہرنگ سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہاکیا جائے اس سے اچھا مسیج جائے گا۔
صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی نے کہا کہ بجٹ سازی ٹیکس ادا کرنے والوں کا پیسہ ہے حکومت اسے استعمال کرتی ہے۔
حکومت ٹیکس کے پیسے عوامی مفاد کے لئے منصوبہ بندی کرتی ہے۔
نمائندہ پی ایس ڈی پی کو اصل بجٹ سمجھتا ہے۔
اصل بجٹ میں تمام محکموں کو چلایا جاتا ہے۔
حکومت تین چار طریقوں سے بجٹ استعمال کرتی ہے۔
ہر چیز کو مدنظر رکھ کر وزیراعلیٰ نے بجٹ بنانے کے لئے ایک کمیٹی بنائی تھی۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ کہاں کہاں کس چیز کی ضرورت ہے۔
بجٹ تمام محکموں کی مشاورت سے بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کہیں اور نہیں اسمبلی میں بنتا ہے۔
بلوچستان میں 2 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔
بلوچستان کے لوگوں کو پانچ چھ سو میگا واٹ بجلی ملتی ہے۔
ہم سولر انرجی کی طرف جارہے ہیں۔
سی پیک 98 فیصد لون ہے۔
ایک معاہدے کے تحت کام چل رہا ہے۔
سی پیک گرانٹ صرف گوادر ائیر پورٹ اور گوادر ہسپتال کے لئے آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے یونیورسٹیز کے 8 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کی جس کا مقصد یہ تھا کہ ہائیر ایجوکیشن پر زیادہ خرچ کیا جائے۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ چاغی میں انڈسٹری بننے جارہی ہے۔
واشک میں بننے والے ڈیم کا پانی ریکوڈک کو بیچا جائے گا۔
بعدازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔