|

وقتِ اشاعت :   August 1 – 2025

اسلام آباد/ کوئٹہ :سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے ان کی تمام تجاویز کو آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ کا حصہ بنایا گیاہے، آل پارٹیز کانفرنس میں آئین کی کتاب اس لیے ساتھ لیکر آیا تھا کہ کیا قومی وحدت بلوچستان پر بھی آئین کا اطلاق ہوتا ہے؟یہ بات انہوں نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی،

نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہاکہ آل پارٹیز کانفرنس میں آئین کی کتاب وہ اس لیے اپنے ساتھ لیکر آئے ہیں کہ جس قومی وحدت میں وہ رہتے ہیں آیا وہاں پر بھی آئین کا اطلاق ہوتا ہے؟ انہوں نے کہاکہ آل پارٹیز کانفرنس میں بلوچستان کا نقطہ نظر اہل پاکستان کے سامنے رکھا

اس وقت بلوچستان میں بحرانی صورتحال ہے بحیثیت ایک سیاسی کارکن میری ذمہ داری ہے کہ اپنے صوبے کی آواز اٹھاں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے حوالے سے ان کی تمام تجاویز کو آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ کا حصہ بنایا گیاہے، جس پر سیاسی جماعتوں کا مشکور ہوں، انہوں نے کہاکہ وہ پارلیمنٹ کا حصہ نہیں ہیں اس لیے جعلی قانون سازیوں کا راستہ روکنے کیلئے انہوں نے عدالت سے رجوع کیا ہے تاکہ تاریخ میں یہ بات لکھی جائے کہ کون اپنی سرزمین اور اس کے لوگوں کیساتھ کھڑا تھا اور کون بلوچستان کے لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کیلئے اسمبلی میں بیٹھ کر جعلی قانون سازی کررہے تھے۔