کوئٹہ: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ میں فتنہ الہندوستان کے کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کا نیٹ ورک پکڑ لیا
مبینہ خودکش بمبار سہولت کار سمیت تین دہشت گرد گرفتار خودکش جیکٹ اہم دستاویزات دھماکہ خیز مواد برآمد کرلیا۔
زرائع کے مطابق خفیہ اطلاع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ میں خفیہ معلومات پر ٹارگٹڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے کالعدم تنظیم کے مبینہ خودکش بمبار کو گرفتارکر لیا
گرفتار مبینہ بمبار کی نشاندہی پر فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے افنان ٹاؤن سے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کو گرفتارکر لیا
جو پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہے اور فتنہ الہندوستان کے اس تمام نیٹ ورک کو یہی چلا رہا تھا
گرفتار مبینہ بمبار کو بھی سہولت فراہم کر رہا تھا پروفیسر کی گرفتاری پر مزید ایک بمبار گرفتار ہوا
زرائع کے مطابق گرفتار فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے دوران تحقیقات اہم انکشافات کئے اور وہ چودہ اگست کو بہت بڑی کارروائی کرنے والے تھے جس میں بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہونے کا اندیشہ تھا
زرائع نے مزید بتایا کہ گرفتار پروفیسر نے اعتراف کیا کہ 9 نومبر 2024ء کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش بمبار کی سہولت کاری اس نے کی تھی اور وہاں پہنچایا تھا
جس میں بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوگئی تھیں تحقیقات جاری ہیں مزید انکشافات و گرفتاریاں متوقع ہے