|

وقتِ اشاعت :   September 3 – 2025

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے بعد ایک بم دھماکے میں حکام کے مطابق کم از کم 12 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوگئے ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما غلام نبی مری نے بتایا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ کے علاقے سریاب میں واقع شاہوانی سٹیڈیم سے کچھ فاصلے پر اس مقام پر ہوا جہاں گاڑیوں کو پارک کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دھماکہ جلسے کے اختتام کے اندازاً دس سے پندرہ منٹ بعد ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے وقت جلسہ گاہ سے نکلنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں سے گزر رہی تھی۔ انھوں نے خودکش حملہ آوروں کا دعویٰ کیا جس کی تاحال سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے مطابق دھماکے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔

دھماکے میں تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین محفوظ رہے تاہم بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق رکن بلوچستان اسمبلی میر احمد نواز بلوچ زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر صوبائی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ ’انسانیت دشمنوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔‘

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا ’شرپسند عناصر معصوم شہریوں کے خون سے کھیل رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔‘

 

‘دھماکہ اس وقت ہوا جب ہم جلسہ گاہ سے نکل رہے تھے‘

یہ جلسہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے بانی سردار عطا اللہ مینگل کی تیسری برسی کی مناسبت سے منعقد کیا گیا تھا جس سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے رہنما میر کبیر احمد محمد شئی، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی کے علاوہ دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ یہ جلسہ ان کے والد سردار عطا اللہ مینگل کی برسی کے حوالے سے منعقد کیا گیا تھا جس میں محمود خان اچکزئی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما بھی شریک تھے۔

ان کے مطابق جلسے کے بعد وہ جیسے ہی گیٹ سے باہر نکلے تو پیچھے دھماکہ ہو گیا۔

انھوں نے بتایا پچھلے دنوں لک پاس پر دھرنے کے وقت بھی ایک خودکش حملہ ہوا تھا اور ان سے پولیس کے سکیورٹی گارڈ واپس لے لیے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جلسے کے لیے پولیس اور واک تھرو گیٹ دیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود یہ حملہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ کسی کی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔