اسرائیل نے غزہ پر بمباری روکنے کے امریکی صدر ٹرمپ کے مطالبے کے بعد مزید 7 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔
امریکی صدر کے بمباری روکنے کے بعد سے اب تک مزید 7 فلسطینی اسرائیلی توپ خانے کی گولا باری اور دیگر حملوں میں جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا جواب پیش کر دیا ہے، جس میں گروپ نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ غزہ کی انتظامیہ کو فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے حوالے کر دے گا اور تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے گا۔
فلسطینی گروپ کے جواب میں اس کے ہتھیار ڈالنے (غیر مسلح ہونے) کے اہم مسئلے کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن اس نے کہا کہ وہ ثالثوں کے ذریعے فوری طور پر امن مذاکرات میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔
حماس کے بیان کے بعد ایک ویڈیو خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حماس دائمی امن کے لیے تیار ہے، اور انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر غزہ پر بمباری بند کرے۔
تاہم، اسرائیل نے اپنی مہلک بمباری جاری رکھی، جس میں اب تک کم از کم سات فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی غزہ پر مسلط کردہ جنگ میں اب تک کم از کم 66 ہزار 288 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 69 ہزار 165 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں اسرائیل میں ایک ہزار 139 افراد مارے گئے تھے اور تقریباً 200 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
الجزیرہ کو زمینی ذرائع نے اطلاع دی کہ غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھوک اور غذائی قلت کے سبب مزید 2 بچوں کی اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔
ان اموات کے بعد اسرائیل کی جانب سے پیدا کی گئی قحط کی وجہ سے غزہ میں اموات کی کل تعداد 459 ہو گئی ہے، جن میں 154 بچے شامل ہیں۔