|

وقتِ اشاعت :   October 14 – 2025

لاہور میں سعد رضوی سمیت 500 کارکنوں کے خلاف ڈکیتی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

تشدد احتجاج کے دوران 3 کروڑ روپے کی سپیڈوبس چھیننے کے الزام میں سعد رضوی سمیت 500 کارکنوں کے خلاف ڈکیتی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

لاہور میں سوشل میڈیا پر انتشار پھیلانے والے افراد کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ 87 واٹس ایپ اور فیس بک اکاؤنٹس ٹریس کرلیے گئے۔ پرتشدد کارروائیوں پر مختلف تھانوں میں 25 مقدمات درج کرلیے گئے۔ مقدمات میں دہشت گردی ، اقوام قتل ، ڈکیتی سمیت سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔

پولیس ذرائع کےمطابق گرفتاریوں کے لیے کریک ڈاؤن شیخوپورہ ، گوجرانوالہ ، مریدکے ، قصور اور کامونکی میں کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی اور بے بنیاد خبریں شئیر کرنے اور انتشار پھیلانے والے 39 افراد کو گرفتار کیا گیا، 200 سے زاید افراد کی گرفتاری کے لیے کریک ڈاؤن کا اگلا مرحلہ جلد شروع کیا جائے گا۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت سرکاری اورعوام کی املاک کونقصان پہنچانے کے مقدمے میں پولیس مذہبی جماعت کے گرفتار17کارکنوں کو عدالت پیش کردیا۔ عدالت نے ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

 

 راولپنڈی کے تھانہ روات میں مقدمہ انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا جس میں سعدرضوی اور قاری بلال سمیت 21 رہنماؤں اور کارکنوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ 

مقدمہ پولیس سب انسپکٹر نجیب اللہ کی مدعیت میں درج کیا گیا جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے جلسے جلوسوں پرپابندی عائد کرکے دفعہ 144 نافذ کررکھی تھی تاہم  ٹی ایل پی کارکنان نے شاہراہ بلاک کی اور پولیس سے مزاحمت کرکے ایمونیشن چھیننےکی کوشش کی۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان چک بیلی روڈ جھٹہ ہتھیال میں سڑک بلاک کرکے ٹائر جلا کر احتجاج کر رہے تھے، ملزمان نے ٹی ایل پی کے امیر سعد حسین رضوی کی کال پر روڈ بلاک کی تھی، قاری بلال21 عہدیدران وکارکنان کےہمراہ اسحلہ، پیٹرول بموں،کیلوں والےڈنڈوں سے لیس تھے۔ 

ایف آئی آر کے مطابق  ملزمان نے پولیس کو دیکھتے ہی سیدھی فائرنگ شروع کر دی، ملزمان کی فائرنگ سے کانسٹیبل عدنان زخمی ہوئے، قاری دانش وغیرہ نے کانسٹیبل نذیر کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا،ملزمان نے پولیس سے آنسو گیس کے شیل چھین لیے اور وردی پھاڑ دی، ملزمان سے 10کیلوں والے ڈنڈے اور 4 پیٹرول بم قبضے میں لیے، ملزمان سےٹی ایل پی کےجھنڈے، پتھر اور چلائی گئی گولیوں کے خول قبضے میں لیے۔