کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ناکامی دہشتگردوں کا مقدر بن چکی ہے رواں سال میں اب تک 500خطرناک دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں ،
بلوچستان میں انسداد ہشتگردی کے لیے تمام ادار ے ملکر کام کریں گے ، وفاق نے بلوچستان پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے 10ارب روپے دینے کا وعدہ کیا ہے،
وقت ثابت کریگا کہ پولیس اور لیویز کا انضمام درست فیصلہ ہے ،
پولیس کو غیر سیاسی بنانے اور میرٹ کا فروغ دینے کے لیے واضح ہدایت کردی ہے ، ٹوئٹر سردار اور ان جیسے لوگ جو نام نہاد دہشتگردی کو محدود سمجھتے ہیں یہ دہشتگردی ان کے گھر تک بھی آئیگی،
بلوچستان میں پاور شیئر نگ کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی قیادت نے اب تک مجھے کوئی فارمولہ نہیں بتایا، جو لوگ بیانات دے رہے ہیں ان کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا،یہ بات انہوں نے جمعرات کو سی پی او کوئٹہ میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کے بعد آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں بی ایریا کو اے ایریا میں تبدیل کیا جارہا ہے یہ ایک معروف فیصلہ نہیں ہے البتہ وقت ثابت کریگاکہ یہ درست فیصلہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ لیویز کو ایک بار پہلے بھی انضمام کیا گیا جس کے بعد نصیر آباد، لسبیلہ میں پولیس کا نظام ہی قائم رہا اس سے وہاں امن وامان کی صورتحال بہتر رہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی ایک نظام ہو ۔
انہوں نے کہا کہ بھاگ میں دہشتگردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہونے والے پولیس کے ایس ایچ او کے لیے شجاعت اور بہادری کے اعلیٰ اعزازات کی سفارش کی ہے جبکہ زخمی پولیس اہلکار کو بہتر علاج کے لیے سکھر اور اب کراچی منتقل کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بلوچستان میں پولیس کی استعداد کار ، انٹیلی جنس ، پولسنگ، اینٹی رائیٹس فورس کے لیے 10ار ب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے پولیس کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت، نائٹ ویژن ، ڈرون سمیت دیگر سہولیات مہیا کی جائیں جبکہ ایس او ڈبلیو، سی ٹی ڈی ،آر آر جی سمیت دیگر اداروں کے لوگوں پر مشتمل انسداد ہشتگردی کے لیے ایک یونٹ بنا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شہداء کے لیے پیکج کو بہتر بنایا جارہا ہے
اب شہداء کے بچوں کو حکومت 16سال تک مفت تعلیم فراہم کریگی ، صوبے میں اے ایس آئی کی آسامیوں کو کابینہ سے منظوری لیکر پبلک سروس کمیشن کے بجائے براہ راست میرٹ پر پر کیا جائے گا تاکہ افسران کی کمی کو پورا کیا جاسکے اس عمل کو پی ایم اے کی طرز پر بنانے کے لیے آئی جی پولیس کوتجاویز مرتب کرنے کے لیے ہدایت کردی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کو مکمل طور پر غیر سیاسی کیا جائے گا پولیس میں کوئی سیاسی اثر رسوخ نہیں ہوگا آئی جی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ پولیس سے کرپشن کا مکمل خاتمہ کریں ساتھ ہی پولیس کو عوام کو امن فراہم کرنے کا ٹاسک دیا ہے کوئٹہ میں منشیات کے خلاف سخت ترین آپریشن کرنے جارہے ہیں ہم نوجوانوں کو نشے کی لت سے بچائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومتی فیصلوں کے نتائج آنے میں وقت ضرور لگے گا میں اس سے دیر پا امن قائم ہوگا بلوچستان میں لیویز فورسز نے قربانیاں دی ہیں لیویز کے اہلکاروں کا مورال بلند کرنے کے لیے انہیں پولیس میں شامل کیا جارہا ہے 50سال سے اوپر کے لیویز اہلکاروں کے لیے گولڈن ہینڈ شیک پالیسی لانے کی بھی تجویز زیر غور ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کا مورال تب بلند ہوتا ہے جب ان کے افسران سامنے سے قیادت کرتے ہیں اب آئی جی سے لیکر ایس ایچ او تک فرنٹ سے لیڈکریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز گرے ایریا میں کام کر رہی ہیں ماڈل ٹائون دھماکے میں آئی جی ایف سی کے اہلخانہ بھی زخمی ہوئے دھماکے سے متاثرہ دیوار بنانے کا کام مکمل ہونے کے بعد سڑک کو کھول دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی بڑھنے کے پیچھے متعد د وجوہات اور عوامل کار فرما ہیں 2018سے 2023تک جب دہشتگردوں کی آبادکاری ہوئی ا س سے انہیں دوبارہ پنپنے کا موقع ملا، امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد دہشتگردوں کو جدید اسلحہ ملا ہے کیا اسی کوئٹہ شہر میں 2009میں بی ایل اے نے جلسہ نہیں کیا تھا ؟
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد 5منٹ کے لیے ٹک ٹاک بنانے کے لیے سڑکوں پر آتے اور پھر فرار ہوجاتے ہیں بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں جن میں 4سے 5دہشتگر ہر روز ہلاک ہورہے ہیں اس سال 500خطرناک دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے یہ تصور تھا کہ یہ جنگ پاکستا ن کی افواج اور نام نہاد دہشتگردوں کے درمیان ہے ہم نے یہ کہاکہ ریاست ہماری بھی ہے ہم اس جنگ کو لڑیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان بفر زون ہے جہاں مسلسل حالات خراب ہیں لیکن دہشتگرد بلوچ قوم کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیل رہے ہیں میں وثوق سے کہتا ہوں کہ ناکامی دہشتگردوں کا مقدر ہے انہیں تشدد سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بی ایل اے اور بشیر زیب نے مخبری کے نام پر سیکورٹی فورسز کی کارائیوں سے زیادہ بلوچ مارے ہیں جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ محدود رہے گی تو وہ لوگ اور ٹوئٹر سردار سن لیں کہ یہ دہشتگردی ان کے گھر تک بھی آئیگی تشدد کے خلاف پورے معاشرے کو کھڑا ہونا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ سبی میں کچھ روز قبل دہشتگردوں کے ہتھیار ڈالے ہیں جو لوگ ریاست کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہیں ۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 16ہزار استاتذہ بھرتی ،3200سکول فعال کیے ہیں 14اگست کے بعد صوبے میں کوئی بھی اسکول بند نہیں ہوگا جو نوجوان ابتر حکمرانی کی وجہ سے متنفر ہوئے ہیں ہم اپنی گورننس بہتر بنا کر اپنے قریب کریں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں پاور شیئر نگ فارمولے کی باتیں مسلم لیگ(ن) کے صوبائی رہنمائوں سے سن رہا ہوں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے مجھے ایسے کسی معاہدے کے بارے میں نہیں بتایا یہ اہم معاملہ نہیں ہے ہمیں مزید چیلنجز درپیش ہیں اقتدار آنی جانی چیز ہے میں آخر ی رن تک کام کرتا رہنوگا اور مایوس نہیں ہونگا ۔ انہوں نے کاہ کہ میرے لیے تمام لوگ قابل احترام ہیں سب کی اپنی سیاست اور بات کرنے کا حق حاصل ہے لیکن میں کسی کے بیانات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا جس نے جو سوچنا ہے
سوچتا رہے ۔
کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کروانے پر سوچ بچار کر رہی ہے میں بلدیاتی نظام کا حامی ہوں مگر ہم ایک مخلوط حکومت میں ہیں ایک رائے یہ بھی ہے کہ کوئٹہ میں اس وقت امن و امان کی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ مکمل سیکورٹی میں انتخابات کروائے جائیں لہذا سیکورٹی صورتحال بہتر بنا کر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہو۔ انہوں نے کہا حکومت اس حوالے سے مشاورت سے فیصلہ کریگی ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ چلتن میں آپریشن کے دوران سیاحوں کے زخمی ہونے کے معاملے کا مجھے علم نہیں ہے اس پر معلومات حاصل کرونگا ۔